🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
39. باب : صيام العشر
باب: عشرہ ذی الحجہ کا روزہ۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1729
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ:" مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَامَ الْعَشْرَ قَطُّ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان دس دنوں میں کبھی روزے رکھتے ہوئے نہیں دیکھا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1729]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 16001)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الاعتکاف 4 (1176)، سنن ابی داود/الصوم 62 (2439)، سنن الترمذی/الصوم 51 (756)، مسند احمد (6/ 42، 124، 190) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: اس سے مراد ذی الحجہ کے ابتدائی نو دن ہیں، یہ حدیث ان روایات میں سے ہے جن کی تاویل کی جاتی ہے کیونکہ ان نو دنوں میں روزہ رکھنا مکروہ نہیں بلکہ مستحب ہے، خاص کر عرفہ کے دن کے روزے کی بڑی فضیلت آئی ہے، ہو سکتا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی بیماری یا سفر کی وجہ سے کبھی روزہ نہ رکھا ہو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد اللهصحابي
👤←👥الأسود بن يزيد النخعي، أبو عبد الرحمن، أبو عمرو
Newالأسود بن يزيد النخعي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
مخضرم
👤←👥إبراهيم النخعي، أبو عمران
Newإبراهيم النخعي ← الأسود بن يزيد النخعي
ثقة
👤←👥منصور بن المعتمر السلمي، أبو عتاب
Newمنصور بن المعتمر السلمي ← إبراهيم النخعي
ثقة ثبت
👤←👥سلام بن سليم الحنفي، أبو الأحوص
Newسلام بن سليم الحنفي ← منصور بن المعتمر السلمي
ثقة متقن
👤←👥هناد بن السري التميمي، أبو السري
Newهناد بن السري التميمي ← سلام بن سليم الحنفي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح مسلم
2789
ما رأيت رسول الله صائما في العشر قط
سنن أبي داود
2439
ما رأيت رسول الله صائما العشر قط
سنن ابن ماجه
1729
ما رأيت رسول الله صام العشر قط
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 1729 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1729
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
ممکن ہے ام المو منین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اطلاع نہ ہو ئی ہو کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس دن روزے سے ہیں تا ہم ام المو منین رضی اللہ تعالیٰ عنہ خود عرفہ کے دن کا رزہ رکھتی تھیں اس سے معلو م ہو تا ہے کہ انھیں دوسرے صحا بہ یا صحا بیا ت رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اس روزے کی فضیلت کا علم ہو گیا تھا
(2)
اس حدیث کا یہ مطلب بھی ہو سکتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان ایام میں مسلسل روزے نہیں رکھتے تھے بلکہ دنو ں کا روزہ رکھ لیتے تھے واللہ اعلم۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1729]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2439
عشرہ ذی الحجہ میں روزہ نہ رکھنے کا بیان۔
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عشرہ ذی الحجہ ۱؎ میں کبھی روزے رکھتے ہوئے نہیں دیکھا۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2439]
فوائد ومسائل:
عشرہ ذی الحجہ سے مراد ذوالحجہ کے پہلے نو دن ہیں۔
ان دنوں میں روزہ رکھنا بہت ہی مستحب ہے، جیسے کہ اوپر کی احادیث میں آیا ہے اور حدیث:2437 میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل مذکور ہوا ہے اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے اس بیان کا مفہوم یوں ہے کہ یا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم بعض عوارض کی بنا پر روزے نہیں رکھ سکے یا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو اتفاق نہیں ہوا کہ انہیں روزے سے دیکھیں۔

[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2439]

Sunan Ibn Majah Hadith 1729 in Urdu