سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
28. بَابُ : الْقَسَامَةِ
باب: قسامہ کا بیان۔
حدیث نمبر: 2678
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنَّ حُوَيِّصَةَ وَمُحَيِّصَةَ ابْنَيْ مَسْعُودٍ، وَعَبْدَ اللَّهِ وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ ابْنَيْ سَهْلٍ خَرَجُوا يَمْتَارُونَ بِخَيْبَرَ فَعُدِيَ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ فَقُتِلَ فَذُكِرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" تُقْسِمُونَ وَتَسْتَحِقُّونَ؟"، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ نُقْسِمُ وَلَمْ نَشْهَدْ؟ قَالَ: فَتُبْرِئُكُمْ يَهُودُ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِذًا تَقْتُلَنَا، قَالَ: فَوَدَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عِنْدِهِ".
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ مسعود کے دونوں بیٹے حویصہ و محیصہ رضی اللہ عنہما اور سہل کے دونوں بیٹے عبداللہ و عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہما خیبر کی جانب تلاش رزق میں نکلے، عبداللہ پر ظلم ہوا، اور انہیں قتل کر دیا گیا، اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قسم کھاؤ اور (دیت کے) مستحق ہو جاؤ“ وہ کہنے لگے: اللہ کے رسول! جب ہم وہاں حاضر ہی نہیں تھے تو قسم کیوں کر کھائیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو یہود (قسم کھا کر) تم سے بری ہو جائیں گے“ وہ کہنے لگے: اللہ کے رسول! تب تو وہ ہمیں مار ہی ڈالیں گے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پاس سے ان کی دیت ادا کر دی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2678]
حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مسعود کے بیٹے حضرت حویصہ رضی اللہ عنہ اور حضرت محیصہ رضی اللہ عنہ اور سہل کے بیٹے حضرت عبداللہ بن عبدالرحمن رضی اللہ عنہ غلہ لینے خیبر گئے۔ (وہاں) حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ پر حملہ کر کے انہیں قتل کر دیا گیا۔ یہ معاملہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم قسمیں کھا کر (دیت کے) مستحق بنتے ہو؟“ انہوں نے کہا: ”اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم کیسے قسم کھا سکتے ہیں جبکہ ہم نے دیکھا نہیں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر یہودی (قسمیں کھا کر) تم سے بری ہو جائیں گے۔“ انہوں نے کہا: ”اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! تب تو وہ ہمیں قتل کرنا شروع کر دیں گے۔ (وہ جسے چاہیں گے قتل کر کے پچاس جھوٹی قسمیں کھا لیا کریں گے۔)“ تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پاس (بیت المال) سے اس کی دیت ادا فرما دی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2678]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأ شراف: 8678، ومصباح الزجاجة: 949)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/القسامة 2 (4718) (صحیح)» (سند میں حجاج بن ارطاہ مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے)۔ لیکن شاہد کی بنا پر صحیح ہے
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن ابن ماجه |
2678
| تقسمون وتستحقون فقالوا يا رسول الله كيف نقسم ولم نشهد قال فتبرئكم يهود قالوا يا رسول الله إذا تقتلنا قال فوداه رسول الله من عنده |
سنن النسائى الصغرى |
4724
| تحلف خمسين قسامة قال يا رسول الله وكيف أحلف على ما لا أعلم فقال رسول الله فنستحلف منهم خمسين قسامة فقال يا رسول الله كيف نستحلفهم وهم اليهود فقسم رسول الله ديته عليهم وأعانهم بنصفها |
Sunan Ibn Majah Hadith 2678 in Urdu
شعيب بن محمد السهمي ← عبد الله بن عمرو السهمي