سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
41. بَابُ : فَسْخِ الْحَجِّ
باب: حج کا احرام فسخ کر کے اس کو عمرہ میں تبدیل کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2983
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ أَبُو بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي مَنْصُورُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أُمِّهِ صَفِيَّةَ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ ، قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُحْرِمِينَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ كَانَ مَعَهُ هَدْيٌ فَلْيُقِمْ عَلَى إِحْرَامِهِ، وَمَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ فَلْيَحْلِلْ"، قَالَتْ: فَلَمْ يَكُنْ مَعِي هَدْيٌ فَأَحْلَلْتُ، وَكَانَ مَعَ الزُّبَيْرِ هَدْيٌ فَلَمْ يَحِلَّ، فَلَبِسْتُ ثِيَابِي، وَجِئْتُ إِلَى الزُّبَيْرِ، فَقَالَ: قُومِي عَنِّي، فَقُلْتُ: أَتَخْشَى أَنْ أَثِبَ عَلَيْكَ.
اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما کہتی ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ احرام باندھ کر نکلے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص کے ساتھ ہدی (قربانی کا جانور) ہو، وہ اپنے احرام پر قائم رہے، اور جس کے ساتھ ہدی نہ ہو وہ احرام کھول کر حلال ہو جائے“ اور میرے ساتھ ہدی کا جانور نہیں تھا چنانچہ میں نے احرام کھول دیا، اور زبیر رضی اللہ عنہ کے ساتھ ہدی کا جانور تھا تو انہوں نے احرام نہیں کھولا، میں نے اپنا کپڑا پہن لیا، اور زبیر رضی اللہ عنہ کے پاس آئی تو انہوں نے کہا: میرے پاس سے چلی جاؤ، میں نے کہا: کیا آپ ڈرتے ہیں کہ میں آپ پر کود پڑوں گی؟۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2983]
حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے بیان فرمایا: ”ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ احرام باندھ کر روانہ ہوئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کے پاس قربانی کا جانور ہے وہ احرام باندھے رہے اور جس کے پاس قربانی کا جانور نہیں وہ حلال ہو جائے (احرام کھول دے)۔“ حضرت اسماء رضی اللہ عنہا نے بیان فرمایا: ”میرے ساتھ قربانی کا جانور نہیں تھا اس لیے میں نے احرام کھول دیا اور (میرے شوہر) حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کے پاس قربانی کا جانور تھا اس لیے انہوں نے احرام نہ کھولا۔ میں نے اپنے (عام) کپڑے پہن لیے اور حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کے پاس چلی گئی۔ انہوں نے کہا: ”میرے پاس سے اٹھ جاؤ۔“ میں نے کہا: ”کیا آپ کو یہ خطرہ ہے کہ میں آپ پر کود پڑوں گی؟““ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2983]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الحج 29 (1236)، سنن النسائی/الحج 186 (2995)، (تحفة الأشراف: 15739)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/351) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح مسلم |
3002
| من كان معه هدي فليقم على إحرامه من لم يكن معه هدي فليحلل |
سنن ابن ماجه |
2983
| من كان معه هدي فليقم على إحرامه من لم يكن معه هدي فليحلل قالت فلم يكن معي هدي فأحللت وكان مع الزبير هدي فلم يحل فلبست ثيابي وجئت إلى الزبير فقال قومي عني فقلت أتخشى أن أثب عليك |
سنن النسائى الصغرى |
2995
| من لم يكن معه هدي فليحلل ومن كان معه هدي فليقم على إحرامه |
Sunan Ibn Majah Hadith 2983 in Urdu
صفية بنت شيبة القرشية ← أسماء بنت أبي بكر القرشية