یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
17. باب : الظلال للمحرم
باب: محرم کے لیے سایہ کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2925
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ فُلَيْحٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ عُمَرَ بْنِ حَفْصٍ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا مِنْ مُحْرِمٍ يَضْحَى لِلَّهِ يَوْمَهُ، يُلَبِّي حَتَّى تَغِيبَ الشَّمْسُ، إِلَّا غَابَتْ بِذُنُوبِهِ، فَعَادَ كَمَا وَلَدَتْهُ أُمُّهُ".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”محرم (احرام باندھنے والا) جو چاشت کے وقت سے سورج ڈوبنے تک سارے دن اللہ کے لیے (دھوپ میں) لبیک کہتا رہے، تو سورج اس کے گناہوں کو ساتھ لے کر ڈوبے گا، اور وہ ایسا (بےگناہ) ہو جائے گا گویا اس کی ماں نے جنم دیا ہو“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2925]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو احرام والا اللہ کی رضا کے لیے دن بھر دھوپ میں «لَبَّيْكَ» ”میں حاضر ہوں“ پکارتا ہے حتیٰ کہ سورج غروب ہو جائے تو سورج اس کے گناہوں سمیت غروب ہوتا ہے (جس طرح سورج غروب ہو گیا، اس طرح اس کے گناہ ختم ہو گئے۔) اور وہ اس طرح (گناہوں سے پاک صاف) ہو جاتا ہے جیسے وہ اپنی ماں سے پیدا ہوا تھا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2925]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 2362، ومصباح الزجاجة: 1032)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/273) (ضعیف)» (سند میں عاصم بن عبید اللہ اور عاصم بن عمر بن حفص ضعیف راوی ہیں، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: 5018)۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف (ح 2928،انظر ص 342،371)
عاصم بن عمر: ضعيف
وعاصم بن عبيد اللّٰه: ضعيف
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 483
إسناده ضعيف (ح 2928،انظر ص 342،371)
عاصم بن عمر: ضعيف
وعاصم بن عبيد اللّٰه: ضعيف
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 483
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن ابن ماجه |
2925
| ما من محرم يضحى لله يومه يلبي حتى تغيب الشمس إلا غابت بذنوبه فعاد كما ولدته أمه |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 2925 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2925
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
مذکورہ روایت محققین کے نزدیک ضعیف ہے، اس لیے سایہ ہوتے ہوئے محض اپنے آپ کو تکلیف دینے کے لیے دھوپ میں ٹھرے رہنا کوئی نیکی نہیں۔
ایک صحابہ نے دھوپ میں کھڑا رہنے خاموش رہنے اور روزہ رکھنے کی نیت کی تھی۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے روزہ پورا کرنے کی اجازت دی کھڑے رہنے اور سائے سے پرہیز کرنے کی اجازت نہ دی۔ (صحيح البخاري، الايمان والنذور، باب النذر فيما لا يملك و في معصية، حديث: 6704)
مطلب یہ ہے کہ دھوپ کے بجائے سائے میں ہوجانا احرام کے منافی عمل نہیں۔
فوائد و مسائل:
مذکورہ روایت محققین کے نزدیک ضعیف ہے، اس لیے سایہ ہوتے ہوئے محض اپنے آپ کو تکلیف دینے کے لیے دھوپ میں ٹھرے رہنا کوئی نیکی نہیں۔
ایک صحابہ نے دھوپ میں کھڑا رہنے خاموش رہنے اور روزہ رکھنے کی نیت کی تھی۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے روزہ پورا کرنے کی اجازت دی کھڑے رہنے اور سائے سے پرہیز کرنے کی اجازت نہ دی۔ (صحيح البخاري، الايمان والنذور، باب النذر فيما لا يملك و في معصية، حديث: 6704)
مطلب یہ ہے کہ دھوپ کے بجائے سائے میں ہوجانا احرام کے منافی عمل نہیں۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2925]
Sunan Ibn Majah Hadith 2925 in Urdu
عبد الله بن عامر العنزي ← جابر بن عبد الله الأنصاري