سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
47. بَابُ: شِرَاءِ الرَّقِيقِ
باب: غلام یا لونڈی خریدنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2251
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ لَيْثٍ صَاحِبُ الْكَرَابِيسِيِّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَجِيدِ بْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: قَالَ لِي الْعَدَّاءُ بْنُ خَالِدِ بْنِ هَوْذَةَ :" أَلَا نُقْرِئُكَ كِتَابًا كَتَبَهُ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: قُلْتُ: بَلَى. فَأَخْرَجَ لِي كِتَابًا، فَإِذَا فِيهِ:" هَذَا مَا اشْتَرَى الْعَدَّاءُ بْنُ خَالِدِ بْنِ هَوْذَةَ مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اشْتَرَى مِنْهُ عَبْدًا، أَوْ أَمَةً لَا دَاءَ وَلَا غَائِلَةَ وَلَا خِبْثَةَ بَيْعَ الْمُسْلِمِ لِلْمُسْلِمِ".
عبدالمجید بن وہب کہتے ہیں کہ مجھ سے عداء بن خالد بن ہوذہ رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا میں تم کو وہ تحریر پڑھ کر نہ سناؤں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لیے لکھی تھی؟ میں نے کہا: کیوں نہیں؟ ضرور سنائیں، تو انہوں نے ایک تحریر نکالی، میں نے جو دیکھا تو اس میں لکھا تھا: ”یہ وہ ہے جو عداء بن خالد بن ہوذہ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے خریدا، عداء نے آپ سے ایک غلام یا ایک لونڈی خریدی، اس میں نہ تو کوئی بیماری ہے، نہ وہ چوری کا مال ہے، اور نہ وہ مال حرام ہے، مسلمان سے مسلمان کی بیع ہے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2251]
حضرت عبدالمجید بن وہب رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ مجھ سے حضرت عداء بن خالد بن ہوذہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”کیا میں تجھے ایک تحریر نہ پڑھواؤں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے عطا فرمائی تھی؟“ میں نے کہا: ”جی ہاں۔“ انہوں نے مجھے تحریر نکال کر دکھائی، اس میں یہ الفاظ لکھے ہوئے تھے: ”یہ اس چیز کی دستاویز ہے جو عداء بن خالد بن ہوذہ (رضی اللہ عنہ) نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خریدی۔ اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک غلام یا ایک ایسی لونڈی خریدی ہے جسے کوئی بیماری نہیں، کوئی بری عادت نہیں اور نہ حرام کا مال ہے۔ یہ بیع ایک مسلمان کی ایک مسلمان سے ہوئی ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2251]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/البیوع 19 (2078 تعلیقاً)، سنن الترمذی/ البیوع 8 (1216)، (تحفة الأشراف: 9848) (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
حدیث نمبر: 2252
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا اشْتَرَى أَحَدُكُمُ الْجَارِيَةَ، فَلْيَقُلْ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ خَيْرَهَا وَخَيْرَ مَا جَبَلْتَهَا عَلَيْهِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهَا وَشَرِّ مَا جَبَلْتَهَا عَلَيْهِ وَلْيَدْعُ بِالْبَرَكَةِ، وَإِذَا اشْتَرَى أَحَدُكُمْ بَعِيرًا فَلْيَأْخُذْ بِذِرْوَةِ سَنَامِهِ وَلْيَدْعُ بِالْبَرَكَةِ وَلْيَقُلْ مِثْلَ ذَلِكَ".
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی لونڈی خریدے تو کہے: «اللهم إني أسألك خيرها وخير ما جبلتها عليه وأعوذ بك من شرها وشر ما جبلتها عليه» ”اے اللہ! میں تجھ سے اس کی بھلائی کا طالب ہوں، اور اس چیز کی بھلائی کا جو تو نے اس کی خلقت میں رکھی ہے، اور میں تیری پناہ چاہتا ہوں اس کی برائی سے، اور اس چیز کی برائی سے جو تو نے اس کی خلقت میں رکھی ہے“ اور برکت کی دعا کرے، اور جب کوئی اونٹ خریدے تو اس کے کوہان کے اوپر کا حصہ پکڑ کر برکت کی دعا کرے، اور ایسا ہی کہے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2252]
حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کوئی شخص کوئی لونڈی خریدے تو یہ دعا پڑھے: «اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ خَيْرَهَا وَخَيْرَ مَا جَبَلْتَهَا عَلَيْهِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهَا وَشَرِّ مَا جَبَلْتَهَا عَلَيْهِ» ”اے اللہ! میں تجھ سے اس کی بھلائی مانگتا ہوں اور جن عادات پر تو نے اسے پیدا کیا ہے ان کی بھلائی مانگتا ہوں، اور اس کے شر سے تیری پناہ میں آتا ہوں اور جن عادات پر تو نے اسے پیدا کیا ہے ان کے شر سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔“ اور برکت کی دعا کرے۔ اور جب کوئی شخص اونٹ خریدے تو اس کی کوہان کی بلندی پر ہاتھ رکھ کر برکت کی دعا کرے اور وہی الفاظ پڑھے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2252]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/النکاح 46 (2160)، (تحفة الأشراف: 8799) (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:حسن