🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

67. بَابُ: تَأْخِيرِ رَمْيِ الْجِمَارِ مِنْ عُذْرٍ
باب: عذر کی بناء پر کنکریاں مارنے میں دیر کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3036
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ أَبِي الْبَدَّاحِ بْنِ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَخَّصَ لِلرِّعَاءِ أَنْ يَرْمُوا يَوْمًا، وَيَدَعُوا يَوْمًا".
عاصم بن عدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹ کے چرواہوں کو اجازت دی کہ وہ ایک دن رمی کریں، اور ایک دن کی رمی چھوڑ دیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3036]
حضرت ابو بداح عدی بن عاصم رضی اللہ عنہ اپنے والد (عاصم بن عدی بن جد رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چرواہوں کو اجازت دی کہ وہ ایک دن رمی کریں اور ایک دن چھوڑ دیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3036]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الحج 78 (1975 و 1976)، سنن الترمذی/الحج 108 (954، 955)، سنن النسائی/الحج 225 (3070)، (تحفة الأشراف: 5030)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الحج 72 (218)، مسند احمد (5/450)، سنن الدارمی/المناسک 58 (1938) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3037
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَنْبَأَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، ح وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي الْبَدَّاحِ بْنِ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ:" رَخَّصَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِرِعَاءِ الْإِبِلِ فِي الْبَيْتُوتَةِ أَنْ يَرْمُوا يَوْمَ النَّحْرِ، ثُمَّ يَجْمَعُوا رَمْيَ يَوْمَيْنِ بَعْدَ النَّحْرِ، فَيَرْمُونَهُ فِي أَحَدِهِمَا"، قَالَ مَالِكٌ: ظَنَنْتُ أَنَّهُ قَالَ: فِي الْأَوَّلِ مِنْهُمَا، ثُمَّ يَرْمُونَ يَوْمَ النَّفْرِ.
عاصم بن عدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹ کے چرواہوں کو رخصت دی کہ وہ یوم النحر (دسویں ذی الحجہ) کو رمی کر لیں، پھر یوم النحر کے بعد کے دو دنوں کی رمی ایک ساتھ جمع کر لیں، خواہ گیارہویں، بارہویں دونوں کی رمی بارہویں کو کریں، یا گیارہویں کو بارہویں کی بھی رمی کر لیں ۱؎۔ مالک بن انس کہتے ہیں کہ میرا خیال ہے کہ انہوں نے کہا: پہلے دن رمی کریں پھر جس دن کوچ کرنے لگیں اس دن کر لیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3037]
حضرت ابو بداح عدی بن عاصم رضی اللہ عنہ اپنے والد (حضرت عاصم بن عدی بن جد رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹوں کے چرواہے کو رات گزارنے کے بارے میں رعایت دی کہ وہ قربانی کے دن رمی کریں، پھر قربانی کے بعد دو دن کی رمی اکٹھی کسی ایک دن (گیارہ یا بارہ تاریخ کو) کر لیں۔ امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: میرا خیال ہے کہ راوی نے یہ کہا تھا: دو دنوں میں سے پہلے دن (گیارہ ذوالحجہ کو) رمی کر لیں، اس کے بعد واپسی کے دن (تیرہ ذوالحجہ کو) رمی کر لیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3037]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «أنظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 5030) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: کیونکہ وہ اونٹ چرانے کے لیے منیٰ سے دور چلے جاتے ہیں، ان کو روزی روٹی کے لیے منیٰ میں آنا دشوار ہے، اس لیے دونوں کی رمی ایک دن آ کر کر سکتے ہیں، مثلاً یوم النحر کو رمی کر کے چلے جائیں پھر ۱۱ ذی الحجہ کو نہ کریں،۱۲ کو آ کر دونوں دن کی رمی ایک بار لیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں