🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

40. بَابُ: النُّشْرَةِ
باب: آسیب (جن) کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3532
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ , عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ , عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْأَحْوَصِ , عَنْ أُمِّ جُنْدُبٍ , قَالَتْ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ مِنْ بَطْنِ الْوَادِي يَوْمَ النَّحْرِ , ثُمَّ انْصَرَفَ وَتَبِعَتْهُ امْرَأَةٌ مِنْ خَثْعَمٍ , وَمَعَهَا صَبِيٌّ لَهَا , بِهِ بَلَاءٌ لَا يَتَكَلَّمُ , فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّ هَذَا ابْنِي وَبَقِيَّةُ أَهْلِي وَإِنَّ بِهِ بَلَاءً لَا يَتَكَلَّمُ , فَقَالَ: رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ائْتُونِي بِشَيْءٍ مِنْ مَاءٍ" , فَأُتِيَ بِمَاءٍ فَغَسَلَ يَدَيْهِ , وَمَضْمَضَ فَاهُ , ثُمَّ أَعْطَاهَا , فَقَالَ:" اسْقِيهِ مِنْهُ , وَصُبِّي عَلَيْهِ مِنْهُ , وَاسْتَشْفِي اللَّهَ لَهُ" , قَالَتْ: فَلَقِيتُ الْمَرْأَةَ , فَقُلْتُ: لَوْ وَهَبْتِ لِي مِنْهُ , فَقَالَتْ: إِنَّمَا هُوَ لِهَذَا الْمُبْتَلَى , قَالَتْ: فَلَقِيتُ الْمَرْأَةَ مِنَ الْحَوْلِ فَسَأَلْتُهَا عَنِ الْغُلَامِ , فَقَالَتْ: بَرَأَ وَعَقَلَ عَقْلًا لَيْسَ كَعُقُولِ النَّاسِ.
ام جندب رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یوم النحر کو بطن وادی میں جمرہ عقبہ کی رمی کرتے دیکھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوٹے تو آپ کے پیچھے پیچھے قبیلہ خثعم کی ایک عورت آئی، اس کے ساتھ ایک بچہ تھا جس پر آسیب تھا، وہ بولتا نہیں تھا، اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ میرا بیٹا ہے اور یہی میرے گھر والوں میں باقی رہ گیا ہے، اور اس پر ایک بلا (آسیب) ہے کہ یہ بول نہیں پاتا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تھوڑا سا پانی لاؤ، پانی لایا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ دھوئے اور اس میں کلی کی، پھر وہ پانی اسے دے دیا، اور فرمایا: اس میں سے تھوڑا سا اسے پلا دو، اور تھوڑا سا اس کے اوپر ڈال دو، اور اللہ تعالیٰ سے اس کے لیے شفاء طلب کرو، ام جندب رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں اس عورت سے ملی اور اس سے کہا کہ اگر تم اس میں سے تھوڑا سا پانی مجھے بھی دے دیتیں، (تو اچھا ہوتا) تو اس نے جواب دیا کہ یہ تو صرف اس بیمار بچے کے لیے ہے، ام جندب رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں اس عورت سے سال بھر بعد ملی اور اس بچے کے متعلق پوچھا تو اس نے بتایا کہ وہ ٹھیک ہو گیا ہے، اور اسے ایسی عقل آ گئی جو عام لوگوں کی عقل سے بڑھ کر ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3532]
حضرت ام جندب رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے قربانی کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وادی کے نشیبی حصے میں کھڑے ہو کر بڑے جمرے پر کنکریاں ماریں، پھر واپس ہوئے۔ قبیلہ خثعم کی ایک خاتون آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے چل پڑی، اس کے پاس ایک بچہ تھا جسے آسیب کی شکایت تھی اور وہ بات نہیں کرتا تھا۔ اس خاتون نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! یہ میرا بیٹا ہے اور میرے گھر میں یہی باقی بچا ہے اور اسے آسیب ہے، یہ کلام نہیں کرتا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے پاس تھوڑا سا پانی لاؤ۔ پانی لایا گیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ دھوئے اور کلی کی، پھر (یہ مستعمل پانی) اسے دے دیا اور فرمایا: کچھ پانی اسے پلا دینا، کچھ اس کے اوپر ڈال دینا، اور اس کے لیے اللہ سے شفا کی دعا کرنا۔ حضرت ام جندب رضی اللہ عنہا نے فرمایا: میں اس عورت سے ملی اور کہا: اس میں سے تھوڑا سا (متبرک پانی) مجھے بھی دے دو۔ اس نے کہا: یہ تو اس بیمار کے لیے ہے۔ حضرت ام جندب رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ایک سال بعد اس عورت سے میری ملاقات ہو گئی تو میں نے اس لڑکے کے بارے میں پوچھا۔ اس نے کہا: وہ صحت یاب ہو گیا ہے اور ایسا عقل مند ہو گیا ہے جو (عام) لوگوں کی طرح نہیں (بلکہ ان سے بڑھ کر عقل مند ہو گیا ہے)۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3532]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: (3031) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (سند میں یزید بن أبی زیاد ضعیف راوی ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
انظر الحديثان السابقان (3028،3031)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 504

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3533
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْكِنْدِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ ثَابِتٍ قَالَ: حَدَّثَنَا سَعَّادُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خَيْرُ الدَّوَاءِ الْقُرْآنُ»
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بہترین دوا قرآن مجید ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3533]
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «خَيْرُ الدَّوَاءِ الْقُرْآنُ» سب سے بہتر دوا قرآن ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3533]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 10056) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (سند میں حارث الاعور ضعیف راوی ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
ضعيف
انظر الحديث السابق (3501)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 504

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں