🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
9. باب : اسم الله الأعظم
باب: اللہ تعالیٰ کے اسم اعظم کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3856
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ , حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِي سَلَمَةَ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْعَلَاءِ , عَنْ الْقَاسِمِ , قَالَ:" اسْمُ اللَّهِ الْأَعْظَمُ الَّذِي إِذَا دُعِيَ بِهِ أَجَابَ فِي سُوَرٍ ثَلَاثٍ: الْبَقَرَةِ , وَآلِ عِمْرَانَ , وَطه".
قاسم کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا اسم اعظم جس کے ذریعہ اگر دعا کی جائے تو قبول ہوتی ہے تین سورتوں میں ہے: سورۃ البقرہ، سورۃ آل عمران اور سورۃ طہٰ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الدعاء/حدیث: 3856]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 4921، ومصباح الزجاجة: 1351) (حسن) (ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 746)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: سورۃ بقرہ اور سورۃ آل عمران میں بھی یہی ہے: «الله لا إله إلا هو الحي القيوم» (سورة آل عمران: 2) اور سورۃ طہ میں ہے: «الله لا إله إلا هو له الأسماء الحسنى» (سورة طہ: 8) بعضوں نے کہا: «الله لا إله إلا هو الحي القيوم» یہی اسم اعظم ہے، بعضوں نے کہا صرف «الحي القيوم» ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:حسن

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥القاسم بن عبد الرحمن الشامي، أبو عبد الرحمنثقة
👤←👥عبد الله بن العلاء الربعي، أبو يزيد، أبو زبر، أبو عبد الرحمن
Newعبد الله بن العلاء الربعي ← القاسم بن عبد الرحمن الشامي
ثقة
👤←👥عمرو بن أبي سلمة التنيسي، أبو حفص
Newعمرو بن أبي سلمة التنيسي ← عبد الله بن العلاء الربعي
صدوق له أوهام
👤←👥دحيم القرشي، أبو سعيد
Newدحيم القرشي ← عمرو بن أبي سلمة التنيسي
ثقة حافظ متقن
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن ابن ماجه
3856
اسم الله الأعظم الذي إذا دعي به أجاب في سور ثلاث البقرة وآل عمران وطه
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 3856 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3856
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
 
(1)
اللہ تعالیٰ کے عظیم ترین نام (اسم اعظم)
کے بارے میں امام ابن ماجہ نے متعدد احادیث بیان کی ہیں کہ اس نام کے واسطے سے کی ہوئی دعا قبول ہوتی ہے۔

(2)
دعا کی قبولیت میں مسنون دعائیں پڑھنے کے ساتھ ساتھ دعا کرنے والے کی قلبی کیفیت کا بہت زیادہ دخل ہے۔
جس قدر اللہ سے امید ہو، اس کے آگے عجز و انکساری کا اظہار اور ا س پر توکل زیادہ ہو، اور جس قدر دعا کے دوسرے آداب کو زیادہ ملحوظ رکھا جائے، قبولیت کا امکان اسی قدر زیادہ ہوتا ہے۔

(3)
قبولیت دعا کے لیے ضروری ہے کہ کوئی رکاوٹ موجود نہ ہو، مثلاً:
رزق حرام، بے توجہی سے دعا جو صرف زبان سے ادا ہوتی ہے دل متوجہ نہیں ہوتا، اللہ کی حمد و ثنا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود نہ پڑھنا وغیرہ، اس صورت میں اسم اعظم کی وہ برکات ظاہر نہیں ہوتیں جن کی اس سے امید رکھی جاتی ہے۔

(4)
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ، نے اسم اعظم کے تعین میں چودہ اقوال ذکر کیے ہیں۔
دیکھئے: (فتح الباري: 11/ 268، 269، حديث: 6410)
اسم اعظم والی جو آیات وادعیہ مختلف احادیث میں ذکر کی گئی ہیں، ان سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ غالباً کلمہ توحید (لَا إِلٰهَ إِلَّا الله يا لَا إِلٰهَ إِلَّا أَنْتَ)
ہی اسم اعظم ہے۔
واللہ أعلم۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3856]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3856M
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ , حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِي سَلَمَةَ , قَالَ: ذَكَرْتُ ذَلِكَ لِعِيسَى بْنِ مُوسَى , فَحَدَّثَنِي أَنَّهُ سَمِعَ غَيْلَانَ بْنَ أَنَسٍ يُحَدِّثُ , عَنْ الْقَاسِمِ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , نَحْوَهُ.
اس سند سے ابوامامہ سے بھی اسی طرح مرفوعاً مروی ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الدعاء/حدیث: 3856M]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 4921، ومصباح الزجاجة: 1352) (حسن)» ‏‏‏‏ (غیلان بن انس مقبول ہیں، لیکن ابو یعلی میں عبداللہ بن العلاء نے ان کی متابعت کی ہے، نیز أسماء بنت یزید کی حدیث شاہد ہے، جو ترمذی اور ابوداود میں ہے)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥صدي بن عجلان الباهلي، أبو أمامةصحابي
👤←👥القاسم بن عبد الرحمن الشامي، أبو عبد الرحمن
Newالقاسم بن عبد الرحمن الشامي ← صدي بن عجلان الباهلي
ثقة
👤←👥غيلان بن أنس الكلبي، أبو يزيد
Newغيلان بن أنس الكلبي ← القاسم بن عبد الرحمن الشامي
صدوق حسن الحديث
👤←👥عيسى بن موسى القرشي، أبو محمد، أبو موسى
Newعيسى بن موسى القرشي ← غيلان بن أنس الكلبي
ثقة
👤←👥عمرو بن أبي سلمة التنيسي، أبو حفص
Newعمرو بن أبي سلمة التنيسي ← عيسى بن موسى القرشي
صدوق له أوهام
👤←👥دحيم القرشي، أبو سعيد
Newدحيم القرشي ← عمرو بن أبي سلمة التنيسي
ثقة حافظ متقن