سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
32. بَابُ: فِدَاءِ الأُسَارَى
باب: (جنگی) قیدیوں کو فدیہ میں دینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2846
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ ، عَنْ إِيَاسِ بْنِ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ:" غَزَوْنَا مَعَ أَبِي بَكْرٍ هَوَازِنَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَفَّلَنِي جَارِيَةً مِنْ بَنِي فَزَارَةَ مِنْ أَجْمَلِ الْعَرَبِ عَلَيْهَا، قَشْعٌ لَهَا فَمَا كَشَفْتُ لَهَا عَنْ ثَوْبٍ، حَتَّى أَتَيْتُ الْمَدِينَةَ فَلَقِيَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي السُّوقِ، فَقَالَ:" لِلَّهِ أَبُوكَ! هَبْهَا لِي"، فَوَهَبْتُهَا لَهُ، فَبَعَثَ بِهَا فَفَادَى بِهَا أُسَارَى مِنْ أُسَارَى الْمُسْلِمِينَ كَانُوا بِمَكَّةَ".
سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ہم نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ قبیلہ ہوازن سے جنگ کی، تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے قبیلہ بنی فزارہ سے حاصل کی ہوئی ایک لونڈی مجھے بطور نفل (انعام) دی، وہ عرب کے خوبصورت ترین لوگوں میں سے تھی، اور پوستین پہنے ہوئی تھی، میں نے اس کا کپڑا بھی نہیں کھولا تھا کہ مدینہ آیا، بازار میں میری ملاقات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی شان، تمہارا باپ بھی کیا خوب آدمی تھا! یہ لونڈی مجھے دے دو، میں نے وہ آپ کو ہبہ کر دی، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ لونڈی ان مسلمانوں کے عوض فدیہ میں دے دی جو مکہ میں تھے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2846]
حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی قیادت میں قبیلہ ہوازن سے جنگ کی (اور فتح پائی)، انہوں نے بنو فزارہ کی ایک لڑکی انعام کے طور پر عطا فرمائی جو عرب کی انتہائی حسین عورتوں میں سے تھی۔ اس نے پرانی پوستین اوڑھ رکھی تھی۔ میں نے مدینہ پہنچ جانے تک اس کا کپڑا (اس کے جسم سے) ہٹا کر بھی نہ دیکھا۔ (مدینے میں) مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم بازار میں ملے تو فرمایا: ”تیرا بھلا ہو، یہ مجھے ہبہ کر دو۔“ میں نے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہبہ کر دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے (مکے) بھیج کر اس کے بدلے میں ان مسلمان قیدیوں کو چھڑا لیا جو مکے میں قید تھے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2846]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المغازي 14 (1755)، سنن ابی داود/الجہاد 134 (2697)، (تحفة الأشراف: 4515)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/ و 47، 51) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: معلوم ہوا کہ امام کسی کو کوئی چیز دے کر پھر اس کو واپس لے لے تو بھی جائز ہے جب اس میں کوئی مصلحت ہو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صفیہ رضی اللہ عنہا کو پہلے دحیہ رضی اللہ عنہ کو دیا تھا پھر ان سے واپس لے لیا۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم