سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
16. بَابُ: كَرَاهِيَةِ لُبْسِ الْحَرِيرِ
باب: ریشمی کپڑے پہننے کی حرمت کا بیان۔
حدیث نمبر: 3588
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عُلَيَّةَ , عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ , عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ لَبِسَ الْحَرِيرَ فِي الدُّنْيَا , لَمْ يَلْبَسْهُ فِي الْآخِرَةِ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس آدمی نے دنیا میں ریشمی کپڑا پہنا، وہ آخرت میں نہیں پہن سکے گا“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3588]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے دنیا میں ریشم پہنا، وہ آخرت میں نہیں پہنے گا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3588]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/اللباس 2 (1073)، (تحفة الأشراف: 5392)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/اللباس 25 (5832)، مسند احمد (3/101) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم
حدیث نمبر: 3589
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ , عَنْ الشَّيْبَانِيِّ , عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ , عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ سُوَيْدٍ , عَنْ الْبَرَاءِ , قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" عَنِ الدِّيبَاجِ، وَالْحَرِيرِ، وَالْإِسْتَبْرَقِ".
براء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (مردوں کے لیے) دیباج، حریر اور استبرق (موٹا ریشمی کپڑا) پہننے سے منع کیا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3589]
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ریشمی کپڑے سے، عام ریشم سے اور موٹے ریشم سے منع فرمایا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3589]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الجنائز 2 (1239)، النکاح 71 (5175)، الأشربة 28 (5635)، المرضی 4 (5650)، اللباس 36 (5838)، 45 (5863)، الأدب 124 (6222)، الاستئذان 8 (6235)، صحیح مسلم/اللباس 2 (2066)، سنن الترمذی/الأدب 45 (2809)، سنن النسائی/الجنائز 53 (1941)، الزینة من المجتبیٰ 37 (5311)، (تحفة الأشراف: 1916)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/284، 287، 299) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یہ تینوں ریشمی کپڑے ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
حدیث نمبر: 3590
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , عَنْ شُعْبَةَ , عَنْ الْحَكَمِ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى , عَنْ حُذَيْفَةَ , قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ لُبْسِ الْحَرِيرِ وَالذَّهَبِ، وَقَالَ:" هُوَ لَهُمْ فِي الدُّنْيَا , وَلَنَا فِي الْآخِرَةِ".
حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (مردوں کے لیے) ریشم اور سونا پہننے سے منع کیا، اور فرمایا: ”یہ ان (کافروں) کے لیے دنیا میں ہے اور ہمارے لیے آخرت میں ہے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3590]
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ریشم اور سونا پہننے سے منع کیا اور فرمایا: ”وہ دنیا میں ان (کافروں) کے لیے ہے اور آخرت میں ہمارے لیے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3590]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأطعمة 29 (5426)، الأشربة 27 (5632)، 28 (5633)، اللباس 25 (5831)، 27 (5837)، صحیح مسلم/اللباس1 (2067)، سنن ابی داود/الأشربة 17 (3723)، سنن الترمذی/الأشربة 10 (1878)، سنن النسائی/الزینة من المجتبیٰ 33 (5303)، (تحفة الأشراف: 3373)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/385، 390، 396، 398، 400، 408)، سنن الدارمی/الأشربة 25 (2176) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
حدیث نمبر: 3591
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ , عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ , عَنْ نَافِعٍ , أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ أَخْبَرَهُ , أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَأَى حُلَّةً سِيَرَاءَ مِنْ حَرِيرٍ , فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَوِ ابْتَعْتَ هَذِهِ الْحُلَّةَ لِلْوَفْدِ وَلِيَوْمِ الْجُمُعَةِ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّمَا يَلْبَسُ هَذِا مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ فِي الْآخِرَةِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ریشم کا ایک سرخ جوڑا دیکھا تو کہا: اللہ کے رسول! اگر آپ اس جوڑے کو وفود سے ملنے کے لیے اور جمعہ کے دن پہننے کے لیے خرید لیتے تو اچھا ہوتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے وہ لوگ پہنتے ہیں جن کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہوتا“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3591]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے لکیر دار ریشمی کپڑے کا جوڑا دیکھا تو عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ یہ جوڑا وفود کے استقبال اور جمعہ کے دن پہننے کے لیے خرید لیں۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے تو وہی پہنتا ہے جس کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3591]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 8023)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الجمعة 7 (886)، العیدین 1 (948) الھبة 27 (2612)، 29 (2619)، الجہاد 177 (3054)، اللباس 30 (5841)، الأدب 9 (5981)، 66 (6081)، صحیح مسلم/اللباس 1 (2068)، سنن ابی داود/الصلاة 219 (1076)، اللباس 10 (4040)، سنن النسائی/الجمعة 11 (1383)، العیدین 4 (1561)، الزینة في المجتبیٰ 29 (5297)، 31 (5301)، موطا امام مالک/اللباس 8 (18)، مسند احمد (2/20، 39، 49) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم