سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
7. بَابُ: مَوْضِعِ الإِزَارِ أَيْنَ هُوَ
باب: تہبند اور پاجامہ کہاں تک لٹکا ہو؟
حدیث نمبر: 3572
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ , عَنْ أَبِي إِسْحَاق , عَنْ مُسْلِمِ بْنِ نُذَيْرٍ , عَنْ حُذَيْفَةَ , قَالَ: أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَسْفَلِ عَضَلَةِ سَاقِي أَوْ سَاقِهِ , فَقَالَ:" هَذَا مَوْضِعُ الْإِزَارِ , فَإِنْ أَبَيْتَ فَأَسْفَلَ , فَإِنْ أَبَيْتَ فَأَسْفَلَ , فَإِنْ أَبَيْتَ فَلَا حَقَّ لِلْإِزَارِ فِي الْكَعْبَيْنِ".
حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری پنڈلی کے نیچے کا پٹھا پکڑا اور فرمایا: ”تہبند کا مقام یہ ہے، اگر تم اتنا نہ کر سکو تو اس سے تھوڑا نیچے رکھو، اور اگر اتنا بھی نہ رکھ سکو تو اور نیچے رکھو، لیکن اگر اتنا بھی نہ کر سکو تو تمہیں ٹخنوں سے نیچے تہبند رکھنے کا کوئی حق نہیں ہے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3572]
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری یا اپنی پنڈلی کے پٹھے کے نچلے حصے پر ہاتھ رکھا اور فرمایا: ”یہ تہبند کی جگہ ہے۔ اگر تو (یہاں تک رکھنا) نہ چاہے تو نیچے کر لے۔ اگر تو نہ چاہے تو (اور) نیچے کر لے۔ اگر تو (اتنا سا اونچا بھی رکھنا) نہ چاہے تو (معلوم ہونا چاہیے کہ) تہبند کا ٹخنوں میں کوئی حق نہیں۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3572]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/اللباس 41 (1783)، سنن النسائی/الزینة من المجتبیٰ 48 (5331)، (تحفة الأشراف: 3383)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/382، 396، 398، 400، 401) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3573M
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ , حَدَّثَنِي أَبُو إِسْحَاق , عَنْ مُسْلِمِ بْنِ نُذَيْرٍ , عَنْ حُذَيْفَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , مِثْلَهُ.
اس سند سے بھی حذیفہ رضی اللہ عنہ سے اسی کے مثل مرفوعاً مروی ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3573M]
قال الشيخ الألباني: صحيح
حدیث نمبر: 3573
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ , عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ أَبِيهِ , قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي سَعِيدٍ هَلْ سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا فِي الْإِزَارِ؟ قَالَ: نَعَمْ , سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ:" إِزْرَةُ الْمُؤْمِنِ إِلَى أَنْصَافِ سَاقَيْهِ , لَا جُنَاحَ عَلَيْهِ مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْكَعْبَيْنِ , وَمَا أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ فِي النَّارِ" , يَقُولُ ثَلَاثًا:" لَا يَنْظُرُ اللَّهُ إِلَى مَنْ جَرَّ إِزَارَهُ بَطَرًا".
عبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ میں نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تہبند کے بارے میں کچھ سنا ہے؟ فرمایا: ہاں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”مومن کا تہبند اس کی آدھی پنڈلی تک ہوتا ہے، اور اگر وہ اس کے اور ٹخنوں کے درمیان کسی بھی جگہ تک رکھے تو بھی کوئی حرج نہیں، لیکن جو ٹخنوں سے نیچے ہو وہ حصہ جہنم میں ہو گا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار فرمایا: ”اللہ تعالیٰ اس کی طرف نہیں دیکھے گا جو اپنا تہبند تکبر کی وجہ سے گھسیٹے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3573]
حضرت عبدالرحمن بن یعقوب جہنی حرقی رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے کہا: ”آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تہبند کے بارے میں کوئی فرمان سنا ہے؟“ انہوں نے کہا: ”ہاں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: ”مومن کا تہبند (شلوار، پینٹ اور پائجامہ وغیرہ) اس کی پنڈلیوں کے نصف تک (بلند) ہوتا ہے، اس جگہ اور ٹخنوں کے درمیان رکھنے میں اس پر گناہ نہیں، اور جو ٹخنوں سے نیچے ہو وہ جہنم میں ہے۔““ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات تین بار فرمائی: ”جو شخص تکبر کے ساتھ تہبند (زمین پر) گھسیٹے گا اللہ تعالیٰ اس کی طرف (رحمت کی نظر سے) نہیں دیکھے گا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3573]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/اللباس 30 (4093)، (تحفة الأشراف: 4136)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/اللباس 5 (12)، مسند احمد (3/5، 31، 44، 52، 97) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
حدیث نمبر: 3574
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ , أَنْبَأَنَا شَرِيكٌ , عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ , عَنْ حُصَيْنِ بْنِ قَبِيصَةَ , عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ , قَالَ: قَال رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا سُفْيَانَ بْنَ سَهْلٍ , لَا تُسْبِلْ فَإِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْمُسْبِلِينَ".
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سفیان بن سہل! (ٹخنہ کے نیچے) تہبند نہ لٹکاؤ کہ اللہ تعالیٰ تہبند لٹکانے والوں کو پسند نہیں کرتا“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3574]
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے سفیان بن سہل! کپڑا (جائز حد سے زیادہ) نہ لٹکا، اللہ تعالیٰ کپڑا لٹکانے والوں کو پسند نہیں فرماتا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3574]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 11493، ومصباح الزجاجة: 1249)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/246، 250، 250، 253) (حسن) (تراجع الألبانی: رقم: 391)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
شريك القاضي و عبد الملك بن عمير عنعنا
و الحديث السابق (الأصل: 3573) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 506
إسناده ضعيف
شريك القاضي و عبد الملك بن عمير عنعنا
و الحديث السابق (الأصل: 3573) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 506