سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
33. بَابُ: الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الطَّوَافِ
باب: طواف کے بعد کی دو رکعت کا بیان۔
حدیث نمبر: 2958
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ كَثِيرِ بْنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ أَبِي وَدَاعَةَ السَّهْمِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ الْمُطَّلِبِ ، قَالَ:" رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا فَرَغَ مِنْ سَبْعِهِ، جَاءَ حَتَّى يُحَاذِيَ بِالرُّكْنِ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ فِي حَاشِيَةِ الْمَطَافِ، وَلَيْسَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الطُّوَّافِ أَحَدٌ"، قَالَ ابْن مَاجَةَ: هَذَا بِمَكَّةَ خَاصَّةً.
مطلب بن ابی وداعہ سہمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا جب آپ اپنے ساتوں پھیروں سے فارغ ہوئے حجر اسود کے بالمقابل آ کر کھڑے ہوئے، پھر مطاف کے کنارے میں دو رکعتیں پڑھیں اور آپ کے اور طواف کرنے والوں کے بیچ میں کوئی آڑ نہ تھی۔ ابن ماجہ کہتے ہیں: یہ (بغیر سترہ کے نماز پڑھنا) مکہ کے ساتھ خاص ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2958]
حضرت مطلب بن ابی وداعہ سہمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ سات چکروں سے فارغ ہوئے تو تشریف لے آئے حتیٰ کہ حجر اسود کے برابر آگئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مطاف (طواف کی جگہ) کے کنارے پر دو رکعتیں پڑھیں جب کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اور طواف کرنے والوں کے درمیان کوئی (سترہ) نہ تھا۔“ امام ابن ماجہ رحمہ اللہ نے فرمایا: ”یہ حکم (لوگوں کے نمازی کے آگے سے گزرتے رہنے کے باوجود نماز پڑھتے رہنا) صرف مکہ کے ساتھ خاص ہے (مسجد حرام میں یہ اجازت ہے اور کہیں نہیں)۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2958]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الحج 89 (2016)، سنن النسائی/القبلة 9 (759)، الحج 162 (2962)، (تحفة الأشراف: 11285)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/399) (ضعیف)» (سند میں کثیر بن مطلب مجہول راوی ہیں، نیز سند میں بھی اختلاف ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: 928)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (2016) نسائي (759،2962)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 484
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (2016) نسائي (759،2962)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 484
حدیث نمبر: 2959
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَعَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ ثَابِتٍ الْعَبْدِيِّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدِمَ، فَطَافَ بِالْبَيْتِ سَبْعًا، ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ" قَالَ وَكِيعٌ: يَعْنِي عِنْدَ الْمَقَامِ، ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الصَّفَا.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آ کر بیت اللہ کا سات بار طواف کیا، پھر طواف کی دونوں رکعتیں پڑھیں۔ وکیع کہتے ہیں: یعنی مقام ابراہیم کے پاس، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم صفا پہاڑی کی طرف نکلے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2959]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کعبہ کے گرد سات چکر لگائے، پھر دو رکعتیں پڑھیں۔“ (امام) وکیع نے فرمایا: ”مقام ابراہیم کے پاس۔“ پھر ”(مسجد سے) نکل کر صفا کی طرف تشریف لے گئے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2959]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الحج 104 (1691)، صحیح مسلم/الحج 28 (1234)، سنن النسائی/الحج 142 (2933)، (تحفة الأشراف: 7352)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الحج 24 (1805)، موطا امام مالک/الحج 37 (116)، مسند احمد (2/15، 85، 152، 3/309)، سنن الدارمی/المناسک 84 (1972) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
حدیث نمبر: 2960
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عُثْمَانَ الدِّمَشْقِيُّ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَابِرٍ " أَنَّهُ لَمَّا فَرَغَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ طَوَافِ الْبَيْتِ، أَتَى مَقَامَ إِبْرَاهِيمَ، فَقَالَ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَذَا مَقَامُ أَبِينَا إِبْرَاهِيمَ الَّذِي قَالَ اللَّهُ سُبْحَانَهُ: وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى سورة البقرة آية 125"، قَالَ الْوَلِيدُ: فَقُلْتُ لِمَالِكٍ: هَكَذَا قَرَأَهَا وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى سورة البقرة آية 125، قَالَ: نَعَمْ.
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ کے طواف سے فارغ ہوئے تو مقام ابراہیم کے پاس آئے، عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ ہمارے باپ ابراہیم کی جگہ ہے جس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: «واتخذوا من مقام إبراهيم مصلى» ”مقام ابراھیم کو نماز کی جگہ بناؤ“، ولید کہتے ہیں کہ میں نے مالک سے کہا: کیا اس کو اسی طرح (بکسر خاء) صیغہ امر کے ساتھ پڑھا؟ انہوں نے کہا: ہاں ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2960]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بیت اللہ کے طواف سے فارغ ہوئے تو مقام ابراہیم پر تشریف لے گئے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ”اللہ کے رسول! یہ ہمارے جد امجد حضرت ابراہیم علیہ السلام کا مقام ہے جس کے بارے میں اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ﴾ [سورة البقرة: 125] ”ابراہیم کے کھڑے ہونے کی جگہ کو نماز کی جگہ بناؤ۔“““ ولید بن مسلم رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: ”میں نے امام مالک رحمہ اللہ سے دریافت کیا: ”کیا (آپ کے استاد جعفر بن محمد رحمہ اللہ نے) یہ آیت اسی طرح پڑھی تھی ﴿وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ﴾ [سورة البقرة: 125] ؟“ انہوں نے فرمایا: ”ہاں۔““ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2960]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الحروف 1 (3969)، سنن الترمذی/الحج 38 (856)، سنن النسائی/الحج 163 (2964)، (تحفة الأشراف: 2595)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الحج 15 (1263)، سنن الدارمی/المناسک 34 (1892) (صحیح)» (یہ حدیث مکرر ہے، ملاحظہ ہو: 1008)
وضاحت: ۱؎: یہی قراءت مشہور ہے، اور بعضوں نے «واتخَذوا» خاء کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے، یہ صیغہ ماضی یعنی انہوں نے مقام ابراہیم کو مصلیٰ بنایا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح