سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
54. بَابُ: الْمَنْزَلِ بِعَرَفَةَ
باب: عرفات میں کہاں اترے؟
حدیث نمبر: 3009
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَعَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، أَنْبَأَنَا نَافِعُ بْنُ عُمَرَ الْجُمَحِيُّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ حَسَّانَ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَنْزِلُ بِعَرَفَةَ فِي وَادِي نَمِرَةَ. (حديث مرفوع) (حديث موقوف) قَالَ: فَلَمَّا قَتَلَ الْحَجَّاجُ ابْنَ الزُّبَيْرِ، أَرْسَلَ إِلَى ابْنِ عُمَرَ : أَيَّ سَاعَةٍ، كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرُوحُ فِي هَذَا الْيَوْمِ، قَالَ: إِذَا كَانَ ذَلِكَ رُحْنَا، فَأَرْسَلَ الْحَجَّاجُ رَجُلًا يَنْظُرُ أَيَّ سَاعَةٍ يَرْتَحِلُ، فَلَمَّا أَرَادَ ابْنُ عُمَرَ أَنْ يَرْتَحِلَ، قَالَ: أَزَاغَتِ الشَّمْسُ؟، قَالُوا: لَمْ تَزِغْ بَعْدُ، فَجَلَسَ ثُمَّ قَالَ: أَزَاغَتِ الشَّمْسُ؟، قَالُوا: لَمْ تَزِغْ بَعْدُ، فَجَلَسَ ثُمَّ قَالَ: أَزَاغَتِ الشَّمْسُ؟، قَالُوا: لَمْ تَزِغْ بَعْدُ، فَجَلَسَ ثُمَّ قَالَ: أَزَاغَتِ الشَّمْسُ؟، قَالُوا: نَعَمْ، فَلَمَّا قَالُوا: قَدْ زَاغَتْ، ارْتَحَلَ"، قَالَ وَكِيعٌ: يَعْنِي رَاحَ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عرفات کی وادی نمرہ میں ٹھہرتے، راوی کہتے ہیں: جب حجاج نے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کو قتل کیا، تو ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس یہ پوچھنے کے لیے آدمی بھیجا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آج کے دن کس وقت (نماز اور خطبہ کے لیے) نکلتے تھے؟ انہوں نے کہا: جب یہ وقت آئے گا تو ہم خود چلیں گے، حجاج نے ایک آدمی کو بھیجا کہ وہ دیکھتا رہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کب نکلتے ہیں؟ جب ابن عمر رضی اللہ عنہما نے چلنے کا ارادہ کیا، تو پوچھا: کیا سورج ڈھل گیا؟ لوگوں نے کہا: ابھی نہیں ڈھلا ہے، تو وہ بیٹھ گئے، پھر پوچھا: کیا اب ڈھل گیا؟ لوگوں نے کہا: ابھی نہیں ڈھلا ہے، پھر آپ بیٹھ گئے، پھر آپ نے کہا: کیا اب ڈھل گیا؟ لوگوں نے کہا: ہاں، تو جب لوگوں نے کہا: ہاں، تو وہ چلے۔ وکیع نے «ارتحل» کا معنی «راح» (چلے) بتایا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3009]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عرفات میں نمرہ میں ٹھہرتے تھے۔ حضرت سعید بن حسان بیان کرتے ہیں کہ جب حجاج نے حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا تو (اس کے بعد حج کے دوران میں) اس نے آدمی بھیج کر حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا: ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس دن کس وقت (عرفات کے میدان میں) جاتے تھے؟“ ابن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”جب وہ وقت آئے گا ہم روانہ ہو جائیں گے (اور تمہیں معلوم ہو جائے گا۔)“ حجاج نے ایک آدمی بھیجا کہ دیکھے وہ کس وقت روانہ ہوتے ہیں۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے جب (نمرہ سے) روانہ ہونے کا ارادہ کیا تو فرمایا: ”کیا سورج ڈھل گیا ہے؟“ لوگوں نے کہا: ”ابھی نہیں ڈھلا۔“ آپ بیٹھ گئے۔ (کچھ دیر بعد) پھر کہا: ”کیا سورج ڈھل گیا ہے؟“ لوگوں نے کہا: ”ابھی نہیں ڈھلا۔“ آپ بیٹھ گئے۔ (کچھ دیر بعد) پھر کہا: ”کیا سورج ڈھل گیا ہے؟“ لوگوں نے کہا: ”ابھی نہیں ڈھلا۔“ آپ بیٹھ گئے۔ (کچھ دیر بعد) پھر کہا: ”کیا سورج ڈھل گیا ہے؟“ لوگوں نے کہا: ”جی ہاں۔“ جب انہوں نے کہا: ”ڈھل گیا ہے“، تب حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ روانہ ہوئے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3009]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/المناسک 61 (1914)، (تحفة الأشراف: 7073)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الحج 87 (1660)، موطا امام مالک/الحج 64 (195)، مسند احمد (2/25) (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (1914)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 485
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (1914)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 485