🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

4. بَابُ: إِذَا قُسِمَ لِلرَّجُلِ رِزْقٌ مِنْ وَجْهٍ فَلْيَلْزَمْهُ
باب: روزی کا کوئی ذریعہ مل جانے پر اسے پکڑے رہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2147
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا فَرْوَةُ أَبُو يُونُسَ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ أَصَابَ مِنْ شَيْءٍ فَلْيَلْزَمْهُ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جسے روزی کا کوئی ذریعہ مل جائے، تو چاہیئے کہ وہ اسے پکڑے رہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2147]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 1642، ومصباح الزجاجة: 760) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (سند میں فروہ اور ہلال بن جبیر دونوں ضعیف ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
هلال مستور (تقريب: 7330)
وشك ابن حبان في سماعه من أنس والسند ضعفه البوصيري
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 456

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2148
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، أَخْبَرَنِي أَبِي ، عَنْ الزُّبَيْرِ بْنِ عُبَيْدٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، قَالَ: كُنْتُ أُجَهِّزُ إِلَى الشَّامِ وَإِلَى مِصْرَ فَجَهَّزْتُ إِلَى الْعِرَاقِ، فَأَتَيْتُ عَائِشَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، فَقُلْتُ: لَهَا يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ كُنْتُ أُجَهِّزُ إِلَى الشَّامِ فَجَهَّزْتُ إِلَى الْعِرَاقِ، فَقَالَتْ: لَا تَفْعَلْ مَا لَكَ وَلِمَتْجَرِكَ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِذَا سَبَّبَ اللَّهُ لِأَحَدِكُمْ رِزْقًا مِنْ وَجْهٍ، فَلَا يَدَعْهُ حَتَّى يَتَغَيَّرَ لَهُ، أَوْ يَتَنَكَّرَ لَهُ".
نافع کہتے ہیں کہ میں اپنا سامان تجارت شام اور مصر بھیجا کرتا تھا، پھر میں نے عراق کی طرف بھیج دیا، پھر میں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آیا، اور ان سے کہا کہ میں اپنا سامان تجارت شام بھیجا کرتا تھا، لیکن اس بار میں نے عراق بھیج دیا ہے، تو انہوں نے کہا: ایسا نہ کرو، تمہاری پہلی تجارت گاہ کو کیا ہوا کہ اس کو چھوڑ کر تم نے دوسری اختیار کر لی؟ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: اللہ تعالیٰ جب تم میں سے کسی کے لیے روزی کا کوئی ذریعہ پیدا کر دے، تو وہ اسے نہ چھوڑے یہاں تک کہ وہ بدل جائے، یا بگڑ جائے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2148]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 17674، ومصباح الزجاجة: 761)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/246) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (سند میں زبیر بن عبید مجہول راوی، اور ابوعاصم کے والد مختلف فیہ راوی ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
الزبير بن عبيد: مجهول (تقريب: 1999) و في السند علل أخري،انظر أضواء المصابيح (2785)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 456

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں