سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
7. باب : موضع الإزار أين هو
باب: تہبند اور پاجامہ کہاں تک لٹکا ہو؟
حدیث نمبر: 3573M
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ , حَدَّثَنِي أَبُو إِسْحَاق , عَنْ مُسْلِمِ بْنِ نُذَيْرٍ , عَنْ حُذَيْفَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , مِثْلَهُ.
اس سند سے بھی حذیفہ رضی اللہ عنہ سے اسی کے مثل مرفوعاً مروی ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3573M]
قال الشيخ الألباني: صحيح
الرواة الحديث:
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 3573 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3573
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
تہبند گھسیٹنےکا مطلب یہ ہے کہ کپڑا اتنا نیچے لٹکایا جائے کہ وہ زمین تک پہنچ جائے اور چلتے وقت زمین پر لگتا رہے۔
مرد کے لئے ایسا کرنا حرام ہے۔
عورت کے لئے یہ جائز ہے کیونکہ یہ اس کے لیے پردے کا باعث ہے اس طرح اس کے پاؤں اجنبیوں کے نظر سے چھپے رہتے ہیں۔
فوائد و مسائل:
تہبند گھسیٹنےکا مطلب یہ ہے کہ کپڑا اتنا نیچے لٹکایا جائے کہ وہ زمین تک پہنچ جائے اور چلتے وقت زمین پر لگتا رہے۔
مرد کے لئے ایسا کرنا حرام ہے۔
عورت کے لئے یہ جائز ہے کیونکہ یہ اس کے لیے پردے کا باعث ہے اس طرح اس کے پاؤں اجنبیوں کے نظر سے چھپے رہتے ہیں۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3573]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4093
تہ بند (لنگی) کہاں تک پہنے؟
عبدالرحمٰن کہتے ہیں میں نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے تہ بند کے متعلق پوچھا تو وہ کہنے لگے: اچھے جانکار سے تم نے پوچھا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمان کا تہ بند آدھی پنڈلی تک رہتا ہے، تہ بند پنڈلی اور ٹخنوں کے درمیان میں ہو تو بھی کوئی حرج یا کوئی مضائقہ نہیں، اور جو حصہ ٹخنے سے نیچے ہو گا وہ جہنم میں رہے گا اور جو اپنا تہ بند غرور و تکبر سے گھسیٹے گا تو اللہ اسے رحمت کی نظر سے نہیں دیکھے گا۔“ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4093]
عبدالرحمٰن کہتے ہیں میں نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے تہ بند کے متعلق پوچھا تو وہ کہنے لگے: اچھے جانکار سے تم نے پوچھا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمان کا تہ بند آدھی پنڈلی تک رہتا ہے، تہ بند پنڈلی اور ٹخنوں کے درمیان میں ہو تو بھی کوئی حرج یا کوئی مضائقہ نہیں، اور جو حصہ ٹخنے سے نیچے ہو گا وہ جہنم میں رہے گا اور جو اپنا تہ بند غرور و تکبر سے گھسیٹے گا تو اللہ اسے رحمت کی نظر سے نہیں دیکھے گا۔“ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4093]
فوائد ومسائل:
1: مردوں کا اپنی شلوار، تہ بند یا پاجامے وغیرہ کو ٹخنوں سے نیچے رکھنا حرام ہے اور اپنی غفلت اور جہالت کی لایعنی تاویلات میں الجھنا تکبر ہے۔
2: ٹخنوں سے نیچے پاوں۔
۔
۔
۔
۔
یا۔
۔
۔
۔
لٹکنے والا کپڑا۔
۔
۔
۔
۔
جہنم میں ہیں اور کپڑا اپنے پہننے والے کو بھی ساتھ گھسیٹ لے گا۔
3: اللہ عزوجل کا بندے کی طرف نہ دیکھنا اظہار غضب کی علامت ہے۔
1: مردوں کا اپنی شلوار، تہ بند یا پاجامے وغیرہ کو ٹخنوں سے نیچے رکھنا حرام ہے اور اپنی غفلت اور جہالت کی لایعنی تاویلات میں الجھنا تکبر ہے۔
2: ٹخنوں سے نیچے پاوں۔
۔
۔
۔
۔
یا۔
۔
۔
۔
لٹکنے والا کپڑا۔
۔
۔
۔
۔
جہنم میں ہیں اور کپڑا اپنے پہننے والے کو بھی ساتھ گھسیٹ لے گا۔
3: اللہ عزوجل کا بندے کی طرف نہ دیکھنا اظہار غضب کی علامت ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4093]
حدیث نمبر: 3573
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ , عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ أَبِيهِ , قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي سَعِيدٍ هَلْ سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا فِي الْإِزَارِ؟ قَالَ: نَعَمْ , سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ:" إِزْرَةُ الْمُؤْمِنِ إِلَى أَنْصَافِ سَاقَيْهِ , لَا جُنَاحَ عَلَيْهِ مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْكَعْبَيْنِ , وَمَا أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ فِي النَّارِ" , يَقُولُ ثَلَاثًا:" لَا يَنْظُرُ اللَّهُ إِلَى مَنْ جَرَّ إِزَارَهُ بَطَرًا".
عبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ میں نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تہبند کے بارے میں کچھ سنا ہے؟ فرمایا: ہاں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”مومن کا تہبند اس کی آدھی پنڈلی تک ہوتا ہے، اور اگر وہ اس کے اور ٹخنوں کے درمیان کسی بھی جگہ تک رکھے تو بھی کوئی حرج نہیں، لیکن جو ٹخنوں سے نیچے ہو وہ حصہ جہنم میں ہو گا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار فرمایا: ”اللہ تعالیٰ اس کی طرف نہیں دیکھے گا جو اپنا تہبند تکبر کی وجہ سے گھسیٹے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3573]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/اللباس 30 (4093)، (تحفة الأشراف: 4136)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/اللباس 5 (12)، مسند احمد (3/5، 31، 44، 52، 97) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
4093
| إزرة المسلم إلى نصف الساق ولا حرج أو لا جناح فيما بينه وبين الكعبين ما كان أسفل من الكعبين فهو في النار من جر إزاره بطرا لم ينظر الله إليه |
سنن ابن ماجه |
3573
| إزرة المؤمن إلى أنصاف ساقيه لا جناح عليه ما بينه وبين الكعبين وما أسفل من الكعبين في النار يقول ثلاثا لا ينظر الله إلى من جر إزاره بطرا |
مسندالحميدي |
754
| إزرة المؤمن إلى أنصاف ساقيه، لا جناح عليه فيما بينه وبين الكعبين، ما أسفل من الكعبين في النار، لا ينظر الله عز وجل إلى من جر إزاره بطرا |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 3573 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3573
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
تہبند گھسیٹنےکا مطلب یہ ہے کہ کپڑا اتنا نیچے لٹکایا جائے کہ وہ زمین تک پہنچ جائے اور چلتے وقت زمین پر لگتا رہے۔
مرد کے لئے ایسا کرنا حرام ہے۔
عورت کے لئے یہ جائز ہے کیونکہ یہ اس کے لیے پردے کا باعث ہے اس طرح اس کے پاؤں اجنبیوں کے نظر سے چھپے رہتے ہیں۔
فوائد و مسائل:
تہبند گھسیٹنےکا مطلب یہ ہے کہ کپڑا اتنا نیچے لٹکایا جائے کہ وہ زمین تک پہنچ جائے اور چلتے وقت زمین پر لگتا رہے۔
مرد کے لئے ایسا کرنا حرام ہے۔
عورت کے لئے یہ جائز ہے کیونکہ یہ اس کے لیے پردے کا باعث ہے اس طرح اس کے پاؤں اجنبیوں کے نظر سے چھپے رہتے ہیں۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3573]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4093
تہ بند (لنگی) کہاں تک پہنے؟
عبدالرحمٰن کہتے ہیں میں نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے تہ بند کے متعلق پوچھا تو وہ کہنے لگے: اچھے جانکار سے تم نے پوچھا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمان کا تہ بند آدھی پنڈلی تک رہتا ہے، تہ بند پنڈلی اور ٹخنوں کے درمیان میں ہو تو بھی کوئی حرج یا کوئی مضائقہ نہیں، اور جو حصہ ٹخنے سے نیچے ہو گا وہ جہنم میں رہے گا اور جو اپنا تہ بند غرور و تکبر سے گھسیٹے گا تو اللہ اسے رحمت کی نظر سے نہیں دیکھے گا۔“ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4093]
عبدالرحمٰن کہتے ہیں میں نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے تہ بند کے متعلق پوچھا تو وہ کہنے لگے: اچھے جانکار سے تم نے پوچھا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمان کا تہ بند آدھی پنڈلی تک رہتا ہے، تہ بند پنڈلی اور ٹخنوں کے درمیان میں ہو تو بھی کوئی حرج یا کوئی مضائقہ نہیں، اور جو حصہ ٹخنے سے نیچے ہو گا وہ جہنم میں رہے گا اور جو اپنا تہ بند غرور و تکبر سے گھسیٹے گا تو اللہ اسے رحمت کی نظر سے نہیں دیکھے گا۔“ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4093]
فوائد ومسائل:
1: مردوں کا اپنی شلوار، تہ بند یا پاجامے وغیرہ کو ٹخنوں سے نیچے رکھنا حرام ہے اور اپنی غفلت اور جہالت کی لایعنی تاویلات میں الجھنا تکبر ہے۔
2: ٹخنوں سے نیچے پاوں۔
۔
۔
۔
۔
یا۔
۔
۔
۔
لٹکنے والا کپڑا۔
۔
۔
۔
۔
جہنم میں ہیں اور کپڑا اپنے پہننے والے کو بھی ساتھ گھسیٹ لے گا۔
3: اللہ عزوجل کا بندے کی طرف نہ دیکھنا اظہار غضب کی علامت ہے۔
1: مردوں کا اپنی شلوار، تہ بند یا پاجامے وغیرہ کو ٹخنوں سے نیچے رکھنا حرام ہے اور اپنی غفلت اور جہالت کی لایعنی تاویلات میں الجھنا تکبر ہے۔
2: ٹخنوں سے نیچے پاوں۔
۔
۔
۔
۔
یا۔
۔
۔
۔
لٹکنے والا کپڑا۔
۔
۔
۔
۔
جہنم میں ہیں اور کپڑا اپنے پہننے والے کو بھی ساتھ گھسیٹ لے گا۔
3: اللہ عزوجل کا بندے کی طرف نہ دیکھنا اظہار غضب کی علامت ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4093]
Sunan Ibn Majah Hadith 3573 in Urdu
مسلم بن نذير السعدي ← حذيفة بن اليمان العبسي