صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
12. بَابُ هَلْ تُكَفَّنُ الْمَرْأَةُ فِي إِزَارِ الرَّجُلِ:
باب: اس بیان میں کہ کیا عورت کو مرد کے ازار کا کفن دیا جا سکتا ہے؟
حدیث نمبر: 1257
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حَمَّادٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ , قَالَتْ:" تُوُفِّيَتْ بِنْتُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَنَا:اغْسِلْنَهَا ثَلَاثًا , أَوْ خَمْسًا , أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ إِنْ رَأَيْتُنَّ، فَإِذَا فَرَغْتُنَّ فَآذِنَّنِي، فَلَمَّا فَرَغْنَا آذَنَّاهُ فَنَزَعَ مِنْ حِقْوِهِ إِزَارَهُ , وَقَالَ: أَشْعِرْنَهَا إِيَّاهُ".
ہم سے عبدالرحمٰن بن حماد نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو ابن عون نے خبر دی، انہیں محمد نے، ان سے ام عطیہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک صاحبزادی کا انتقال ہو گیا۔ اس موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں فرمایا کہ تم اسے تین یا پانچ مرتبہ غسل دو اور اگر مناسب سمجھو تو اس سے زیادہ مرتبہ بھی غسل دے سکتی ہو۔ پھر فارغ ہو کر مجھے خبر دینا۔ چنانچہ جب ہم غسل دے چکیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ازار عنایت فرمایا اور فرمایا کہ اسے اس کے بدن سے لپیٹ دو۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 1257]
حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی لخت جگر فوت ہو گئیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا: ”اسے تین یا پانچ یا اگر ضرورت ہو تو زیادہ بار غسل دو اور جب فارغ ہو جاؤ تو مجھے خبر دو۔“ چنانچہ جب ہم فارغ ہو گئیں تو ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی کمر سے تہبند کھولا اور فرمایا: ”اسے اس میں لپیٹ دو۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 1257]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة