علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. باب : فضل الجهاد في سبيل الله
باب: اللہ کی راہ میں جہاد کی فضیلت۔
حدیث نمبر: 2754
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، عَنْ شَيْبَانَ ، عَنْ فِرَاسٍ ، عَنْ عَطِيَّةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" الْمُجَاهِدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ مَضْمُونٌ عَلَى اللَّهِ إِمَّا أَنْ يَكْفِتَهُ إِلَى مَغْفِرَتِهِ وَرَحْمَتِهِ، وَإِمَّا أَنْ يَرْجِعَهُ بِأَجْرٍ وَغَنِيمَةٍ، وَمَثَلُ الْمُجَاهِدِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ كَمَثَلِ الصَّائِمِ الْقَائِمِ الَّذِي لَا يَفْتُرُ حَتَّى يَرْجِعَ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والے شخص کا اللہ تعالیٰ ضامن ہے، یا تو اسے اپنی رحمت و مغفرت میں ڈھانپ لے، یا ثواب اور مال غنیمت کے ساتھ اسے (گھر) واپس کرے، اللہ کے راستہ میں جہاد کرنے والے کی مثال نہ تھکنے والے صائم تہجد گزار کی ہے یہاں تک کہ وہ مجاہد گھر لوٹ آئے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2754]
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کو اللہ کی طرف سے یہ ضمانت حاصل ہے کہ وہ اسے یا تو (شہادت کی موت دے کر) اپنی بخشش اور رحمت کے دامن میں لے لے گا، یا پھر ثواب اور غنیمت کے ساتھ واپس (گھر) لے آئے گا۔ اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والا، واپسی تک اس روزہ رکھنے والے اور قیام کرنے والے کی طرح (ثواب حاصل کرتا) ہے جو (نفلی روزوں اور نفلی نمازوں سے) تھکتا نہیں۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2754]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 4224، ومصباح الزجاجة: 973) (صحیح)» (سند میں عطیہ العوفی ضعیف ہے، لیکن اصل حدیث ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے متفق علیہ وارد ہے، ملاحظہ ہو: صحیح الترغیب: 1304 و 1320)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
عطية العوفي ضعيف
و حديث مسلم (1878) و الترمذي (1620) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 478
إسناده ضعيف
عطية العوفي ضعيف
و حديث مسلم (1878) و الترمذي (1620) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 478
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن ابن ماجه |
2754
| المجاهد في سبيل الله مضمون على الله إما أن يكفته إلى مغفرته ورحمته وإما أن يرجعه بأجر وغنيمة ومثل المجاهد في سبيل الله كمثل الصائم القائم الذي لا يفتر حتى يرجع |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 2754 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2754
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
مسلسل روزے رکھنا یا مسلسل نماز میں مشغول رہنا ایک ناممکن عمل ہے کیونکہ انسان اپنی جسمانی ضروریات پوری کرنے کے لیے نماز سے باہر آنے اور روزہ افطار کرنے پر مجبور ہے لیکن مجاہد جب عملی طور پر جنگ میں مشغول نہ ہو پھر بھی اسے ثواب ملتا رہتا ہے۔
اس لحاظ سے جہاد زیادہ ثواب کا باعث ہے۔
(2)
مال غنیمت مجاہد کے لیے ایک انعام ہے کیونکہ وہ اسے بھی نیکی کے کاموں میں خرچ کرتا ہے۔
اس طرح مزید ثواب حاصل کرتا ہے۔
فوائد و مسائل:
(1)
مسلسل روزے رکھنا یا مسلسل نماز میں مشغول رہنا ایک ناممکن عمل ہے کیونکہ انسان اپنی جسمانی ضروریات پوری کرنے کے لیے نماز سے باہر آنے اور روزہ افطار کرنے پر مجبور ہے لیکن مجاہد جب عملی طور پر جنگ میں مشغول نہ ہو پھر بھی اسے ثواب ملتا رہتا ہے۔
اس لحاظ سے جہاد زیادہ ثواب کا باعث ہے۔
(2)
مال غنیمت مجاہد کے لیے ایک انعام ہے کیونکہ وہ اسے بھی نیکی کے کاموں میں خرچ کرتا ہے۔
اس طرح مزید ثواب حاصل کرتا ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2754]
Sunan Ibn Majah Hadith 2754 in Urdu
عطية بن سعد العوفي ← أبو سعيد الخدري