🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

46. بَابُ: النَّهْيِ عَنِ التَّفْرِيقِ بَيْنَ السَّبْيِ
باب: قیدیوں کو الگ الگ بیچنے کی ممانعت۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2248
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنَ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ:" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أُتِيَ بِالسَّبْيِ أَعْطَى أَهْلَ الْبَيْتِ جَمِيعًا كَرَاهِيَةَ أَنْ يُفَرِّقَ بَيْنَهُمْ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب قیدی (جو آپس میں قریبی عزیز ہوتے) لائے جاتے، تو آپ ان سب کو ایک گھر کے لوگوں کو دے دیتے، اس لیے کہ آپ ان کے درمیان جدائی ڈالنے کو ناپسند فرماتے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2248]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جب غلام حاضر کیے جاتے تو آپ ایک گھر کے سب افراد (ایک شخص کو) عطا فرماتے، ان کے درمیان جدائی ڈالنا پسند نہ فرماتے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2248]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 9369، ومصباح الزجاجة: 794)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/389) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (سند میں جابر جعفی ضعیف راوی ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف جدًا
جابر ضعيف رافضي
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 459

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2249
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، عَنْ حَمَّادٍ ، أَنْبَأَنَا الْحَجَّاجُ ، عَنْ الْحَكَمِ ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ أَبِي شَبِيبٍ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ: وَهَبَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غُلَامَيْنِ أَخَوَيْنِ فَبِعْتُ أَحَدَهُمَا، فَقَالَ:" مَا فَعَلَ الْغُلَامَانِ؟"، قُلْتُ: بِعْتُ أَحَدَهُمَا، قَالَ:" رُدَّهُ".
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دو غلام ہبہ کئے جو دونوں سگے بھائی تھے، میں نے ان میں سے ایک کو بیچ دیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: دونوں غلام کہاں گئے؟ میں نے عرض کیا: میں نے ایک کو بیچ دیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کو واپس لے لو۔ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2249]
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو غلام عطا فرمائے جو آپس میں بھائی تھے۔ میں نے ان میں سے ایک بیچ دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان دو غلاموں کا کیا حال ہے؟ میں نے کہا: میں نے ان میں سے ایک بیچ دیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے واپس لے لو۔ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2249]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/البیوع 52 (1284)، (تحفة الأشراف: 10285)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/102) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (سند میں حجاج بن أرطاہ ضعیف راوی ہیں، لیکن یہ مختصراً ابوداود میں صحیح ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (1284)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 459

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2250
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ هَيَّاجٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، أَنْبَأَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْمَاعِيل ، عَنْ طَلِيقِ بْنِ عِمْرَانَ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ:" لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ فَرَّقَ بَيْنَ الْوَالِدَةِ وَوَلَدِهَا وَبَيْنَ الْأَخِ وَبَيْنَ أَخِيهِ".
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص پر لعنت فرمائی ہے جو ماں بیٹے، اور بھائی بھائی کے درمیان جدائی ڈال دے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2250]
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص پر لعنت فرمائی ہے جو ماں بیٹے میں، یا بھائی بھائی میں جدائی ڈالے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2250]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجة، (تحفة الأشراف: 9104، ومصباح الزجاجة: 795) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (سند میں ابراہیم بن اسماعیل ضعیف راوی ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ابن مجمع ضعيف
والسند ضعفه البوصيري
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 459

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں