سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
90. بَابُ: جَزَاءِ الصَّيْدِ يُصِيبُهُ الْمُحْرِمُ
باب: اگر محرم شکار کرے تو اس کے کفارہ کا بیان۔
حدیث نمبر: 3085
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ:" جَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الضَّبُعِ يُصِيبُهُ الْمُحْرِمُ كَبْشًا، وَجَعَلَهُ مِنَ الصَّيْدِ".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے محرم کے شکار کئے ہوئے بجو کے کفارہ میں ایک مینڈھا متعین فرمایا، اور اسے شکار قرار دیا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3085]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”اگر احرام والا آدمی لگڑ بگھا (بھیڑے جیسا ایک خونخوار جانور) مار دے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر ایک مینڈھے کی قربانی دینا لازم کیا ہے اور اس جانور کو شکار قرار دیا ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3085]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الأطعمة 32 (3801)، سنن الترمذی/الحج 28 (851)، الاطعمة 4 (1792)، سنن النسائی/الحج 89 (2839)، الصید 27 (4328)، (تحفة الأشراف: 2381)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/297، 318، 322)، سنن الدارمی/المناسک 90 (1984) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: محرم کو خشکی کا شکار کرنا جائز نہیں ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
حدیث نمبر: 3086
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الْقَطَّانُ الْوَاسِطِيُّ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ ، عَنْ أَبِي الْمُهَزِّمِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" فِي بَيْضِ النَّعَامِ يُصِيبُهُ الْمُحْرِمُ ثَمَنُهُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شتر مرغ کے انڈوں کے بارے میں جو محرم کو ملیں، فرمایا: ”اسے اس کی قیمت دینی ہو گی“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3086]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، اگر احرام والا شتر مرغ کا انڈا توڑ دے تو اس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”اس کی قیمت ادا کرے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3086]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 14835، ومصباح الزجاجة: 1070) (ضعیف)» (سند میں ابوالمہزم ضعیف، اور علی بن عبدالعزیز مجہول ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
أبو المهزم:متروك
وعلي بن عبدالعزيز ھو علي بن غراب مدلس
وللحديث شواهد ضعيفة
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 487
إسناده ضعيف
أبو المهزم:متروك
وعلي بن عبدالعزيز ھو علي بن غراب مدلس
وللحديث شواهد ضعيفة
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 487