🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

91. بَابُ: مَا يَقْتُلُ الْمُحْرِمُ
باب: محرم کو کون سا جانور قتل کرنا جائز ہے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3087
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، سَمِعْتُ قَتَادَةَ ، يُحَدِّثُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" خَمْسٌ فَوَاسِقُ يُقْتَلْنَ فِي الْحِلِّ وَالْحَرَمِ: الْحَيَّةُ، وَالْغُرَابُ الْأَبْقَعُ، وَالْفَأْرَةُ، وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ، وَالْحِدَأَةُ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پانچ موذی جانور ہیں جنہیں حرم اور حرم سے باہر دونوں جگہوں میں قتل کیا جائے گا: سانپ، چتکبرا کوا، چوہیا، کاٹنے والا کتا، اور چیل۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3087]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پانچ جانور فاسق ہیں، انہیں حرم سے باہر اور حرم کے اندر (ہر جگہ) قتل کیا جا سکتا ہے: سانپ، چتکبرا کوا، چوہا، کاٹنے والا کتا اور چیل۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3087]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الحج 9 (1198)، سنن النسائی/الحج 83 (2832)، 113 (2884)، 114 (2885)، (تحفة الأشراف: 16122)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/جزاء الصید 7 (1829)، بدأ الخلق 16 (3314)، سنن الترمذی/الحج 21 (837)، مسند احمد (6/23، 87، 97، 112، 164، 203، 259، 261)، سنن الدارمی/المناسک 19 (1858) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3088
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" خَمْسٌ مِنَ الدَّوَابِّ لَا جُنَاحَ عَلَى مَنْ قَتَلَهُنَّ، أَوْ قَالَ فِي قَتْلِهِنَّ وَهُوَ حَرَامٌ: الْعَقْرَبُ، وَالْغُرَابُ، وَالْحُدَأَةُ، وَالْفَأْرَةُ، وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پانچ قسم کے جانور ہیں جنہیں احرام کی حالت میں مارنے میں گناہ نہیں: بچھو، کوا، چیل، چوہیا اور کاٹ کھانے والا کتا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3088]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پانچ جانور ہیں جن کے قتل کرنے والے پر (یا فرمایا: جن کے قتل کرنے میں) کوئی گناہ نہیں اور وہ احرام میں ہیں: بچھو، کوا، چوہا اور کاٹنے والا کتا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3088]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الحج 9 (1199)، (تحفة الأشراف: 7946)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/جزاء الصید 7 (1826)، بدء الخلق 16 (3315)، سنن ابی داود/الحج 40 (1846)، سنن النسائی/الحج 88 (2838)، موطا امام مالک/الحج 28 (88)، حم2/8، 32، 37، 48، 50، 52، 54، 57، 65، 77، سنن الدارمی/المناسک 19 (1857) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: علماء نے اس پر اور موذی جانوروں کو قیاس کیا ہے، جیسے چھچھوندر اور کاٹنے والے زہریلے کیڑے،اور پھاڑنے والے درندے جیسے شیر یا بھیڑیا یا ریچھ وغیرہ۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3089
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، عَنْ ابْنِ أَبِي نُعْمٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ:" يَقْتُلُ الْمُحْرِمُ: الْحَيَّةَ، وَالْعَقْرَبَ، وَالسَّبُعَ الْعَادِيَ، وَالْكَلْبَ الْعَقُورَ، وَالْفَأْرَةَ الْفُوَيْسِقَةَ"، فَقِيلَ لَهُ: لِمَ قِيلَ لَهَا الْفُوَيْسِقَةُ؟، قَالَ:" لِأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَيْقَظَ لَهَا، وَقَدْ أَخَذَتِ الْفَتِيلَةَ لِتُحْرِقَ بِهَا الْبَيْتَ".
ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: محرم سانپ، بچھو، حملہ آور درندے، کاٹ کھانے والے کتے، اور فسادی چوہیا کو قتل کر سکتا ہے، ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا: اسے فسادی کیوں کہا گیا؟ کہا: اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی وجہ سے جاگتے رہے، وہ بتی لے گئی تھی تاکہ گھر میں آگ لگا دے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3089]
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: احرام والا شخص ان جانوروں کو قتل کر سکتا ہے: سانپ، بچھو، حملہ کرنے والا درندہ، کاٹنے والا کتا اور فاسق چوہیا۔ کسی نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے کہا: اسے فاسق کیوں کہا گیا ہے؟ انہوں نے فرمایا: اس لیے کہ (ایک رات) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھ کھلی تو اس نے (چراغ کی جلتی ہوئی) بتی پکڑ رکھی تھی (اور ممکن تھا) کہ گھر کو آگ لگا دے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3089]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 4133، ومصباح الزجاجة: 1071)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/المناسک 40 (1848)، سنن الترمذی/الحج 21 (838)، مسند احمد (3/3، 42، 79) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (سند میں یزید بن أبی زیاد ضعیف ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (1848) ترمذي (838)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 487

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں