🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

45. بَابُ: الْمُحْرِمِ يَتَزَوَّجُ
باب: حالت احرام میں نکاح کا حکم۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1964
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو فَزَارَةَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ ، حَدَّثَتْنِي مَيْمُونَةُ بِنْتُ الْحَارِثِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَزَوَّجَهَا وَهُوَ حَلَالٌ، قَالَ:" وَكَانَتْ خَالَتِي وَخَالَةَ ابْنِ عَبَّاسٍ".
ام المؤمنین میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے شادی کی، اور آپ اس وقت حلال تھے۔ یزید بن اصم کہتے ہیں کہ میمونہ رضی اللہ عنہا میری بھی خالہ تھیں، اور ابن عباس رضی اللہ عنہما کی بھی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1964]
حضرت یزید بن اصم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”مجھ سے ام المومنین حضرت میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا نے بیان فرمایا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے نکاح کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم حلال تھے (احرام کی حالت میں نہیں تھے۔)“ حضرت یزید بن اصم رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا میری بھی خالہ تھیں اور حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی بھی خالہ تھیں۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1964]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/النکاح 5 (1411)، سنن ابی داود/المناسک 39 (1843)، سنن الترمذی/الحج 24 (1845)، (تحفة الأشراف: 18082)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/333، 335)، سنن الدارمی/المناسک 21 (1865) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1965
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيِّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ :" أَنِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَكَحَ وَهُوَ مُحْرِمٍ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے (میمونہ رضی اللہ عنہا سے) حالت احرام میں نکاح کیا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1965]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے احرام کی حالت میں نکاح کیا“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1965]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/جزاء الصید 12 (1837)، المغازي 43 (4258)، النکاح 30 (5114)، صحیح مسلم/النکاح 5 (1410)، سنن ابی داود/الحج 39 (1844)، سنن الترمذی/الحج 24 (843)، سنن النسائی/الحج 90 (2843)، النکاح 37 (3273)، (تحفة الأشراف: 5376)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/22، 245، 266، 270، 283، 285، 286، 324، 330، 333، 336، 346، 351، 354، 360، 361)، سنن الدارمی/المناسک 21 (1863) (صحیح)» ‏‏‏‏ (لیکن یہ شاذ ہے، اس لیے کہ اوپر کی میمونہ رضی اللہ عنہا کی حدیث میں اس بات کی صراحت ہے کہ یہ شادی احرام سے باہر حلت کے ایام میں ہوئی تھی، اور یہ صاحب معاملہ کا بیان ہے، تو ان کی بات زیادہ لائق اعتماد ہے، اور ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اپنے علم کی بناء پر ایسا کہا تھا، جو خلاف واقعہ بات ہے)
وضاحت: ۱؎: عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی یہ حدیث میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا کی سابقہ حدیث کی معارض ہے، اس میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کو وہم ہوا ہے کیونکہ یہ اکثر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی روایت کی مخالف ہے، فرد واحد کی طرف وہم کی نسبت جماعت کی طرف وہم کی نسبت سے زیادہ قریب ہے، خود صاحب قصہ ام المومنین میمونہ رضی اللہ عنہا کا اور ان کے وکیل ابورافع رضی اللہ عنہ جو ان کے اور نبی اکرمصلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان سفارت کے فرائض انجام دے رہے تھے کا بیان اس کے خلاف ہے، ابن عباس رضی اللہ عنہما کے قول: «وهو محرم» کی ایک تاویل یہ بھی کی جاتی ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کا مطلب یہ ہے کہ اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حدود حرم میں تھے، اور اگر یہ تسلیم بھی کر لیا جائے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے احرام کی حالت میں ام المومنین میمونہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا، تو پھر اسے آپ کی خصوصیت پر محمول کیا جائے گا، عثمان رضی اللہ عنہ کی آگے آنے والی حدیث میں ایک کلی قانون کا بیان ہے، اور ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول حدیث میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فعل کی حکایت ہے جس میں بہت سارے احتمالات موجود ہیں۔
قال الشيخ الألباني: شاذ
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1966
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ الْمَكِّيُّ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ نُبَيْه بْنِ وَهْبٍ ، عَنْ أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْمُحْرِمُ لَا يَنْكِحُ وَلَا يُنْكِحُ وَلَا يَخْطُبُ".
عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”محرم نہ تو اپنا نکاح کرے، اور نہ دوسرے کا نکاح کرائے، اور نہ ہی شادی کا پیغام دے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1966]
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”احرام والا خود اپنا نکاح کر سکتا ہے نہ کسی دوسرے کا نکاح کر سکتا ہے اور نہ نکاح کا پیغام ہی دے سکتا ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1966]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/النکاح 5 (1409)، سنن ابی داود/الحج 39 (1841، 1842)، سنن الترمذی/الحج 23 (840)، سنن النسائی/الحج 91 (2845)، النکاح 38 (3277)، (تحفة الأشراف: 9776)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الحج 22 (70)، حم1/57، 64، 69، 73، سنن الدارمی/المناسک 21 (1864)، النکاح 17 (2244) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں