🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

28. بَابُ: الْقَسَامَةِ
باب: قسامہ کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2677
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ ، سَمِعْتُ مَالِكَ بْنَ أَنَسٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو لَيْلَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَهْلٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ، عَنْ رِجَالٍ مِنْ كُبَرَاءِ قَوْمِهِ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَهْلٍ وَمُحَيِّصَةَ خَرَجَا إِلَى خَيْبَرَ مِنْ جَهْدٍ أَصَابَهُمْ فَأُتِيَ مُحَيِّصَةُ فَأُخْبِرَ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَهْلٍ قَدْ قُتِلَ وَأُلْقِيَ فِي فَقِيرٍ أَوْ عَيْنٍ بِخَيْبَرَ فَأَتَى يَهُودَ فَقَالَ: أَنْتُمْ وَاللَّهِ قَتَلْتُمُوهُ، قَالُوا: وَاللَّهِ مَا قَتَلْنَاهُ، ثُمَّ أَقْبَلَ حَتَّى قَدِمَ عَلَى قَوْمِهِ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُمْ ثُمَّ أَقْبَلَ هُوَ وَأَخُوهُ حُوَيِّصَةُ وَهُوَ أَكْبَرُ مِنْهُ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَهْلٍ فَذَهَبَ مُحَيِّصَةُ يَتَكَلَّمُ وَهُوَ الَّذِي كَانَ بِخَيْبَرَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمُحَيِّصَةَ:" كَبِّرْ، كَبِّرْ" يُرِيدُ السِّنَّ، فَتَكَلَّمَ حُوَيِّصَةُ ثُمَّ تَكَلَّمَ مُحَيِّصَةُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِمَّا أَنْ يَدُوا صَاحِبَكُمْ، وَإِمَّا أَنْ يُؤْذَنُوا بِحَرْبٍ" فَكَتَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِمْ فِي ذَلِكَ، فَكَتَبُوا: إِنَّا وَاللَّهِ مَا قَتَلْنَاهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحُوَيِّصَةَ: وَمُحَيِّصَةَ وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ:" تَحْلِفُونَ وَتَسْتَحِقُّونَ دَمَ صَاحِبِكُمْ؟" قَالُوا: لَا، قَالَ:" فَتَحْلِفُ لَكُمْ يَهُودُ؟" قَالُوا: لَيْسُوا بِمُسْلِمِينَ، فَوَدَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عِنْدِهِ، فَبَعَثَ إِلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِائَةَ نَاقَةٍ حَتَّى أُدْخِلَتْ عَلَيْهِمُ الدَّارَ. فَقَالَ سَهْلٌ: فَلَقَدْ رَكَضَتْنِي مِنْهَا نَاقَةٌ حَمْرَاءُ.
سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ اپنی قوم کے بزرگوں سے روایت کرتے ہیں کہ عبداللہ بن سہل اور محیصہ رضی اللہ عنہما دونوں محتاجی کی وجہ سے جو ان کو لاحق تھی (روزگار کی تلاش میں) اس یہودی بستی خیبر کی طرف نکلے، محیصہ رضی اللہ عنہ کو خبر ملی کہ عبداللہ بن سہل رضی اللہ عنہ قتل کر دئیے گئے ہیں، اور انہیں خیبر کے ایک گڑھے یا چشمے میں ڈال دیا گیا ہے، وہ یہودیوں کے پاس گئے، اور کہا: اللہ کی قسم، تم لوگوں نے ہی ان (عبداللہ بن سہل) کو قتل کیا ہے، وہ قسم کھا کر کہنے لگے کہ ہم نے ان کا قتل نہیں کیا ہے، اس کے بعد محیصہ رضی اللہ عنہ خیبر سے واپس اپنی قوم کے پاس پہنچے، اور ان سے اس کا ذکر کیا، پھر وہ، ان کے بڑے بھائی حویصہ، اور عبدالرحمٰن بن سہل رضی اللہ عنہما رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، اور محیصہ رضی اللہ عنہ جو کہ خیبر میں تھے بات کرنے بڑھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے محیصہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا: بڑے کا لحاظ کرو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد عمر میں بڑے سے تھی چنانچہ حویصہ رضی اللہ عنہ نے گفتگو کی، اور اس کے بعد محیصہ رضی اللہ عنہ نے، اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرمایا: یا تو یہود تمہارے آدمی کی دیت ادا کریں ورنہ اس کو اعلان جنگ سمجھیں اور یہود کو یہ بات لکھ کر بھیج دی، انہوں نے بھی جواب لکھ بھیجا کہ اللہ کی قسم، ہم نے ان کو قتل نہیں