سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. بَابُ: أَضَاحِيِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قربانی کا بیان۔
حدیث نمبر: 3120
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، سَمِعْتُ قَتَادَةَ ، يُحَدِّثُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُضَحِّي بِكَبْشَيْنِ أَمْلَحَيْنِ أَقْرَنَيْنِ وَيُسَمِّي وَيُكَبِّرُ، وَلَقَدْ رَأَيْتُهُ يَذْبَحُ بِيَدِهِ وَاضِعًا قَدَمَهُ عَلَى صِفَاحِهِمَا".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دو چتکبرے سینگ دار مینڈھوں کی قربانی کرتے، (ذبح کے وقت) «بسم الله» اور «الله أكبر» کہتے تھے، اور میں نے آپ کو اپنا پاؤں جانور کے پٹھوں پر رکھ کر اپنے ہاتھوں سے ذبح کرتے ہوئے دیکھا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كِتَابُ الْأَضَاحِي/حدیث: 3120]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دو چتکبرے اور سینگوں والے مینڈھوں کی قربانی دیا کرتے تھے، اور (ذبح کرتے وقت) «بِسْمِ اللّٰهِ وَاللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ کے نام کے ساتھ اور اللہ سب سے بڑا ہے“ پڑھتے تھے۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو، ان کی گردن پر قدم مبارک رکھ کر اپنے ہاتھ سے انہیں ذبح کرتے دیکھا۔ [سنن ابن ماجه/كِتَابُ الْأَضَاحِي/حدیث: 3120]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأضاحي 9 (5558)، صحیح مسلم/الأضاحي 3 (1966)، سنن النسائی/الضحایا 27 (4420)، (تحفة الأشراف: 1250)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الأضاحي 2 (1494)، مسند احمد (3/99، 115، 170، 178، 183، 189، 211، 214، 222، 255، 258، 267، 272، 279، 281)، سنن الدارمی/الأضاحي 1 (1988) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: «أضاحی» : «اضحیہ» کی جمع ہے اور «ضحایا» جمع ہے «ضحیۃ» کی اور «اضحی» جمع ہے «اضحاۃ» کی، اسی لئے دوسری عید (عید قربان) کو عیدالاضحی کہا جاتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
حدیث نمبر: 3121
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاق ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي عَيَّاشٍ الزُّرَقِيِّ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: ضَحَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ عِيدٍ بِكَبْشَيْنِ، فَقَالَ حِينَ وَجَّهَهُمَا:" إِنِّي وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ، إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ اللَّهُمَّ مِنْكَ وَلَكَ عَنْ مُحَمَّدٍ وَأُمَّتِهِ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عید الاضحی کے دن دو مینڈھوں کی قربانی کی، اور جس وقت ان کا منہ قبلے کی طرف کیا تو فرمایا: «إني وجهت وجهي للذي فطر السموات والأرض حنيفا وما أنا من المشركين إن صلاتي ونسكي ومحياي ومماتي لله رب العالمين لا شريك له وبذلك أمرت وأنا أول المسلمين اللهم منك ولك عن محمد وأمته» ”میں اپنا رخ اس ذات کی طرف کرتا ہوں جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا، اور میں شرک کرنے والوں میں سے نہیں ہوں، بیشک میری نماز، میری قربانی، میرا جینا اور مرنا سب اللہ ہی کے لیے ہے، جو سارے جہان کا رب ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اور مجھے اسی کا حکم ہے اور سب سے پہلے میں اس کے تابعداروں میں سے ہوں، اے اللہ! یہ قربانی تیری ہی طرف سے ہے، اور تیرے ہی واسطے ہے، محمد اور اس کی امت کی طرف سے اسے قبول فرما“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كِتَابُ الْأَضَاحِي/حدیث: 3121]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عید کے دن جو مینڈھے قربان کیے جب انہیں قبلہ رخ کیا تو فرمایا: ﴿إِنِّي وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ﴾ [سورة الأنعام: 79] ﴿إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ لَا شَرِيكَ لَهُ وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ﴾ [سورة الأنعام: 162-163] «اللَّهُمَّ مِنْكَ وَلَكَ عَنْ مُحَمَّدٍ وَأُمَّتِهِ» ”میں نے یکسو ہو کر اپنا چہرہ اللہ کی طرف کر لیا جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور میں مشرکین میں سے نہیں۔ بے شک میری نماز، میری قربانی، میری موت اللہ کے لیے ہے جو سارے جہانوں کا مالک ہے، اس کا کوئی شریک نہیں۔ مجھے اسی بات کا حکم دیا گیا ہے اور میں سب سے پہلا فرماں بردار ہوں۔ اے اللہ! یہ جانور تجھی سے ملا اور تیرے ہی لیے قربان کیا۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کی امت سے۔““ [سنن ابن ماجه/كِتَابُ الْأَضَاحِي/حدیث: 3121]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الأضاحي 4 (2795)، سنن الترمذی/الأضاحي 22 (1521)، (تحفة الأشراف: 3166)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/356، 362)، سنن الدارمی/الأضاحي 1 (1989) (حسن) (ملاحظہ ہو: ابو داود: 2795، تعلیق، صحیح أبی داود: 2491/8 /142)۔»
وضاحت: ۱؎: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مینڈھوں کو ذبح کیا ورنہ ایک مینڈھا یا ایک بکری سارے گھروالوں کی طرف سے کافی ہے جیسا کہ آگے آئے گا، اس کی وجہ یہ تھی کہ ایک مینڈھا اپنے گھر والوں کی طرف سے ذبح کیا، اور دوسرا اپنی امت کی طرف سے، اب اور لوگ جو قربانی کریں ان کو صرف ایک مینڈھا ذبح کرنا کافی ہے، اور جس قدر عمدہ، اور موٹا تازہ ہو اتنا ہی افضل اور بہتر ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
حدیث نمبر: 3122
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يُضَحِّيَ، اشْتَرَى كَبْشَيْنِ عَظِيمَيْنِ سَمِينَيْنِ أَقْرَنَيْنِ أَمْلَحَيْنِ مَوْجُوءَيْنِ، فَذَبَحَ أَحَدَهُمَا عَنْ أُمَّتِهِ لِمَنْ شَهِدَ لِلَّهِ بِالتَّوْحِيدِ وَشَهِدَ لَهُ بِالْبَلَاغِ، وَذَبَحَ الْآخَرَ عَنْ مُحَمَّدٍ وَعَنْ آلِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ام المؤمنین عائشہ اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب قربانی کا ارادہ فرماتے تو دو بڑے، موٹے سینگ دار، چتکبرے، خصی کئے ہوئے مینڈھے خریدتے، ان میں سے ایک اپنی امت کے ان لوگوں کی طرف سے ذبح فرماتے، جو اللہ کی توحید اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کی گواہی دیتے ہیں، اور دوسرا محمد اور آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ذبح فرماتے۔ [سنن ابن ماجه/كِتَابُ الْأَضَاحِي/حدیث: 3122]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب قربانی کرنا چاہتے تو دو بڑے بڑے، موٹے تازے، سینگوں والے، چتکبرے اور خصی مینڈھے خریدتے۔ ایک اپنی امت کی طرف سے ذبح فرماتے، یعنی امت کے ہر اس فرد کی طرف سے جو اللہ کی گواہی دیتا ہو اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغام پہنچانے (اور رسول ہونے) کی گواہی دیتا ہو۔ اور دوسرا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی آل کی طرف سے ذبح کرتے۔“ [سنن ابن ماجه/كِتَابُ الْأَضَاحِي/حدیث: 3122]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 14968، 17731، ومصباح الزجاجة: 1083)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/220) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ابن عقيل ضعيف
و سفيان الثوري عنعن
و للحديث شواھد ضعيفة
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 488
إسناده ضعيف
ابن عقيل ضعيف
و سفيان الثوري عنعن
و للحديث شواھد ضعيفة
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 488