🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

1. بَابُ: فَضْلِ الْجِهَادِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ
باب: اللہ کی راہ میں جہاد کی فضیلت۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2753
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفُضَيْلِ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَعَدَّ اللَّهُ لِمَنْ خَرَجَ فِي سَبِيلِهِ لَا يُخْرِجُهُ إِلَّا جِهَادٌ فِي سَبِيلِي، وَإِيمَانٌ بِي، وَتَصْدِيقٌ بِرُسُلِي، فَهُوَ عَلَيَّ ضَامِنٌ أَنْ أُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ أَوْ أَرْجِعَهُ إِلَى مَسْكَنِهِ الَّذِي خَرَجَ مِنْهُ نَائِلًا مَا نَالَ مِنْ أَجْرٍ أَوْ غَنِيمَةٍ"، ثُمَّ قَالَ:" وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى الْمُسْلِمِينَ مَا قَعَدْتُ خِلَافَ سَرِيَّةٍ تَخْرُجُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَبَدًا، وَلَكِنْ لَا أَجِدُ سَعَةً فَأَحْمِلَهُمْ وَلَا يَجِدُونَ سَعَةً فَيَتَّبِعُونِي، وَلَا تَطِيبُ أَنْفُسُهُمْ فَيَتَخَلَّفُونَ بَعْدِي، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَوَدِدْتُ أَنْ أَغْزُوَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَأُقْتَلَ ثُمَّ أَغْزُوَ فَأُقْتَلَ ثُمَّ أَغْزُوَ فَأُقْتَلَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے اس شخص کے لیے جو اس کی راہ میں نکلے، اور اسے اس کی راہ میں صرف جہاد اور اللہ تعالیٰ پر ایمان اور اس کے رسولوں کی تصدیق ہی نے نکالا ہو، (تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے) میں اس کے لیے ضمانت لیتا ہوں کہ اسے جنت میں داخل کروں، یا اجر و ثواب اور مال غنیمت کے ساتھ اس منزل تک لوٹا دوں جہاں سے وہ گیا تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اگر مجھے مسلمانوں کے مشقت میں پڑ جانے کا ڈر نہ ہوتا تو میں کسی بھی سریہ (لشکر) کا جو اللہ کے راستے میں نکلتا ہے ساتھ نہ چھوڑتا، لیکن میرے پاس اتنی گنجائش نہیں کہ سب کی سواری کا انتظام کر سکوں، نہ لوگوں کے پاس اتنی فراخی ہے کہ وہ ہر جہاد میں میرے ساتھ رہیں، اور نہ ہی انہیں یہ پسند ہے کہ میں چلا جاؤں، اور وہ نہ جا سکیں، پیچھے رہ جائیں، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے، میں چاہتا ہوں کہ اللہ کی راہ میں جہاد کروں، اور قتل کر دیا جاؤں، پھر جہاد کروں، اور قتل کر دیا جاؤں، پھر جہاد کروں، اور قتل کر دیا جاؤں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2753]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے نکلتا ہے اللہ نے اس کے لیے (یہ اجر و ثواب) تیار کیا (کہ وہ فرماتا ہے) یہ شخص صرف میری راہ میں جہاد کے لیے، مجھ پر ایمان رکھتے ہوئے اور میرے رسولوں کو سچا مان کر نکلا ہے، اس لیے میں اسے ضمانت دیتا ہوں کہ یا اسے (شہادت سے سرفراز کر کے) جنت میں داخل کروں گا، یا اسے حاصل ہونے والے ثواب یا غنیمت کے ساتھ، اسے اس کے گھر میں واپس پہنچا دوں گا جس سے وہ نکلا تھا۔ پھر فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر یہ بات نہ ہوتی کہ میری وجہ سے مسلمانوں کو مشقت (اور تکلیف) ہوگی، میں کبھی اللہ کی راہ میں نکلنے والے کسی جہادی دستے سے پیچھے نہ رہتا، لیکن میرے پاس اتنی گنجائش نہیں ہوتی کہ انہیں سواریاں مہیا کر سکوں، اور ان کے پاس اتنی طاقت نہیں ہوتی کہ (اپنے خرچ پر) میرے ساتھ (جہاد کے لیے) چلے جائیں، اور نہ مجھ سے پیچھے رہنے پر ان کے دل مطمئن ہوتے ہیں (اس لیے میں بھی بعض اوقات جہاد کے لیے جانے والے لشکر کے ساتھ نہیں جاتا)۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے! مجھے تو یہ چیز محبوب ہے کہ میں اللہ کی راہ میں جنگ کر کے شہید ہو جاؤں، پھر جنگ کروں اور شہید ہو جاؤں، پھر جنگ کروں اور شہید ہو جاؤں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2753]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الإیمان 26 (36 مطولاً)، الجہاد 2 2787)، فرض الخمس 8 (3123)، التوحید 28 (7457)، صحیح مسلم/الإمارة 28 (1876)، سنن النسائی/الجہاد 14 (3124)، (تحفة الأشراف: 14901)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الجہاد 1 (2)، مسند احمد (2/231، 384، 399، 424، 494)، سنن الدارمی/الجہاد 2 (2436) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2754
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، عَنْ شَيْبَانَ ، عَنْ فِرَاسٍ ، عَنْ عَطِيَّةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" الْمُجَاهِدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ مَضْمُونٌ عَلَى اللَّهِ إِمَّا أَنْ يَكْفِتَهُ إِلَى مَغْفِرَتِهِ وَرَحْمَتِهِ، وَإِمَّا أَنْ يَرْجِعَهُ بِأَجْرٍ وَغَنِيمَةٍ، وَمَثَلُ الْمُجَاهِدِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ كَمَثَلِ الصَّائِمِ الْقَائِمِ الَّذِي لَا يَفْتُرُ حَتَّى يَرْجِعَ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والے شخص کا اللہ تعالیٰ ضامن ہے، یا تو اسے اپنی رحمت و مغفرت میں ڈھانپ لے، یا ثواب اور مال غنیمت کے ساتھ اسے (گھر) واپس کرے، اللہ کے راستہ میں جہاد کرنے والے کی مثال نہ تھکنے والے صائم تہجد گزار کی ہے یہاں تک کہ وہ مجاہد گھر لوٹ آئے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2754]
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کو اللہ کی طرف سے یہ ضمانت حاصل ہے کہ وہ اسے یا تو (شہادت کی موت دے کر) اپنی بخشش اور رحمت کے دامن میں لے لے گا، یا پھر ثواب اور غنیمت کے ساتھ واپس (گھر) لے آئے گا۔ اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والا، واپسی تک اس روزہ رکھنے والے اور قیام کرنے والے کی طرح (ثواب حاصل کرتا) ہے جو (نفلی روزوں اور نفلی نمازوں سے) تھکتا نہیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2754]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 4224، ومصباح الزجاجة: 973) (صحیح)» ‏‏‏‏ (سند میں عطیہ العوفی ضعیف ہے، لیکن اصل حدیث ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے متفق علیہ وارد ہے، ملاحظہ ہو: صحیح الترغیب: 1304 و 1320)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
عطية العوفي ضعيف
و حديث مسلم (1878) و الترمذي (1620) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 478

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں