🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
46. باب في الصائم إذا أكل عنده
باب: روزہ دار کے سامنے کھانا کھایا جائے تو اس کے حکم کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1749
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِبِلَالٍ:" الْغَدَاءُ يَا بِلَالُ"، فَقَالَ: إِنِّي صَائِمٌ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَأْكُلُ أَرْزَاقَنَا، وَفَضْلُ رِزْقِ بِلَالٍ فِي الْجَنَّةِ، أَشَعَرْتَ يَا بِلَالُ أَنَّ الصَّائِمَ تُسَبِّحُ عِظَامُهُ، وَتَسْتَغْفِرُ لَهُ الْمَلَائِكَةُ مَا أُكِلَ عِنْدَهُ".
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال رضی اللہ عنہ سے فرمایا: اے بلال! دوپہر کا کھانا حاضر ہے، انہوں نے کہا: میں روزے سے ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہم تو اپنی روزی کھا رہے ہیں، اور بلال کی بچی ہوئی روزی جنت میں ہے، تم کو معلوم ہے، اے بلال! روزہ دار کی ہڈیاں تسبیح بیان کرتی ہیں، اور فرشتے اس کے لیے استغفار کرتے ہیں، جب تک اس کے سامنے کھانا کھایا جاتا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1749]
حضرت سلیمان بن بریدہ اپنے والد حضرت بریدہ بن حصیب اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے فرمایا: بلال! کھانا کھا لو۔ انہوں نے کہا: میرا تو روزہ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہم لوگ اپنا رزق کھا رہے ہیں اور بلال (رضی اللہ عنہ) کا بچا ہوا رزق جنت میں (محفوظ) ہے۔ بلال! کیا تمہیں معلوم ہے کہ روزے دار کے پاس جب تک کھانا کھایا جاتا رہے اس کی ہڈیاں تسبیح پڑھتی رہتی ہیں اور فرشتے اس کے لیے دعائے مغفرت کرتے رہتے ہیں؟ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1749]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 1944، ومصباح الزجاجة: 629) (موضوع)» ‏‏‏‏ (محمد بن عبد الرحمن کی ناقدین نے تکذیب کی ہے، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: 1332)
قال الشيخ الألباني: موضوع
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده موضوع
محمد بن عبد الرحمٰن القشيري: كذبوه (تقريب: 6090) يعني أنه كذاب عند المحدثين
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 442

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥بريدة بن الحصيب الأسلمي، أبو سهل، أبو ساسان، أبو عبد الله، أبو الحصيبصحابي
👤←👥سليمان بن بريدة الأسلمي
Newسليمان بن بريدة الأسلمي ← بريدة بن الحصيب الأسلمي
ثقة
👤←👥محمد بن عبد الرحمن القشيري
Newمحمد بن عبد الرحمن القشيري ← سليمان بن بريدة الأسلمي
كذاب
👤←👥بقية بن الوليد الكلاعي، أبو يحمد
Newبقية بن الوليد الكلاعي ← محمد بن عبد الرحمن القشيري
صدوق كثير التدليس عن الضعفاء
👤←👥محمد بن المصفى القرشي، أبو عبد الله
Newمحمد بن المصفى القرشي ← بقية بن الوليد الكلاعي
صدوق له أوهام
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن ابن ماجه
1749
نأكل أرزاقنا وفضل رزق بلال في الجنة أشعرت يا بلال أن الصائم تسبح عظامه وتستغفر له الملائكة ما أكل عنده
Sunan Ibn Majah Hadith 1749 in Urdu