یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
46. باب في الصائم إذا أكل عنده
باب: روزہ دار کے سامنے کھانا کھایا جائے تو اس کے حکم کا بیان۔
حدیث نمبر: 1749
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِبِلَالٍ:" الْغَدَاءُ يَا بِلَالُ"، فَقَالَ: إِنِّي صَائِمٌ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَأْكُلُ أَرْزَاقَنَا، وَفَضْلُ رِزْقِ بِلَالٍ فِي الْجَنَّةِ، أَشَعَرْتَ يَا بِلَالُ أَنَّ الصَّائِمَ تُسَبِّحُ عِظَامُهُ، وَتَسْتَغْفِرُ لَهُ الْمَلَائِكَةُ مَا أُكِلَ عِنْدَهُ".
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”اے بلال! دوپہر کا کھانا حاضر ہے، انہوں نے کہا: میں روزے سے ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہم تو اپنی روزی کھا رہے ہیں، اور بلال کی بچی ہوئی روزی جنت میں ہے، تم کو معلوم ہے، اے بلال! روزہ دار کی ہڈیاں تسبیح بیان کرتی ہیں، اور فرشتے اس کے لیے استغفار کرتے ہیں، جب تک اس کے سامنے کھانا کھایا جاتا ہے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1749]
حضرت سلیمان بن بریدہ اپنے والد حضرت بریدہ بن حصیب اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”بلال! کھانا کھا لو۔“ انہوں نے کہا: میرا تو روزہ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہم لوگ اپنا رزق کھا رہے ہیں اور بلال (رضی اللہ عنہ) کا بچا ہوا رزق جنت میں (محفوظ) ہے۔ بلال! کیا تمہیں معلوم ہے کہ روزے دار کے پاس جب تک کھانا کھایا جاتا رہے اس کی ہڈیاں تسبیح پڑھتی رہتی ہیں اور فرشتے اس کے لیے دعائے مغفرت کرتے رہتے ہیں؟“ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1749]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 1944، ومصباح الزجاجة: 629) (موضوع)» (محمد بن عبد الرحمن کی ناقدین نے تکذیب کی ہے، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: 1332)
قال الشيخ الألباني: موضوع
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده موضوع
محمد بن عبد الرحمٰن القشيري: كذبوه (تقريب: 6090) يعني أنه كذاب عند المحدثين
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 442
إسناده موضوع
محمد بن عبد الرحمٰن القشيري: كذبوه (تقريب: 6090) يعني أنه كذاب عند المحدثين
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 442
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن ابن ماجه |
1749
| نأكل أرزاقنا وفضل رزق بلال في الجنة أشعرت يا بلال أن الصائم تسبح عظامه وتستغفر له الملائكة ما أكل عنده |
Sunan Ibn Majah Hadith 1749 in Urdu
سليمان بن بريدة الأسلمي ← بريدة بن الحصيب الأسلمي