صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
36. بَابُ رِثَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَعْدَ ابْنَ خَوْلَةَ:
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا سعد بن خولہ رضی اللہ عنہ کی وفات پر افسوس کرنا۔
حدیث نمبر: 1295
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وقاص عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُنِي عَامَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ مِنْ وَجَعٍ اشْتَدَّ بِي , فَقُلْتُ: إِنِّي قَدْ بَلَغَ بِي مِنَ الْوَجَعِ وَأَنَا ذُو مَالٍ وَلَا يَرِثُنِي إِلَّا ابْنَةٌ أَفَأَتَصَدَّقُ بِثُلُثَيْ مَالِي، قَالَ: لَا، فَقُلْتُ: بِالشَّطْرِ، فَقَالَ: لَا، ثُمَّ قَالَ: الثُّلُثُ وَالثُّلُثُ كَبِيرٌ أَوْ كَثِيرٌ، إِنَّكَ أَنْ تَذَرَ وَرَثَتَكَ أَغْنِيَاءَ خَيْرٌ مِنْ أَنْ تَذَرَهُمْ عَالَةً يَتَكَفَّفُونَ النَّاسَ، وَإِنَّكَ لَنْ تُنْفِقَ نَفَقَةً تَبْتَغِي بِهَا وَجْهَ اللَّهِ إِلَّا أُجِرْتَ بِهَا حَتَّى مَا تَجْعَلُ فِي فِي امْرَأَتِكَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أُخَلَّفُ بَعْدَ أَصْحَابِي؟ , قَالَ: إِنَّكَ لَنْ تُخَلَّفَ فَتَعْمَلَ عَمَلًا صَالِحًا إِلَّا ازْدَدْتَ بِهِ دَرَجَةً وَرِفْعَةً، ثُمَّ لَعَلَّكَ أَنْ تُخَلَّفَ حَتَّى يَنْتَفِعَ بِكَ أَقْوَامٌ وَيُضَرَّ بِكَ آخَرُونَ، اللَّهُمَّ أَمْضِ لِأَصْحَابِي هِجْرَتَهُمْ وَلَا تَرُدَّهُمْ عَلَى أَعْقَابِهِمْ"، لَكِنْ الْبَائِسُ سَعْدُ بْنُ خَوْلَةَ يَرْثِي لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ مَاتَ بِمَكَّةَ.
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا ‘ انہیں امام مالک نے خبر دی۔ انہیں ابن شہاب نے ‘ انہیں عامر بن سعد بن ابی وقاص نے اور انہیں ان کے والد سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حجتہ الوداع کے سال (10 ھ میں) میری عیادت کے لیے تشریف لائے۔ میں سخت بیمار تھا۔ میں نے کہا کہ میرا مرض شدت اختیار کر چکا ہے میرے پاس مال و اسباب بہت ہے اور میری صرف ایک لڑکی ہے جو وارث ہو گی تو کیا میں اپنے دو تہائی مال کو خیرات کر دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں۔ میں نے کہا آدھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک تہائی کر دو اور یہ بھی بڑی خیرات ہے یا بہت خیرات ہے اگر تو اپنے وارثوں کو اپنے پیچھے مالدار چھوڑ جائے تو یہ اس سے بہتر ہو گا کہ محتاجی میں انہیں اس طرح چھوڑ کر جائے کہ وہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے پھریں۔ یہ یاد رکھو کہ جو خرچ بھی تم اللہ کی رضا کی نیت سے کرو گے تو اس پر بھی تمہیں ثواب ملے گا۔ حتیٰ کہ اس لقمہ پر بھی جو تم اپنی بیوی کے منہ میں رکھو۔ پھر میں نے پوچھا کہ یا رسول اللہ! میرے ساتھی تو مجھے چھوڑ کر (حجتہ الوداع کر کے) مکہ سے جا رہے ہیں اور میں ان سے پیچھے رہ رہا ہوں۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہاں رہ کر بھی اگر تم کوئی نیک عمل کرو گے تو اس سے تمہارے درجے بلند ہوں گے اور شاید ابھی تم زندہ رہو گے اور بہت سے لوگوں کو (مسلمانوں کو) تم سے فائدہ پہنچے گا اور بہتوں کو (کفار و مرتدین کو) نقصان۔ (پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی) اے اللہ! میرے ساتھیوں کو ہجرت پر استقلال عطا فرما اور ان کے قدم پیچھے کی طرف نہ لوٹا۔ لیکن مصیبت زدہ سعد بن خولہ تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے مکہ میں وفات پا جانے کی وجہ سے اظہار غم کیا تھا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 1295]
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حجۃ الوداع کے سال جب کہ میں ایک سنگین مرض میں مبتلا تھا، میری عیادت کے لیے تشریف لائے۔ میں نے عرض کیا: میری بیماری کی انتہائی شدت کو تو آپ دیکھ ہی رہے ہیں، میں ایک مالدار آدمی ہوں مگر میری ایک بیٹی کے سوا میرا اور کوئی وارث نہیں۔ کیا میں اپنے مال سے دو تہائی خیرات کر سکتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں۔“ میں نے عرض کیا: کیا اپنا آدھا مال؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں۔“ میں نے پھر عرض کیا: کیا ایک تہائی خیرات کر دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک تہائی خیرات کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں اگرچہ ایک تہائی بھی زیادہ ہے۔ اپنے ورثاء کو مالدار چھوڑ کر جانا تمہارے لیے اس سے بہتر ہے کہ انہیں فقیر اور تنگ دست چھوڑ جاؤ اور وہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے پھریں۔ تم اللہ کی رضا جوئی کے لیے جو کچھ خرچ کرو گے اس کا اجر تمہیں ضرور ملے گا حتیٰ کہ جو لقمہ اپنی بیوی کے منہ میں دو گے اس کا بھی ثواب ملے گا۔“ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا میں بیماری کی وجہ سے اپنے ساتھیوں سے پیچھے رہ جاؤں گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم ہرگز پیچھے نہ رہو گے، جو نیک اعمال کرو گے ان سے تمہارے درجات میں اضافہ ہوتا چلا جائے گا اور تمہارا مرتبہ ان سے بلند ہوتا رہے گا اور شاید تم بعد تک زندہ رہو گے یہاں تک کہ بعض لوگوں کو تم سے نفع پہنچے گا اور کچھ لوگوں کو تمہاری وجہ سے نقصان ہو گا۔ «اللَّهُمَّ أَمْضِ لِأَصْحَابِي هِجْرَتَهُمْ، وَلَا تَرُدَّهُمْ عَلَى أَعْقَابِهِمْ» ”اے اللہ! میرے اصحاب رضی اللہ عنہم کی ہجرت کو کامل کر دے اور انہیں ایڑیوں کے بل نہ لوٹا۔“ یعنی انہیں مکہ میں موت نہ آئے۔ لیکن بیچارے سعد بن خولہ!“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے لیے اظہار رنج و غم کرتے تھے کہ وہ مکہ ہی میں انتقال کر گئے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 1295]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة