سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
46. بَابٌ في الصَّائِمِ إِذَا أُكِلَ عِنْدَهُ
باب: روزہ دار کے سامنے کھانا کھایا جائے تو اس کے حکم کا بیان۔
حدیث نمبر: 1748
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَسَهْلٌ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ زَيْدٍ الْأَنْصَارِيِّ ، عَنْ امْرَأَةٍ يُقَالُ لَهَا: لَيْلَى ، عَنْ أُمِّ عُمَارَةَ ، قَالَتْ: أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَرَّبْنَا إِلَيْهِ طَعَامًا، فَكَانَ بَعْضُ مَنْ عِنْدَهُ صَائِمًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الصَّائِمُ إِذَا أُكِلَ عِنْدَهُ الطَّعَامُ صَلَّتْ عَلَيْهِ الْمَلَائِكَةُ".
ام عمارہ بنت کعب رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے، تو ہم نے آپ کو کھانا پیش کیا، آپ کے ساتھیوں میں سے کچھ روزے سے تھے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”روزہ دار کے سامنے جب کھانا کھایا جائے (اور وہ صبر کرے) تو فرشتے اس کے لیے دعا کرتے ہیں“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1748]
حضرت ام عمارہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ہاں تشریف لائے تو ہم نے آپ کی خدمت میں کھانا پیش کیا، آپ کے پاس موجود افراد میں سے کوئی صاحب روزے سے تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”روزے دار کے پاس جب کھانا کھایا جاتا ہے تو فرشتے اس کے حق میں دعا کرتے ہیں۔“” [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1748]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الصوم 67 (784، 785)، (تحفة الأشراف: 18335)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/365، 439)، سنن الدارمی/الصوم 32 (1779) (ضعیف)» (لیلیٰ مولاة ام عمارة لین الحدیث ہیں، اور ان کا کوئی متابع نہیں ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
حدیث نمبر: 1749
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِبِلَالٍ:" الْغَدَاءُ يَا بِلَالُ"، فَقَالَ: إِنِّي صَائِمٌ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَأْكُلُ أَرْزَاقَنَا، وَفَضْلُ رِزْقِ بِلَالٍ فِي الْجَنَّةِ، أَشَعَرْتَ يَا بِلَالُ أَنَّ الصَّائِمَ تُسَبِّحُ عِظَامُهُ، وَتَسْتَغْفِرُ لَهُ الْمَلَائِكَةُ مَا أُكِلَ عِنْدَهُ".
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”اے بلال! دوپہر کا کھانا حاضر ہے، انہوں نے کہا: میں روزے سے ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہم تو اپنی روزی کھا رہے ہیں، اور بلال کی بچی ہوئی روزی جنت میں ہے، تم کو معلوم ہے، اے بلال! روزہ دار کی ہڈیاں تسبیح بیان کرتی ہیں، اور فرشتے اس کے لیے استغفار کرتے ہیں، جب تک اس کے سامنے کھانا کھایا جاتا ہے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1749]
حضرت سلیمان بن بریدہ اپنے والد حضرت بریدہ بن حصیب اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”بلال! کھانا کھا لو۔“ انہوں نے کہا: میرا تو روزہ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہم لوگ اپنا رزق کھا رہے ہیں اور بلال (رضی اللہ عنہ) کا بچا ہوا رزق جنت میں (محفوظ) ہے۔ بلال! کیا تمہیں معلوم ہے کہ روزے دار کے پاس جب تک کھانا کھایا جاتا رہے اس کی ہڈیاں تسبیح پڑھتی رہتی ہیں اور فرشتے اس کے لیے دعائے مغفرت کرتے رہتے ہیں؟“ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1749]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 1944، ومصباح الزجاجة: 629) (موضوع)» (محمد بن عبد الرحمن کی ناقدین نے تکذیب کی ہے، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: 1332)
قال الشيخ الألباني: موضوع
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده موضوع
محمد بن عبد الرحمٰن القشيري: كذبوه (تقريب: 6090) يعني أنه كذاب عند المحدثين
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 442
إسناده موضوع
محمد بن عبد الرحمٰن القشيري: كذبوه (تقريب: 6090) يعني أنه كذاب عند المحدثين
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 442