سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
18. بَابُ: الشُّرْبِ بِثَلاَثَةِ أَنْفَاسٍ
باب: پانی تین سانس میں پینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3416
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِيٍّ , حَدَّثَنَا عَزْرَةُ بْنُ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِيُّ , عَنْ ثُمَامَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , عَنْ أَنَسٍ , أَنَّهُ كَانَ يَتَنَفَّسُ فِي الْإِنَاءِ ثَلَاثًا , وَزَعَمَ أَنَسٌ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَانَ يَتَنَفَّسُ فِي الْإِنَاءِ ثَلَاثًا".
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ برتن سے تین سانسوں میں پیتے اور کہتے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی تین سانسوں میں پیا کرتے تھے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأشربة/حدیث: 3416]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ برتن میں تین بار سانس لیتے تھے، اور حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بیان فرمایا کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم برتن میں تین بار سانس لیتے تھے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الأشربة/حدیث: 3416]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأشربة 66 (5631)، صحیح مسلم/الأشربة 16 (2028)، سنن الترمذی/الأشربة 13 (1884)، (تحفة الأشراف: 498)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الأشربة 19 (3728)، مسند احمد (3/114، 119، 128، 185)، سنن الدارمی/الأشربة 20 (2166) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: تین سانس میں پانی پینا مستحب ہے، مگر ضروری ہے کہ جب سانس لے تو برتن کو اپنے منہ سے علیحدہ کر لے، اور دوسری حدیث میں جو برتن میں سانس لینے سے منع کیا ہے اس کا یہی مطلب ہے کہ برتن منہ سے لگا ہو، اور سانس لے یہ مکروہ ہے، اس لئے کہ پانی ناک میں چڑھ جانے کا ڈر ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
حدیث نمبر: 3417
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ , وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ , قَالَا: حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ , حَدَّثَنَا رِشْدِينُ بْنُ كُرَيْبٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" شَرِبَ فَتَنَفَّسَ فِيهِ مَرَّتَيْنِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی پیا، تو آپ نے دوبار سانس لی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأشربة/حدیث: 3417]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے (پانی) پیا تو اس میں دو بار سانس لیا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الأشربة/حدیث: 3417]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الأشربة 14 (1886)، (تحفة الأشراف: 6347)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/284، 285) (ضعیف)» (رشدین بن کریب ضعیف راوی ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (1886)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 499
إسناده ضعيف
ترمذي (1886)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 499