سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
39. بَابُ: تَعْلِيقِ التَّمَائِمِ
باب: تعویذ لٹکانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3530
حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّقِّيُّ , حَدَّثَنَا مُعَمَّرُ بْنُ سُلَيْمَانَ , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بِشْرٍ , عَنْ الْأَعْمَشِ , عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ , عَنْ يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ , عَنْ ابْنِ أُخْتِ زَيْنَبَ امْرَأَةِ عَبْدِ اللَّهِ , عَنْ زَيْنَبَ , قَالَتْ: كَانَتْ عَجُوزٌ تَدْخُلُ عَلَيْنَا تَرْقِي مِنَ الْحُمْرَةِ , وَكَانَ لَنَا سَرِيرٌ طَوِيلُ الْقَوَائِمِ , وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ إِذَا دَخَلَ تَنَحْنَحَ وَصَوَّتَ , فَدَخَلَ يَوْمًا فَلَمَّا سَمِعَتْ صَوْتَهُ احْتَجَبَتْ مِنْهُ , فَجَاءَ فَجَلَسَ إِلَى جَانِبِي فَمَسَّنِي فَوَجَدَ مَسَّ خَيْطٍ , فَقَالَ: مَا هَذَا؟ فَقُلْتُ: رُقًى لِي فِيهِ مِنَ الْحُمْرَةِ , فَجَذَبَهُ وَقَطَعَهُ فَرَمَى بِهِ , وَقَالَ: لَقَدْ أَصْبَحَ آلُ عَبْدِ اللَّهِ أَغْنِيَاءَ عَنِ الشِّرْكِ , سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ:" إِنَّ الرُّقَى وَالتَّمَائِمَ وَالتِّوَلَةَ شِرْكٌ" , قُلْتُ: فَإِنِّي خَرَجْتُ يَوْمًا فَأَبْصَرَنِي فُلَانٌ فَدَمَعَتْ عَيْنِي الَّتِي تَلِيهِ , فَإِذَا رَقَيْتُهَا سَكَنَتْ دَمْعَتُهَا وَإِذَا تَرَكْتُهَا دَمَعَتْ , قَالَ: ذَاكِ الشَّيْطَانُ إِذَا أَطَعْتيِهِ تَرَكَكِ , وَإِذَا عَصَيْتِيِهِ طَعَنَ بِإِصْبَعِهِ فِي عَيْنِكِ , وَلَكِنْ لَوْ فَعَلْتِ كَمَا فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , كَانَ خَيْرًا لَكِ وَأَجْدَرَ أَنْ تُشْفَيْنَ تَنْضَحِينَ فِي عَيْنِكِ الْمَاءَ , وَتَقُولِينَ:" أَذْهِبْ الْبَاسْ رَبَّ النَّاسْ , اشْفِ أَنْتَ الشَّافِي , لَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَاؤُكَ , شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا".
زینب زوجہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتی ہیں کہ ہمارے پاس ایک بڑھیا آیا کرتی تھیں، وہ «حمرہ» ۱؎ کا دم کرتی تھیں، ہمارے پاس بڑے پایوں کی ایک چارپائی تھی، اور عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا معمول تھا کہ جب گھر آتے تو کھنکھارتے اور آواز دیتے، ایک دن وہ گھر کے اندر آئے جب اس بڑھیا نے ان کی آواز سنی تو ان سے پردہ کر لیا، عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ آ کر میری ایک جانب بیٹھ گئے اور مجھے چھوا تو ان کا ہاتھ ایک گنڈے سے جا لگا، پوچھا: یہ کیا ہے؟ میں نے عرض کیا: یہ سرخ بادے ( «حمرہ») کے لیے دم کیا ہوا گنڈا ہے، یہ سن کر انہوں نے اسے کھینچا اور کاٹ کر پھینک دیا اور کہا: عبداللہ کے گھرانے کو شرک کی حاجت نہیں ہے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ”دم، تعویذ، گنڈے اور ٹونا شرک ہیں“ ۱؎، ایک دن میں باہر نکلی تو مجھ پر فلاں شخص کی نظر پڑ گئی، تو میری اس آنکھ سے جو اس سے قریب تر تھی آنسو بہہ نکلے، جب میں اس پر دم کرتی تو اس کے آنسو رک جاتے، اور جب میں دم کرنا چھوڑ دیتی تو آنسو بہنے لگتے، انہوں نے کہا: یہی تو شیطان ہے، جب تم اس کی اطاعت کرتی ہو تو وہ تم کو چھوڑ دیتا ہے، اور جب تم اس کی نافرمانی کرتی ہو تو وہ تمہاری آنکھ میں اپنی انگلی چبھو دیتا ہے، لیکن اگر تم وہ عمل کرتیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے موقع پر کیا تو تمہارے حق میں بہتر ہوتا، اور تم ٹھیک ہو جاتیں، تم اپنی آنکھ میں پانی کے چھینٹے مارا کرو، اور یہ دعا پڑھا کرو: «أذهب الباس رب الناس اشف أنت الشافي لا شفاء إلا شفاؤك شفاء لا يغادر سقما» ”اے لوگوں کے رب، مصیبت دور فرما، شفاء عطا کر، تو ہی شفاء عطا کرنے والا ہے، تیری شفاء کے سوا اور کوئی شفاء ہے بھی نہیں، ایسی شفاء دے کہ کوئی بیماری باقی رہ نہ جائے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3530]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی اہلیہ حضرت زینب (بنت معاویہ ثقفیہ) رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”ہمارے ہاں ایک بڑھیا آیا کرتی تھی، وہ سرخ باد کا دم کیا کرتی تھی۔ اور ہمارے پاس لمبے پایوں والی ایک چار پائی تھی۔ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ جب گھر میں داخل ہوتے تو (پہلے) کھانستے اور آواز دیتے (پھر اندر داخل ہوتے)۔ ایک دن وہ تشریف لائے، جب اس (بڑھیا) نے ان کی آواز سنی تو ان سے پردہ کر لیا۔ وہ آ کر میرے پاس بیٹھ گئے، انہوں نے مجھے ہاتھ لگایا تو انہیں دھاگا محسوس ہوا (جو میں نے گلے میں ڈالا ہوا تھا)۔ انہوں نے کہا: ”یہ کیا ہے؟“ میں نے کہا: ”اس میں مجھے سرخ باد کا دم کر کے دیا گیا ہے۔“ انہوں نے اسے کھینچ لیا اور توڑ کر پھینک دیا اور فرمایا: ”عبداللہ کے گھر والوں کو شرک کی کوئی ضرورت نہیں۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: ”دم جھاڑ، تعویذ اور حب کا عمل (یہ سب) شرک ہیں۔““ میں نے کہا: ”میں ایک دن (گھر سے) نکلی تو فلاں شخص نے مجھے دیکھ لیا، میری جو آنکھ اس کی طرف تھی، اس سے پانی بہنے لگا۔ جب میں دم کرواتی تو پانی رک جاتا، جب میں (دم کرائے بغیر) چھوڑ دیتی تو اس سے پانی بہنے لگتا۔“ انہوں نے کہا: ”وہ شیطان تھا، جب تو اس کی مرضی کا کام کرتی تھی، وہ تجھے چھوڑ دیتا، جب اس کی مرضی کے خلاف کرتی، وہ تیری آنکھ میں انگلی مار دیتا۔ لیکن اگر تو وہ کام کرتی جو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا تو تیرے لیے بہتر ہوتا اور تجھے ضرور شفا مل جاتی۔ تو اپنی آنکھ پر پانی کے چھینٹے مار اور کہہ: «أَذْهِبِ الْبَأْسَ رَبَّ النَّاسِ، وَاشْفِ أَنْتَ الشَّافِي، اشْفِ شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا» ”بیماری دور کر دے، اے لوگوں کے رب! اور شفا دے دے، تو ہی شفا دینے والا ہے، تیری شفا کے سوا کوئی شفا نہیں، ایسی شفا دے کہ بیماری کو بالکل باقی نہ رہے۔“““ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3530]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 9643، مصباح الزجاجة: 1231)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الطب 17 (3883)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/381) (ضعیف) (تراجع الألبانی: رقم: 142)»
وضاحت: ۱؎: «حمرۃ» : ایک بیماری جس میں جسم پر سرخ دانے نکل آتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (3883)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 504
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (3883)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 504
حدیث نمبر: 3531
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي الْخَصِيبِ , حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , عَنْ مُبَارَكٍ , عَنْ الْحَسَنِ , عَنْ عِمْرَانَ بْنِ الْحُصَيْنِ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , رَأَى رَجُلًا فِي يَدِهِ حَلْقَةٌ مِنْ صُفْرٍ , فَقَالَ:" مَا هَذِهِ الْحَلْقَةُ؟" , قَالَ: هَذِهِ مِنَ الْوَاهِنَةِ , قَالَ:" انْزِعْهَا فَإِنَّهَا لَا تَزِيدُكَ إِلَّا وَهْنًا".
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دیکھا کہ اس کے ہاتھ میں پیتل کا ایک کڑا ہے، پوچھا: یہ کیسا کڑا ہے، اس نے جواب دیا: یہ واہنہ ۱؎ کی بیماری سے بچنے کے لیے ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے اتارو، اس لیے کہ یہ تمہارے اندر مزید وہن (کمزوری) پیدا کر دے گا“ ۲؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3531]
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کے ہاتھ میں پیتل کا حلقہ (چھلا یا کڑا) دیکھا تو فرمایا: ”یہ حلقہ کیسا ہے؟“ اس نے کہا: یہ «الْوَاهِنَةُ» (واہنہ کی بیماری) کی وجہ سے ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے اتار دے، اس سے تیری کمزوری میں اضافہ ہی ہوگا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3531]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 10807، ومصباح الزجاجة: 1232)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/445 (ضعیف)» (مبارک بن فضالہ اور حسن بصری دونوں مدلس ہیں، روایت عنعنہ سے کی ہے)
وضاحت: ۱؎: «واہنہ» : وہ ریاحی درد ہے جو بازو وغیرہ میں ہوتا ہے جس سے کمزوری محسوس ہوتی ہے۔
۲؎: تعویذ گنڈا، جادو منتر اور اسی طرح کا ہر وہ عمل جو کتاب اللہ اور سنت رسول سے ثابت نہ ہو حرام و ناجائز ہے۔
۲؎: تعویذ گنڈا، جادو منتر اور اسی طرح کا ہر وہ عمل جو کتاب اللہ اور سنت رسول سے ثابت نہ ہو حرام و ناجائز ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
مبارك بن فضالة مدلس و عنعن
وصرح بسماع الحسن من عمران وھو شاذ،وسنده ضعيف من أجل عنعنة مبارك والحسن البصري
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 504
إسناده ضعيف
مبارك بن فضالة مدلس و عنعن
وصرح بسماع الحسن من عمران وھو شاذ،وسنده ضعيف من أجل عنعنة مبارك والحسن البصري
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 504