کیا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حویصہ، محیصہ اور عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہم سے کہا: تم قسم کھا کر اپنے ساتھی کی دیت کے مستحق ہو سکتے ہو، انہوں نے انکار کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر یہود قسم کھا کر بری ہو جائیں گے وہ کہنے لگے: وہ تو مسلمان نہیں ہیں، (کیا ان کی قسم کا اعتبار کیا جائے گا) آخر کار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پاس سے عبداللہ بن سہل رضی اللہ عنہ کی دیت ادا کی، اور ان کے لیے سو اونٹنیاں بھیجیں جنہیں ان کے گھر میں داخل کر دیا گیا۔ سہل رضی اللہ عنہ کا کہنا ہے کہ ان میں سے ایک لال اونٹنی نے مجھے لات ماری۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2677]
حضرت سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ اپنے قبیلے کے بزرگوں سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن سہل اور حضرت محیصہ رضی اللہ عنہما تنگ دستی کی وجہ سے (روزی کی تلاش میں) خیبر گئے۔ (وہاں) کسی نے آکر حضرت محیصہ رضی اللہ عنہ کو بتایا کہ حضرت عبداللہ بن سہل رضی اللہ عنہ کو قتل کر کے خیبر کے ایک کنویں یا چشمے میں پھینک دیا گیا ہے۔ حضرت محیصہ رضی اللہ عنہ نے یہودیوں کے پاس جا کر انہیں کہا: قسم ہے اللہ کی! تم ہی نے اسے قتل کیا ہے۔ انہوں نے کہا: قسم ہے اللہ کی! ہم نے اسے قتل نہیں کیا۔ پھر وہ (خیبر سے) اپنے قبیلے والوں کے پاس گئے اور انہیں صورت حال بتائی، پھر حضرت محیصہ رضی اللہ عنہ اپنے بڑے بھائی حضرت حویصہ رضی اللہ عنہ اور حضرت عبدالرحمن بن سہل رضی اللہ عنہ کے ساتھ (نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں) حاضر ہوئے۔ حضرت محیصہ رضی اللہ عنہ نے بات شروع کرنی چاہی کیونکہ (حادثے کے وقت) خیبر میں وہی تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت محیصہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا: «كَبِّرِ الْكُبْرَ» بڑے کا لحاظ کرو۔ یعنی جو عمر میں بڑا ہے (اسے بات کرنے دو)۔ چنانچہ حضرت حویصہ رضی اللہ عنہ نے بات کی، پھر ان کے بعد حضرت محیصہ رضی اللہ عنہ نے بات کی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یا وہ تمہارے مقتول کی دیت دیں یا جنگ کے لیے تیار ہو جائیں۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس معاملے میں اہل خیبر کے نام لکھا۔ انہوں نے (جواب میں) لکھا: قسم ہے اللہ کی! ہم نے اسے قتل نہیں کیا۔ تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حویصہ، حضرت محیصہ اور حضرت عبدالرحمن رضی اللہ عنہم سے فرمایا: کیا تم قسمیں کھاتے ہو اور اپنے آدمی (مقتول) کا خون بہا (دیت) لینے کے مستحق بنتے ہو؟ انہوں نے کہا: جی نہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر یہودی تمہارے لیے قسمیں کھائیں گے (قسمیں کھا کر خود کو بے گناہ ثابت کر دیں گے)۔ انہوں نے کہا: وہ مسلمان نہیں (ان کے لیے جھوٹی قسمیں کھانا معمولی بات ہے)۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پاس سے حضرت عبداللہ بن سہل رضی اللہ عنہ کی دیت دے دی، اور ان کے پاس سو اونٹنیاں بھیج دیں، اور وہ ان کے گھر پہنچا دی گئیں۔ حضرت سہل رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ان میں سے ایک سرخ اونٹنی نے مجھے لات بھی ماری تھی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2677]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الصلح 7 (2702)، الجزیة 12 (3173)، الأدب 89 (6143)، الدیات 22 (6898)، الأحکام 38 (7192)، صحیح مسلم/القسامة 1 (1669)، سنن ابی داود/الدیات 8 (4520)، 9 (4523)، سنن الترمذی/الدیات 23 (1442)، سنن النسائی/القسامة 3 (4714)، (تحفة الأ شراف: 4644)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/القسامة 1 (1)، مسند احمد (4/2، 3)، سنن الدارمی/الدیات 2 (2398) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جب قاتل کا پتہ نہ لگے تو مقتول