سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
15. بَابُ: إِرْخَاءِ الْعِمَامَةِ بَيْنَ الْكَتِفَيْنِ
باب: دونوں کندھوں کے درمیان عمامہ (پگڑی) لٹکانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3587
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ , عَنْ مُسَاوِرٍ , حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ , عَنْ أَبِيهِ , قَالَ:" كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَعَلَيْهِ عِمَامَةٌ سَوْدَاءُ , قَدْ أَرْخَى طَرَفَيْهَا بَيْنَ كَتِفَيْهِ".
عمرو بن حریث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ گویا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ رہا ہوں، اور آ پ کے سر پر کالی پگڑی ہے جس کے دونوں کناروں کو آپ اپنے دونوں شانوں کے درمیان لٹکائے ہوئے ہیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3587]
حضرت عمرو بن حریث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”گویا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ رہا ہوں جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر پر سیاہ عمامہ ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے دونوں سرے اپنے کندھوں کے درمیان لٹکائے ہوئے ہیں۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3587]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «أنظر حدیث رقم: (1104، 3584) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: ان حدیثوں سے سیاہ عمامہ (کالی پگڑی) کا مسنون ہونا نکلتا ہے، دوسری روایتوں میں سفید بھی منقول ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح