🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
54. باب : المنزل بعرفة
باب: عرفات میں کہاں اترے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3009
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَعَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، أَنْبَأَنَا نَافِعُ بْنُ عُمَرَ الْجُمَحِيُّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ حَسَّانَ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَنْزِلُ بِعَرَفَةَ فِي وَادِي نَمِرَةَ. (حديث مرفوع) (حديث موقوف) قَالَ: فَلَمَّا قَتَلَ الْحَجَّاجُ ابْنَ الزُّبَيْرِ، أَرْسَلَ إِلَى ابْنِ عُمَرَ : أَيَّ سَاعَةٍ، كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرُوحُ فِي هَذَا الْيَوْمِ، قَالَ: إِذَا كَانَ ذَلِكَ رُحْنَا، فَأَرْسَلَ الْحَجَّاجُ رَجُلًا يَنْظُرُ أَيَّ سَاعَةٍ يَرْتَحِلُ، فَلَمَّا أَرَادَ ابْنُ عُمَرَ أَنْ يَرْتَحِلَ، قَالَ: أَزَاغَتِ الشَّمْسُ؟، قَالُوا: لَمْ تَزِغْ بَعْدُ، فَجَلَسَ ثُمَّ قَالَ: أَزَاغَتِ الشَّمْسُ؟، قَالُوا: لَمْ تَزِغْ بَعْدُ، فَجَلَسَ ثُمَّ قَالَ: أَزَاغَتِ الشَّمْسُ؟، قَالُوا: لَمْ تَزِغْ بَعْدُ، فَجَلَسَ ثُمَّ قَالَ: أَزَاغَتِ الشَّمْسُ؟، قَالُوا: نَعَمْ، فَلَمَّا قَالُوا: قَدْ زَاغَتْ، ارْتَحَلَ"، قَالَ وَكِيعٌ: يَعْنِي رَاحَ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عرفات کی وادی نمرہ میں ٹھہرتے، راوی کہتے ہیں: جب حجاج نے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کو قتل کیا، تو ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس یہ پوچھنے کے لیے آدمی بھیجا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آج کے دن کس وقت (نماز اور خطبہ کے لیے) نکلتے تھے؟ انہوں نے کہا: جب یہ وقت آئے گا تو ہم خود چلیں گے، حجاج نے ایک آدمی کو بھیجا کہ وہ دیکھتا رہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کب نکلتے ہیں؟ جب ابن عمر رضی اللہ عنہما نے چلنے کا ارادہ کیا، تو پوچھا: کیا سورج ڈھل گیا؟ لوگوں نے کہا: ابھی نہیں ڈھلا ہے، تو وہ بیٹھ گئے، پھر پوچھا: کیا اب ڈھل گیا؟ لوگوں نے کہا: ابھی نہیں ڈھلا ہے، پھر آپ بیٹھ گئے، پھر آپ نے کہا: کیا اب ڈھل گیا؟ لوگوں نے کہا: ہاں، تو جب لوگوں نے کہا: ہاں، تو وہ چلے۔ وکیع نے «ارتحل» کا معنی «راح» (چلے) بتایا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3009]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عرفات میں نمرہ میں ٹھہرتے تھے۔ حضرت سعید بن حسان بیان کرتے ہیں کہ جب حجاج نے حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا تو (اس کے بعد حج کے دوران میں) اس نے آدمی بھیج کر حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس دن کس وقت (عرفات کے میدان میں) جاتے تھے؟ ابن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جب وہ وقت آئے گا ہم روانہ ہو جائیں گے (اور تمہیں معلوم ہو جائے گا۔) حجاج نے ایک آدمی بھیجا کہ دیکھے وہ کس وقت روانہ ہوتے ہیں۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے جب (نمرہ سے) روانہ ہونے کا ارادہ کیا تو فرمایا: کیا سورج ڈھل گیا ہے؟ لوگوں نے کہا: ابھی نہیں ڈھلا۔ آپ بیٹھ گئے۔ (کچھ دیر بعد) پھر کہا: کیا سورج ڈھل گیا ہے؟ لوگوں نے کہا: ابھی نہیں ڈھلا۔ آپ بیٹھ گئے۔ (کچھ دیر بعد) پھر کہا: کیا سورج ڈھل گیا ہے؟ لوگوں نے کہا: ابھی نہیں ڈھلا۔ آپ بیٹھ گئے۔ (کچھ دیر بعد) پھر کہا: کیا سورج ڈھل گیا ہے؟ لوگوں نے کہا: جی ہاں۔ جب انہوں نے کہا: ڈھل گیا ہے، تب حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ روانہ ہوئے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3009]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/المناسک 61 (1914)، (تحفة الأشراف: 7073)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الحج 87 (1660)، موطا امام مالک/الحج 64 (195)، مسند احمد (2/25) (حسن)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (1914)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 485

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمن
Newعبد الله بن عمر العدوي ← عبد الله بن عمر العدوي
صحابي
👤←👥سعيد بن حسان القرشي
Newسعيد بن حسان القرشي ← عبد الله بن عمر العدوي
ثقة
👤←👥نافع بن عمر الجمحي، أبو معشر
Newنافع بن عمر الجمحي ← سعيد بن حسان القرشي
ثقة ثبت
👤←👥وكيع بن الجراح الرؤاسي، أبو سفيان
Newوكيع بن الجراح الرؤاسي ← نافع بن عمر الجمحي
ثقة حافظ إمام
👤←👥عمرو بن عبد الله الأودى، أبو عثمان
Newعمرو بن عبد الله الأودى ← وكيع بن الجراح الرؤاسي
ثقة
👤←👥علي بن محمد الكوفي، أبو الحسن
Newعلي بن محمد الكوفي ← عمرو بن عبد الله الأودى
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن أبي داود
1914
أراد ابن عمر أن يروح قالوا لم تزغ الشمس قال أزاغت قالوا لم تزغ أو زاغت قال فلما قالوا قد زاغت ارتحل
سنن ابن ماجه
3009
أراد ابن عمر أن يرتحل قال أزاغت الشمس قالوا لم تزغ بعد فجلس ثم قال أزاغت الشمس قالوا لم تزغ بعد فجلس ثم قال أزاغت الشمس قالوا لم تزغ بعد فجلس ثم قال أزاغت الشمس قالوا نعم فلما قالوا قد زاغت ارتحل
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن ابن ماجه
3009
ينزل بعرفة في وادي نمرة
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 3009 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3009
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
ہمارے فاضل محقق نے مذکورہ روایت کو سنداً ضعیف قراردیا ہے اور مزید لکھا ہے کہ اس کی اصل صحیح مسلم (1218)
میں ہے۔
نیز سنن ابو داؤد (اردو حديث: 1914۔
طبع دارالسلام)
کی تحقیق میں لکھتے ہیں کہ صحیح مسلم کی روایت اس سے کفایت کرتی ہے۔
علاوہ ازیں شیخ البانی ؒ نے اسے حسن قراردیا ہے۔
نیز مسند احمد کے محققین اس کی بابت لکھتے ہیں کہ مذکورہ روایت تو سنداً ضعیف ہے۔
لیکن دیگر صحیح روایات سے حدیث میں مذکور مسئلےکی تائید ہوتی ہے۔
کہ سورج ڈھلنے کے بعد عرفات کی حدود میں داخل ہونا چاہیے۔
لہٰذا مذکورہ روایت سنداً ضعیف ہونے کے باوجود دیگر شواہد کی بناء پر قابل عمل اور قابل حجت ہے۔
مزید تفصیل کے لیے دیکھیے: (الموسوعة الحديثية مسند الامام احمد 8/ 399، 400)
وصحيح أبي داؤد (مفصل)
حديث: 1672)

(2)
نو ذی الحجہ کو سورج ڈھلنے سے پہلے وادی نمرہ میں ٹھرنا چاہیے۔
یہ جگہ حرم کی حدود میں ہے اور عرفات سے مشرق میں ہے۔

(3)
سورج ڈھلنے کے بعد عرفات کی حدود میں داخل ہونا چاہیے۔
میدان عرفات حرم کی حدود سے باہر ہے۔

(4)
خلیفہ عبدالملک کو حجاج بن یوسف نے تحریری حکم نامہ جاری کیا تھا کہ حج کے مسائل میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کے فتوی کے مطابق عمل کیا جائے اس لیے اس نے ان سے پوچھ پوچھ کر عمل کیا۔ (صحيح البخاري، الحج، باب التهجير بالرواح يوم عرفة، حديث: 1660)

(5)
حکام کو چاہیے کہ علماء سے رہنمائی حاصل کریں اور لوگوں سے شریعت کے مطابق عمل کرائیں۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3009]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1914
(نمرہ سے) عرفات کے لیے نکلنے کا بیان۔
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جب حجاج نے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کو قتل کیا تو ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس (پوچھنے کے لیے آدمی) بھیجا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آج (یعنی عرفہ) کے دن (نماز اور خطبہ کے لیے) کس وقت نکلتے تھے؟ انہوں نے جواب دیا جب یہ وقت آئے گا تو ہم خود چلیں گے، پھر جب ابن عمر رضی اللہ عنہما نے چلنے کا ارادہ کیا تو لوگوں نے کہا: ابھی سورج ڈھلا نہیں، انہوں نے پوچھا: کیا اب ڈھل گیا؟ لوگوں نے کہا: ابھی نہیں ڈھلا، پھر جب لوگوں نے کہا کہ سورج ڈھل گیا تو وہ چلے۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1914]
1914. اردو حاشیہ: اصحاب کرامرضوان اللہ عنہم اجمعین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت شدہ عمل کی کسی جزئی کو بھی غیر اہم نہیں سمجھتے تھے ان کی انتہائی کوشش ہوتی تھی کہ سب پر من وعن عمل کیاجائے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1914]

Sunan Ibn Majah Hadith 3009 in Urdu