کی دیت بیت المال سے دی جائے گی، اور مسلم نے ایک صحابی سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قسامت کی دیت کو باقی رکھا اسی طریقہ پر جیسے جاہلیت کے زمانہ میں رائج تھی، اور جاہلیت میں یہی طریقہ تھا کہ مقتول کے اولیاء مدعی علیہم میں سے لوگوں کو چنتے، پھر ان کو اختیار دیتے، چاہیں وہ قسم کھا لیں چاہیں دیت ادا کریں، جیسے اس قسامت میں ہوا جو بنی ہاشم میں ہوئی، علماء نے قسامت کی کیفیت میں اختلاف کیا ہے، لیکن صحیح بات یہ ہے کہ جب قاتل ایک معین جماعت میں سے ہو تو اس میں سے مقتول کا ولی قاتل کی جماعت سے لوگوں کو چن کر پچاس قسمیں کھلوائے، اگر وہ حلف اٹھا لیں تو بری ہوں گئے ورنہ ان کو دیت دینی ہوگی۔ (ملاحظہ ہو: الروضۃ الندیہ ۳/۳۸۸)۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2678
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنَّ حُوَيِّصَةَ وَمُحَيِّصَةَ ابْنَيْ مَسْعُودٍ، وَعَبْدَ اللَّهِ وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ ابْنَيْ سَهْلٍ خَرَجُوا يَمْتَارُونَ بِخَيْبَرَ فَعُدِيَ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ فَقُتِلَ فَذُكِرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" تُقْسِمُونَ وَتَسْتَحِقُّونَ؟"، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ نُقْسِمُ وَلَمْ نَشْهَدْ؟ قَالَ: فَتُبْرِئُكُمْ يَهُودُ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِذًا تَقْتُلَنَا، قَالَ: فَوَدَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عِنْدِهِ".
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ مسعود کے دونوں بیٹے حویصہ و محیصہ رضی اللہ عنہما اور سہل کے دونوں بیٹے عبداللہ و عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہما خیبر کی جانب تلاش رزق میں نکلے، عبداللہ پر ظلم ہوا، اور انہیں قتل کر دیا گیا، اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قسم کھاؤ اور (دیت کے) مستحق ہو جاؤ وہ کہنے لگے: اللہ کے رسول! جب ہم وہاں حاضر ہی نہیں تھے تو قسم کیوں کر کھائیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو یہود (قسم کھا کر) تم سے بری ہو جائیں گے وہ کہنے لگے: اللہ کے رسول! تب تو وہ ہمیں مار ہی ڈالیں گے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پاس سے ان کی دیت ادا کر دی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2678]
حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مسعود کے بیٹے حضرت حویصہ رضی اللہ عنہ اور حضرت محیصہ رضی اللہ عنہ اور سہل کے بیٹے حضرت عبداللہ بن عبدالرحمن رضی اللہ عنہ غلہ لینے خیبر گئے۔ (وہاں) حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ پر حملہ کر کے انہیں قتل کر دیا گیا۔ یہ معاملہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم قسمیں کھا کر (دیت کے) مستحق بنتے ہو؟ انہوں نے کہا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم کیسے قسم کھا سکتے ہیں جبکہ ہم نے دیکھا نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر یہودی (قسمیں کھا کر) تم سے بری ہو جائیں گے۔ انہوں نے کہا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! تب تو وہ ہمیں قتل کرنا شروع کر دیں گے۔ (وہ جسے چاہیں گے قتل کر کے پچاس جھوٹی قسمیں کھا لیا کریں گے۔) تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پاس (بیت المال) سے اس کی دیت ادا فرما دی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2678]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأ شراف: 8678، ومصباح الزجاجة: 949)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/القسامة 2 (4718) (صحیح)» ‏‏‏‏ (سند میں حجاج بن ارطاہ مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے)۔ لیکن شاہد کی بنا پر صحیح ہے
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں