🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

11. بَابُ: الرُّخْصَةِ فِي الْمُزَارَعَةِ بِالثُّلُثِ وَالرُّبُعِ
باب: تہائی یا چوتھائی پیداوار پر بٹائی کی رخصت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2462
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، قَالَ: قُلْتُ لِطَاوُسٍ : يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ لَوْ تَرَكْتَ هَذِهِ الْمُخَابَرَةَ فَإِنَّهُمْ يَزْعُمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْهُ، فَقَالَ: أَيْ عَمْرُو إِنِّي أُعِينُهُمْ وَأُعْطِيهِمْ وَإِنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ أَخَذَ النَّاسَ عَلَيْهَا عِنْدَنَا، وَإِنَّ أَعْلَمَهُمْ يَعْنِي ابْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَنِي، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَنْهَ عَنْهَا وَلَكِنْ قَالَ:" لَأَنْ يَمْنَحَ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَأْخُذَ عَلَيْهَا أَجْرًا مَعْلُومًا".
عمرو بن دینار کہتے ہیں کہ میں نے طاؤس سے کہا: اے ابوعبدالرحمٰن! کاش آپ اس بٹائی کو چھوڑ دیتے، اس لیے کہ لوگ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے، تو وہ بولے: عمرو! میں ان کی مدد کرتا ہوں، اور ان کو (زمین بٹائی پر) دیتا ہوں، اور معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے ہماری موجودگی میں لوگوں سے ایسا معاملہ کیا ہے، اور ان کے سب سے بڑے عالم یعنی ابن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھے بتایا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع نہیں کیا، بلکہ یوں فرمایا: اگر تم میں سے کوئی اپنے بھائی کو یوں ہی بغیر کرایہ کے دیدے، تو وہ اس سے بہتر ہے کہ زمین کا ایک معین کرایہ لے۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب الرهون/حدیث: 2462]
حضرت عمرو بن دینار رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے حضرت طاوس (بن کیسان) رحمہ اللہ سے کہا: اے ابو عبدالرحمٰن! کاش آپ «الْمُخَابَرَةُ» (بٹائی پر زمین دینا) چھوڑ دیں کیونکہ لوگ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا۔ انہوں نے فرمایا: اے عمرو! میں ان کی مدد کرتا ہوں اور انہیں دیتا ہوں اور حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے ہمارے ہاں اس پر عمل کرایا ہے اور ان کے بڑے عالم، یعنی حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع نہیں فرمایا لیکن یہ فرمایا تھا: کوئی اپنے بھائی کو (بلا معاوضہ زمین) دے دے تو یہ اس پر مقرر معاوضہ لینے سے بہتر ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الرهون/حدیث: 2462]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2463
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ ثَابِتٍ الْجَحْدَرِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ أَكْرَى الْأَرْضَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ عَلَى الثُّلُثِ وَالرُّبُعِ فَهُوَ يُعْمَلُ بِهِ إِلَى يَوْمِكَ هَذَا.
طاؤس سے روایت ہے کہ معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، ابوبکرو عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم کے عہد میں زمین کو تہائی اور چوتھائی کرائے پر دیا، اور آج تک اسی پر عمل کیا جا رہا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الرهون/حدیث: 2463]
حضرت طاوس رحمہ اللہ سے روایت ہے، (انہوں نے فرمایا): حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں، حضرت ابوبکر، حضرت عمر اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہم کے زمانہ خلافت میں تہائی اور چوتھائی کی شرط پر زمین کرائے پر دی اور آج تک اسی پر عمل ہوتا آ رہا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الرهون/حدیث: 2463]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 11317، ومصباح الزجاجة: 866)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/230، 236) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
طاوس لم يسمع من معاذ رضي اللّٰه عنه شيئًا (جامع التحصيل للعلائي ص 201)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 467

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2464
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، قَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : إِنَّمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَأَنْ يَمْنَحَ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ الْأَرْضَ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَأْخُذَ خَرَاجًا مَعْلُومًا".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو صرف یہ فرمایا تھا: کوئی اپنے بھائی کو اپنی زمین یوں ہی مفت کھیتی کے لیے دیدے، تو یہ اس سے بہتر ہے کہ وہ اس سے کوئی معین محصول لے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الرهون/حدیث: 2464]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی فرمایا تھا: اگر کوئی اپنے بھائی کو زمین بلا معاوضہ دے دے تو یہ کام اس کے لیے مقرر کردہ ٹھیکہ لینے سے بہتر ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الرهون/حدیث: 2464]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظرحدیث (رقم: 2456) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں