سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
9. بَابُ: اسْمِ اللَّهِ الأَعْظَمِ
باب: اللہ تعالیٰ کے اسم اعظم کا بیان۔
حدیث نمبر: 3855
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ , حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ , عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي زِيَادٍ , عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ , عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ , قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اسْمُ اللَّهِ الْأَعْظَمُ فِي هَاتَيْنِ الْآيَتَيْنِ وَإِلَهُكُمْ إِلَهٌ وَاحِدٌ لا إِلَهَ إِلا هُوَ الرَّحْمَنُ الرَّحِيمُ سورة البقرة آية 163 وَفَاتِحَةِ سُورَةِ آلِ عِمْرَانَ.
اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کا اسم اعظم ان دو آیات میں ہے «وإلهكم إله واحد لا إله إلا هو الرحمن الرحيم» ”تم سب کا معبود ایک ہی معبود ہے، اس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ بہت رحم کرنے والا اور بڑا مہربان ہے“ (سورۃ البقرہ: ۱۶۳) اور سورۃ آل عمران کے شروع میں: «الم الله لا إله إلا هو الحي القيوم» ” «الم»، اللہ تعالیٰ وہ ہے جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، جو حی و قیوم (زندہ اور سب کا نگہبان) ہے۔“ (سورۃ آل عمران: ۱-۲)۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الدعاء/حدیث: 3855]
حضرت اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کا عظیم ترین نام (اسم اعظم) ان دو آیتوں میں ہے: ﴿وَإِلَٰهُكُمْ إِلَٰهٌ وَاحِدٌ لَّا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ الرَّحْمَٰنُ الرَّحِيمُ﴾ [سورة البقرة: 163] ”تمہارا معبود ایک ہی معبود ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں جو نہایت مہربان، بے حد رحم کرنے والا ہے“ اور سورہ آل عمران کے شروع میں (یعنی) ﴿الٓمّٓ ﴿1﴾ اللَّهُ لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ﴾ [سورة آل عمران: 1-2] ۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الدعاء/حدیث: 3855]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصلاة 358 (1496)، سنن الترمذی/الدعوات 65 (3478)، (تحفة الأشراف: 15767)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/461)، سنن الدارمی/فضائل القرآن 14 (3432) (حسن)» (سند میں عبید اللہ القداح ضعیف ہیں، نیز شہر بن حوشب میں بھی کلام ہے، ترمذی نے حدیث کو صحیح کہا ہے، اس کی شاہد ابوامامہ کی حدیث (3856؍أ) ہے، جس سے تقویت پاکر یہ حدیث حسن ہوئی، ملاحظہ ہو: ا لصحیحہ: 746، وصحیح ابی داود: 5؍ 234)
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
حدیث نمبر: 3856
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ , حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِي سَلَمَةَ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْعَلَاءِ , عَنْ الْقَاسِمِ , قَالَ:" اسْمُ اللَّهِ الْأَعْظَمُ الَّذِي إِذَا دُعِيَ بِهِ أَجَابَ فِي سُوَرٍ ثَلَاثٍ: الْبَقَرَةِ , وَآلِ عِمْرَانَ , وَطه".
قاسم کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا اسم اعظم جس کے ذریعہ اگر دعا کی جائے تو قبول ہوتی ہے تین سورتوں میں ہے: سورۃ البقرہ، سورۃ آل عمران اور سورۃ طہٰ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الدعاء/حدیث: 3856]
حضرت قاسم بن عبدالرحمن دمشقی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”اللہ کا عظیم ترین نام (اسم اعظم) جس کے ساتھ اللہ سے دعا کی جائے تو وہ قبول فرماتا ہے، تین سورتوں میں ہے: سورۂ بقرہ، سورۂ آلِ عمران اور سورۂ طہٰ میں۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الدعاء/حدیث: 3856]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 4921، ومصباح الزجاجة: 1351) (حسن) (ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 746)»
وضاحت: ۱؎: سورۃ بقرہ اور سورۃ آل عمران میں بھی یہی ہے: «الله لا إله إلا هو الحي القيوم» (سورة آل عمران: 2) اور سورۃ طہ میں ہے: «الله لا إله إلا هو له الأسماء الحسنى» (سورة طہ: 8) بعضوں نے کہا: «الله لا إله إلا هو الحي القيوم» یہی اسم اعظم ہے، بعضوں نے کہا صرف «الحي القيوم» ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
حدیث نمبر: 3856M
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ , حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِي سَلَمَةَ , قَالَ: ذَكَرْتُ ذَلِكَ لِعِيسَى بْنِ مُوسَى , فَحَدَّثَنِي أَنَّهُ سَمِعَ غَيْلَانَ بْنَ أَنَسٍ يُحَدِّثُ , عَنْ الْقَاسِمِ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , نَحْوَهُ.
اس سند سے ابوامامہ سے بھی اسی طرح مرفوعاً مروی ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الدعاء/حدیث: 3856M]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 4921، ومصباح الزجاجة: 1352) (حسن)» (غیلان بن انس مقبول ہیں، لیکن ابو یعلی میں عبداللہ بن العلاء نے ان کی متابعت کی ہے، نیز أسماء بنت یزید کی حدیث شاہد ہے، جو ترمذی اور ابوداود میں ہے)
حدیث نمبر: 3857
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , عَنْ مَالِكِ بْنِ مِغْوَلٍ , أَنَّهُ سَمِعَهُ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ , عَنْ أَبِيهِ , قَالَ: سَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , رَجُلًا يَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِأَنَّكَ أَنْتَ اللَّهُ الْأَحَدُ الصَّمَدُ الَّذِي لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَقَدْ سَأَلَ اللَّهَ بِاسْمِهِ الْأَعْظَمِ , الَّذِي إِذَا سُئِلَ بِهِ أَعْطَى , وَإِذَا دُعِيَ بِهِ أَجَابَ".
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو یہ کہتے سنا: «اللهم إني أسألك بأنك أنت الله الأحد الصمد الذي لم يلد ولم يولد ولم يكن له كفوا أحد» ”اے اللہ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کیونکہ تو ہی اکیلا اللہ ہے، بے نیاز ہے، جس نے نہ جنا اور نہ وہ جنا گیا، اور نہ کوئی اس کا ہم سر ہے“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس شخص نے اللہ سے اس کے اس اسم اعظم کے ذریعہ سوال کیا ہے جس کے ذریعہ اگر سوال کیا جائے تو اللہ تعالیٰ عطا کرتا ہے، اور دعا کی جائے تو وہ قبول کرتا ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الدعاء/حدیث: 3857]
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو یوں کہتے سنا: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِأَنَّكَ أَنْتَ اللَّهُ الْأَحَدُ الصَّمَدُ الَّذِي لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ» ”اے اللہ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں، اس لیے کہ تو اللہ ہے، اکیلا ہے، بے نیاز ہے جس نے کسی کو جنم نہیں دیا ہے، اور نہ ہی اسے کسی نے جنم دیا، نہ اس کا کوئی ہمسر ہے۔“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس شخص نے اللہ سے اس کے عظیم ترین نام (اسم اعظم) کے وسیلے سے سوال کیا ہے جس کے وسیلے سے جب اس سے مانگا جائے تو وہ عطا فرماتا ہے اور جب اس کے وسیلے سے اس سے دعا کی جائے تو وہ قبول فرماتا ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الدعاء/حدیث: 3857]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصلاة 358 (1493، 1494)، سنن الترمذی/الدعوات 64 (3475)، (تحفة الأشراف: 1998)، وقد أخرجہ: مسند احمد (0.6355/349، 350، 360) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3858
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , حَدَّثَنَا أَبُو خُزَيْمَةَ , عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ , عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ , قَالَ: سَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , رَجُلًا يَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِأَنَّ لَكَ الْحَمْدَ , لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ وَحْدَكَ لَا شَرِيكَ لَكَ , الْمَنَّانُ بَدِيعُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ , ذُو الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ , فَقَالَ:" لَقَدْ سَأَلَ اللَّهَ بِاسْمِهِ الْأَعْظَمِ , الَّذِي إِذَا سُئِلَ بِهِ أَعْطَى وَإِذَا دُعِيَ بِهِ أَجَابَ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو یہ دعا کرتے سنا، «اللهم إني أسألك بأن لك الحمد لا إله إلا أنت وحدك لا شريك لك المنان بديع السموات والأرض ذو الجلال والإكرام» ”اے اللہ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کیونکہ تیرے ہی لیے حمد ہے، تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں، تو اکیلا ہے تیرا کوئی شریک نہیں، تو بہت احسان کرنے والا ہے، آسمانوں اور زمین کو بغیر مثال کے پیدا کرنے والا ہے، جلال اور عظمت والا ہے“، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس شخص نے اللہ سے اس کے اس اسم اعظم کے ذریعہ سوال کیا ہے کہ جب بھی اس کے ذریعہ سوال کیا جائے تو وہ عطا کرتا ہے، اور جب اس کے ذریعہ دعا مانگی جائے تو وہ قبول کرتا ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الدعاء/حدیث: 3858]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو سنا، وہ کہہ رہا تھا: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِأَنَّ لَكَ الْحَمْدَ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ وَحْدَكَ لَا شَرِيكَ لَكَ، الْمَنَّانُ، بَدِيعُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ، ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ» ”اے اللہ! میں تجھ سے اس وسیلے سے سوال کرتا ہوں کہ تعریف صرف تیرے لیے ہے۔ تجھے اکیلے کے سوا کوئی معبود نہیں۔ تیرا کوئی شریک نہیں۔ تو احسان کرنے والا ہے۔ آسمانوں اور زمین کو بغیر مثال کے پیدا کرنے والا ہے۔ جلال و عزت والا ہے۔“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس نے اللہ سے اس کے عظیم ترین نام (اسم اعظم) کے واسطے سے سوال کیا ہے، جس کے وسیلے سے مانگا جائے تو وہ عطا فرماتا ہے اور جب اس کے وسیلے سے دعا کی جائے تو وہ قبول فرماتا ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الدعاء/حدیث: 3858]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 238، ومصباح الزجاجة: 1353)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الدعوت 110 (3544)، سنن ابی داود/الصلاة 358 (1495)، سنن النسائی/السہو 58 (1301)، مسند احمد (3/120، 158، 245) (حسن صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
حدیث نمبر: 3859
حَدَّثَنَا أَبُو يُوسُفَ الصَّيْدَلَانِيُّ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الرَّقِّيُّ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ , عَنْ الْفَزَارِيِّ , عَنْ أَبِي شَيْبَةَ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُكَيْمٍ الْجُهَنِيِّ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ:" اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِاسْمِكَ الطَّاهِرِ الطَّيِّبِ الْمُبَارَكِ الْأَحَبِّ إِلَيْكَ الَّذِي , إِذَا دُعِيتَ بِهِ أَجَبْتَ , وَإِذَا سُئِلْتَ بِهِ أَعْطَيْتَ , وَإِذَا اسْتُرْحِمْتَ بِهِ رَحِمْتَ , وَإِذَا اسْتُفْرِجَتَ بِهِ فَرَّجْتَ" , قَالَتْ: وَقَالَ ذَاتَ يَوْمٍ:" يَا عَائِشَةُ , هَلْ عَلِمْتِ أَنَّ اللَّهَ قَدْ دَلَّنِي عَلَى الِاسْمِ الَّذِي إِذَا دُعِيَ بِهِ أَجَابَ" , قَالَتْ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي فَعَلِّمْنِيهِ , قَالَ:" إِنَّهُ لَا يَنْبَغِي لَكِ يَا عَائِشَةُ" , قَالَتْ: فَتَنَحَّيْتُ وَجَلَسْتُ سَاعَةً , ثُمَّ قُمْتُ فَقَبَّلْتُ رَأْسَهُ , ثُمَّ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , عَلِّمْنِيهِ , قَالَ:" إِنَّهُ لَا يَنْبَغِي لَكِ يَا عَائِشَةُ أَنْ أُعَلِّمَكِ , إِنَّهُ لَا يَنْبَغِي لَكِ أَنْ تَسْأَلِينَ بِهِ شَيْئًا مِنَ الدُّنْيَا" , قَالَتْ: فَقُمْتُ فَتَوَضَّأْتُ , ثُمَّ صَلَّيْتُ رَكْعَتَيْنِ , ثُمَّ قُلْتُ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَدْعُوكَ اللَّهَ , وَأَدْعُوكَ الرَّحْمَنَ , وَأَدْعُوكَ الْبَرَّ , الرَّحِيمَ , وَأَدْعُوكَ بِأَسْمَائِكَ الْحُسْنَى كُلِّهَا مَا عَلِمْتُ مِنْهَا وَمَا لَمْ أَعْلَمْ , أَنْ تَغْفِرَ لِي , وَتَرْحَمَنِي , قَالَتْ: فَاسْتَضْحَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , ثُمَّ قَالَ:" إِنَّهُ لَفِي الْأَسْمَاءِ الَّتِي دَعَوْتِ بِهَا".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ دعا مانگتے ہوئے سنا ہے: «اللهم إني أسألك باسمك الطاهر الطيب المبارك الأحب إليك الذي إذا دعيت به أجبت وإذا سئلت به أعطيت وإذا استرحمت به رحمت وإذا استفرجت به فرجت» ”اے اللہ! میں تجھ سے تیرے اس پاکیزہ، مبارک اچھے نام کے واسطہ سے دعا کرتا ہوں جو تجھے زیادہ پسند ہے کہ جب اس کے ذریعہ تجھ سے دعا کی جاتی ہے، تو تو قبول فرماتا ہے، اور جب اس کے ذریعہ تجھ سے سوال کیا جاتا ہے تو تو عطا کرتا ہے، اور جب اس کے ذریعہ تجھ سے رحم طلب کی جائے تو تو رحم فرماتا ہے، اور جب مصیبت کو دور کرنے کی دعا کی جاتی ہے تو مصیبت اور تنگی کو دور کرتا ہے“، اور ایک روز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عائشہ! کیا تم جانتی ہو کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنا وہ نام بتایا ہے کہ جب بھی اس کے ذریعہ دعا کی جائے تو وہ اسے قبول کرے گا“، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، مجھے بھی وہ نام بتا دیجئیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عائشہ! یہ تمہارے لیے مناسب نہیں“، میں یہ سن کر علیحدہ ہو گئی اور کچھ دیر خاموش بیٹھی رہی، پھر میں نے اٹھ کر آپ کے سر مبارک کو چوما، اور عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے بتا دیجئیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عائشہ! تمہارے لیے مناسب نہیں کہ میں تمہیں بتاؤں، اور تمہارے لیے اس اسم اعظم کے واسطہ سے دنیا کی کوئی چیز طلب کرنی مناسب نہیں، یہ سن کر میں اٹھی، وضو کیا، پھر میں نے دو رکعت نماز پڑھی، اس کے بعد میں نے یہ دعا مانگی: «اللهم إني أدعوك الله وأدعوك الرحمن وأدعوك البر الرحيم وأدعوك بأسمائك الحسنى كلها ما علمت منها وما لم أعلم أن تغفر لي وترحمني» ”اے اللہ! میں تجھ اللہ سے دعا کرتی ہوں، میں تجھ رحمن سے دعا کرتی ہوں، اور میں تجھ محسن و مہربان سے دعا کرتی ہوں اور میں تجھ سے تیرے تمام اسماء حسنیٰ سے دعا کرتی ہوں، جو مجھے معلوم ہوں یا نہ معلوم ہوں، یہ کہ تو مجھے بخش دے، اور مجھ پر رحم فرما“، یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہنسے اور فرمایا: ”اسم اعظم انہی اسماء میں ہے جس کے ذریعہ تم نے دعا مانگی ہے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الدعاء/حدیث: 3859]
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: «اللّٰهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِاسْمِكَ الطَّاهِرِ الطَّيِّبِ الْمُبَارَكِ الْأَحَبِّ إِلَيْكَ الَّذِي إِذَا دُعِيتَ بِهِ أَجَبْتَ وَإِذَا سُئِلْتَ بِهِ أَعْطَيْتَ وَإِذَا اسْتُرْحِمْتَ بِهِ رَحِمْتَ وَإِذَا اسْتُفْرِجْتَ بِهِ فَرَّجْتَ» ”یا اللہ! میں تجھ سے تیرے اس طاہر، طیب، برکت والے اور تجھے سب سے پیارے نام کے واسطے سے سوال کرتا ہوں جس کے وسیلے سے جب تجھ سے دعا کی جائے تو قبول فرماتا ہے، اور جب تجھ سے اس کے وسیلے سے کچھ مانگا جائے تو عطا فرماتا ہے، اور جب تجھ سے اس کے واسطے سے رحمت طلب کی جائے تو تو رحمت فرماتا ہے، اور جب تجھ سے اس کے واسطے سے پریشانی دور کرنے کی درخواست کی جائے تو تو پریشانی دور کرتا (اور مشکل کشائی فرماتا) ہے۔“ (بعد میں) ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عائشہ! تجھے پتہ ہے اللہ تعالیٰ نے مجھے وہ نام بتا دیا ہے جس کے واسطے سے جب اسے پکارا جائے تو وہ قبول فرماتا ہے؟“ میں نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے ماں باپ آپ پر قربان! مجھے بھی سکھا دیجیے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عائشہ! وہ تیرے لیے مناسب نہیں۔“ انہوں نے کہا: میں کچھ دیر ایک طرف بیٹھی رہی، پھر میں اٹھی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر مبارک کو بوسہ دے کر عرض کیا: ”اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے سکھا دیجیے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عائشہ! یہ بات تمہارے لیے مناسب نہیں کہ میں تمہیں وہ سکھاؤں۔ تمہارے لیے مناسب نہیں کہ اس کے وسیلے سے دنیا کی کوئی چیز مانگو۔“ ام المؤمنین رضی اللہ عنہا نے کہا: میں نے اٹھ کر وضو کیا، پھر دو رکعت نماز پڑھی، پھر میں نے کہا: «اللّٰهُمَّ إِنِّي أَدْعُوكَ اللّٰهَ وَأَدْعُوكَ الرَّحْمٰنَ وَأَدْعُوكَ الْبَرَّ الرَّحِيمَ وَأَدْعُوكَ بِأَسْمَائِكَ الْحُسْنٰى كُلِّهَا مَا عَلِمْتُ مِنْهَا وَمَا لَمْ أَعْلَمْ أَنْ تَغْفِرَ لِي وَتَرْحَمَنِي» ”یا اللہ! میں تجھے اللہ کہتی ہوں، میں تجھے رحمان کے نام سے پکارتی ہوں، میں تجھے برٌ رحیم پکارتی ہوں، میں تجھے تیرے تمام بہترین ناموں کا واسطہ دیتی ہوں جو نام مجھے معلوم ہیں اور جو معلوم نہیں (ان سب ناموں کا واسطہ دے کر دعا کرتی ہوں) کہ میری مغفرت فرما دے اور مجھ پر رحمت فرما دے۔“ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خوب ہنسے اور فرمایا: ”وہ انہیں ناموں میں ہے جن کے وسیلے سے تو نے دعا کی ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الدعاء/حدیث: 3859]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 16272، ومصباح الزجاجة: 1354) (ضعیف)» (سند میں ابوشیبہ مجہول راوی ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
أبو شيبة غير منسوب،وقال البوصيري: ’’ لم أر من جرحه ولا وثقه ‘‘ يعني أنه مجهول الحال وھو مذكور في التقريب (8165)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 514
إسناده ضعيف
أبو شيبة غير منسوب،وقال البوصيري: ’’ لم أر من جرحه ولا وثقه ‘‘ يعني أنه مجهول الحال وھو مذكور في التقريب (8165)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 514