سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
17. بَابُ: الظِّلاَلِ لِلْمُحْرِمِ
باب: محرم کے لیے سایہ کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2925
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ فُلَيْحٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ عُمَرَ بْنِ حَفْصٍ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا مِنْ مُحْرِمٍ يَضْحَى لِلَّهِ يَوْمَهُ، يُلَبِّي حَتَّى تَغِيبَ الشَّمْسُ، إِلَّا غَابَتْ بِذُنُوبِهِ، فَعَادَ كَمَا وَلَدَتْهُ أُمُّهُ".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”محرم (احرام باندھنے والا) جو چاشت کے وقت سے سورج ڈوبنے تک سارے دن اللہ کے لیے (دھوپ میں) لبیک کہتا رہے، تو سورج اس کے گناہوں کو ساتھ لے کر ڈوبے گا، اور وہ ایسا (بےگناہ) ہو جائے گا گویا اس کی ماں نے جنم دیا ہو“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2925]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو احرام والا اللہ کی رضا کے لیے دن بھر دھوپ میں «لَبَّيْكَ» ”میں حاضر ہوں“ پکارتا ہے حتیٰ کہ سورج غروب ہو جائے تو سورج اس کے گناہوں سمیت غروب ہوتا ہے (جس طرح سورج غروب ہو گیا، اس طرح اس کے گناہ ختم ہو گئے۔) اور وہ اس طرح (گناہوں سے پاک صاف) ہو جاتا ہے جیسے وہ اپنی ماں سے پیدا ہوا تھا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2925]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 2362، ومصباح الزجاجة: 1032)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/273) (ضعیف)» (سند میں عاصم بن عبید اللہ اور عاصم بن عمر بن حفص ضعیف راوی ہیں، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: 5018)۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف (ح 2928،انظر ص 342،371)
عاصم بن عمر: ضعيف
وعاصم بن عبيد اللّٰه: ضعيف
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 483
إسناده ضعيف (ح 2928،انظر ص 342،371)
عاصم بن عمر: ضعيف
وعاصم بن عبيد اللّٰه: ضعيف
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 483