سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
46. بَابُ: إِطْفَاءِ النَّارِ عِنْدَ الْمَبِيتِ
باب: رات کو سوتے وقت آگ بجھا دینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3769
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ , عَنْ الزُّهْرِيِّ , عَنْ سَالِمٍ , عَنْ أَبِيهِ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" لَا تَتْرُكُوا النَّارَ فِي بُيُوتِكُمْ حِينَ تَنَامُونَ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم سونے لگو تو اپنے گھروں میں (جلتی ہوئی) آگ مت چھوڑو“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3769]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم سوتے ہو تو گھروں میں آگ (جلتی) نہ چھوڑا کرو۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3769]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الاستئذان 49 (6293)، صحیح مسلم/الأشربة 21 (2015)، سنن ابی داود/الأدب 173 (5246)، سنن الترمذی/الأطعمة 15 (1813)، (تحفة الأشراف: 6814)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/7، 44) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یہ آگ چراغ کی شکل میں ہو یا سردیوں میں گرمی حاصل کرنے کی انگیٹھیاں، اور ہیٹر یا گیس کے سلنڈر ہوں تجربات و مشاہدات سے واضح ہے کہ ان کو جلتا ہوا چھوڑ کر سونا نہایت خطرناک ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
حدیث نمبر: 3770
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ , عَنْ بُرَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , عَنْ أَبِي بُرْدَةَ , عَنْ أَبِي مُوسَى , قَالَ: احْتَرَقَ بَيْتٌ بِالْمَدِينَةِ عَلَى أَهْلِهِ , فَحُدِّثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَأْنِهِمْ , فَقَالَ:" إِنَّمَا هَذِهِ النَّارُ عَدُوٌّ لَكُمْ , فَإِذَا نِمْتُمْ فَأَطْفِئُوهَا عَنْكُمْ".
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مدینہ کا ایک گھر لوگوں سمیت جل گیا جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ واقعہ بیان کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک آگ تمہاری دشمن ہے، لہٰذا جب تم سونے لگو، تو آگ بجھا دیا کرو“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3770]
حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مدینہ منورہ میں ایک گھر کو آگ لگ گئی جبکہ گھر والے گھر میں تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے حادثے کی خبر ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ آگ تمہاری دشمن ہے۔ جب تم سونے لگو تو اسے بجھادیا کرو۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3770]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الاستئذان 49 (6294)، صحیح مسلم/الأشربة 12 (2016)، (تحفة الأشراف: 9048)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/399) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
حدیث نمبر: 3771
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ , عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ , عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ , عَنْ جَابِرٍ , قَالَ: أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَهَانَا:" فَأَمَرَنَا أَنْ نُطْفِئَ سِرَاجَنَا".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بہت سی باتوں کا حکم دیا، اور بہت سی باتوں سے منع فرمایا: (ان میں سے ایک بات یہ بھی ہے کہ) آپ نے ہمیں حکم دیا کہ ہم (سوتے وقت) چراغ بجھا دیا کریں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3771]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں (بہت سے کاموں کا) حکم دیا، اور (بہت سے کاموں سے) منع فرمایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہ حکم بھی دیا کہ (سوتے وقت) چراغ بجھا دیا کریں۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3771]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 2794)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الاستئذان 49 (6295)، صحیح مسلم/الأشربة 12 (2013)، سنن ابی داود/الأشربة 22 (3731) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح