سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
6. بَابُ: مَا تَجِبُ فِيهِ الزَّكَاةُ مِنَ الأَمْوَالِ
باب: جن چیزوں میں زکاۃ واجب ہے ان کا بیان۔
حدیث نمبر: 1793
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنِي الْوَلِيدُ بْنُ كَثِيرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عُمَارَةَ ، وَعَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" لَا صَدَقَةَ فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ أَوْسَاقٍ مِنَ التَّمْرِ، وَلَا فِيمَا دُونَ خَمْسِ أَوَاقٍ، وَلَا فِيمَا دُونَ خَمْسٍ مِنَ الْإِبِلِ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”پانچ وسق سے کم کھجور میں زکاۃ نہیں ہے، اور پانچ اوقیہ سے کم چاندی میں زکاۃ نہیں ہے، اور پانچ اونٹوں سے کم میں زکاۃ نہیں ہے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزكاة/حدیث: 1793]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الزکاة 4 (1405)، 32 (1447)، 42 (1447)، 56 (1484)، صحیح مسلم/الزکاة 1 (979)، سنن ابی داود/الزکاة 1 (1558)، سنن الترمذی/الزکاة 7 (626، 627)، سنن النسائی/الزکاة 5 (2475)، 18 (2478)، 21 (2485)، 24 (2486، 2489)، موطا امام مالک/الزکاة 1 (2)، (تحفة الأشراف: 4402)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/6، 30، 45، 59، 60، 43)، سنن الدارمی/الزکاة 11 (1673، 1674) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
حدیث نمبر: 1794
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسِ ذَوْدٍ صَدَقَةٌ، وَلَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسِ أَوَاقٍ صَدَقَةٌ، وَلَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ أَوْسَاقٍ صَدَقَةٌ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانچ اونٹ سے کم میں زکاۃ نہیں ہے، اور پانچ اوقیہ سے کم چاندی میں زکاۃ نہیں ہے، اور پانچ وسق سے کم اناج یا میوہ میں زکاۃ نہیں ہے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزكاة/حدیث: 1794]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 2566، ومصباح الزجاجة: 642)، مسند احمد (3/296) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح