🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

15. بَابُ: مَا يَدْعُو بِهِ إِذَا أَوَى إِلَى فِرَاشِهِ
باب: بستر پر لیٹتے وقت کیا دعا پڑھے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3873
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُخْتَارِ , حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ إِذَا أَوَى إِلَى فِرَاشِهِ:" اللَّهُمَّ رَبَّ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ , وَرَبَّ كُلِّ شَيْءٍ , فَالِقَ الْحَبِّ وَالنَّوَى , مُنْزِلَ التَّوْرَاةِ , وَالْإِنْجِيلِ , وَالْقُرْآنِ الْعَظِيمِ , أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ كُلِّ دَابَّةٍ أَنْتَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهَا , أَنْتَ الْأَوَّلُ فَلَيْسَ قَبْلَكَ شَيْءٌ , وَأَنْتَ الْآخِرُ فَلَيْسَ بَعْدَكَ شَيْءٌ , وَأَنْتَ الظَّاهِرُ فَلَيْسَ فَوْقَكَ شَيْءٌ , وَأَنْتَ الْبَاطِنُ فَلَيْسَ دُونَكَ شَيْءٌ , اقْضِ عَنِّي الدَّيْنَ , وَأَغْنِنِي مِنَ الْفَقْرِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے بستر پر تشریف لے جاتے تو یہ دعا پڑھتے: «اللهم رب السموات ورب الأرض ورب كل شيء فالق الحب والنوى منزل التوراة والإنجيل والقرآن العظيم أعوذ بك من شر كل دابة أنت آخذ بناصيتها أنت الأول فليس قبلك شيء وأنت الآخر فليس بعدك شيء وأنت الظاهر فليس فوقك شيء وأنت الباطن فليس دونك شيء اقض عني الدين وأغنني من الفقر» اے اللہ! آسمانوں اور زمین کے رب! ہر چیز کے رب! دانے اور گٹھلی کو پھاڑ کر پودا نکالنے والے! توراۃ، انجیل اور قرآن عظیم کو نازل کرنے والے! میں تیری پناہ چاہتا ہوں زمین پر رینگنے والی ہر مخلوق کے شر و فساد سے، جس کی پیشانی تیرے ہاتھوں میں ہے، تو ہی سب سے پہلے ہے، تجھ سے پہلے کوئی نہیں تھا، اور تو ہی سب سے آخر ہے تیرے بعد کوئی نہیں، اور تو ہی ظاہر ہے تیرے اوپر کوئی نہیں، اور تو ہی باطن ہے تجھ سے ورے کوئی چیز نہیں، میرا قرض ادا کرا دے اور فقر و مسکنت سے مجھے آزاد کرا دے آسودہ حال بنا دے)۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الدعاء/حدیث: 3873]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہوئے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بستر پر تشریف لے جاتے تو فرماتے: «اللَّهُمَّ رَبَّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ، وَرَبَّ كُلِّ شَيْءٍ، فَالِقَ الْحَبِّ وَالنَّوَى، مُنْزِلَ التَّوْرَاةِ وَالْإِنْجِيلِ وَالْقُرْآنِ الْعَظِيمِ، أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ كُلِّ دَابَّةٍ أَنْتَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهَا، أَنْتَ الْأَوَّلُ فَلَيْسَ قَبْلَكَ شَيْءٌ، وَأَنْتَ الْآخِرُ فَلَيْسَ بَعْدَكَ شَيْءٌ، وَأَنْتَ الظَّاهِرُ فَلَيْسَ فَوْقَكَ شَيْءٌ، وَأَنْتَ الْبَاطِنُ فَلَيْسَ دُونَكَ شَيْءٌ، اقْضِ عَنِّي الدَّيْنَ وَأَغْنِنِي مِنَ الْفَقْرِ» اے اللہ! اے آسمانوں اور زمین کے مالک! اور ہر چیز کے مالک! اے دانے اور گٹھلی کو پھاڑنے والے! اے تورات، انجیل اور قرآنِ عظیم کو نازل فرمانے والے! میں ہر اس جاندار کے شر سے تیری پناہ میں آتا ہوں جس کی پیشانی تیرے قبضے میں ہے۔ تو ہی اول ہے، تجھ سے پہلے کچھ نہیں۔ تو ہی آخر ہے، تیرے بعد کچھ نہیں۔ تو ہی ظاہر ہے، تجھ سے اوپر کچھ نہیں۔ تو ہی باطن ہے، تجھ سے پوشیدہ تر کوئی چیز نہیں۔ مجھ سے میرا قرض ادا کر دے اور مجھے فقر سے (نجات دے کر) غنی کر دے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الدعاء/حدیث: 3873]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 12733)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الذکر والدعاء 17 (2713)، سنن ابی داود/الأدب 107 (5051)، سنن الترمذی/الدعوات 19 (3400)، مسند احمد (2/381) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3874
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ , عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" إِذَا أَرَادَ أَحَدُكُمْ أَنْ يَضْطَجِعَ عَلَى فِرَاشِهِ , فَلْيَنْزِعْ دَاخِلَةَ إِزَارِهِ , ثُمَّ لِيَنْفُضْ بِهَا فِرَاشَهُ , فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي مَا خَلَفَهُ عَلَيْهِ , ثُمَّ لِيَضْطَجِعْ عَلَى شِقِّهِ الْأَيْمَنِ , ثُمَّ لِيَقُلْ: رَبِّ بِكَ وَضَعْتُ جَنْبِي وَبِكَ أَرْفَعُهُ , فَإِنْ أَمْسَكْتَ نَفْسِي فَارْحَمْهَا , وَإِنْ أَرْسَلْتَهَا فَاحْفَظْهَا بِمَا حَفِظْتَ بِهِ عِبَادَكَ الصَّالِحِينَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی اپنے بستر پر لیٹنے کا ارادہ کرے تو اپنے تہبند کا داخلی کنارہ کھینچ کر اس سے اپنا بستر جھاڑے، اس لیے کہ اسے نہیں پتہ کہ (جانے کے بعد) بستر پر کون سی چیز پڑی ہے، پھر داہنی کروٹ لیٹے اور کہے: «رب بك وضعت جنبي وبك أرفعه فإن أمسكت نفسي فارحمها وإن أرسلتها فاحفظها بما حفظت به عبادك الصالحين» میرے رب! میں نے تیرا نام لے کر اپنا پہلو رکھا ہے، اور تیرے ہی نام پر اس کو اٹھاؤں گا، پھر اگر تو میری جان کو روک لے (یعنی اب میں نہ جاگوں اور مر جاؤں) تو اس پر رحم فرما، اور اگر تو چھوڑ دے (اور میں جاگوں) تو اس کی حفاظت فرما ان چیزوں کے ذریعہ جن سے تو نے اپنے نیک بندوں کی حفاظت فرماتا ہے)۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الدعاء/حدیث: 3874]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص بستر پر لیٹنا چاہے تو وہ اپنے تہبند کا کنارہ کھول کر اس کے ساتھ اپنے بستر کو جھاڑ لے کیونکہ اسے معلوم نہیں کہ اس کی غیر موجودگی میں اس (بستر) پر کیا چیز آئی، پھر اپنے دائیں پہلو لیٹ کر یوں کہے: «رَبِّ بِكَ وَضَعْتُ جَنْبِي، وَبِكَ أَرْفَعُهُ، فَإِنْ أَمْسَكْتَ نَفْسِي فَارْحَمْهَا، وَإِنْ أَرْسَلْتَهَا فَاحْفَظْهَا بِمَا حَفِظْتَ بِهِ عِبَادَكَ الصَّالِحِينَ» اے میرے رب! تیری ہی توفیق سے میں نے اپنا پہلو (بستر پر) رکھا ہے اور تیری ہی توفیق سے اسے اٹھاؤں گا۔ اگر تو نے میری روح (اس دوران میں) قبض کر لی تو اس پر رحم فرمانا، اور اگر تو اسے چھوڑ دے (اور قبض نہ کرے) تو اس کی اس طریقے سے حفاظت فرمانا جیسے تو اپنے نیک بندوں کی حفاظت فرماتا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الدعاء/حدیث: 3874]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الدعوات 13 (6320 تعلیقاً)، التوحید 13 (7393 تعلیقاً)، (تحفة الأشراف: 12984)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الذکروالدعاء 17 (2714)، مسند احمد (2/283، 432، 295)، سنن الدارمی/الاستئذان 51 (2726) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3875
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ , حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ , وَسَعِيدُ بْنُ شُرَحْبِيلَ , أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ , عَنْ عُقَيْلٍ , عَنْ ابْنِ شِهَابٍ , أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ أَخْبَرَهُ , عَنْ عَائِشَةَ : أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ" إِذَا أَخَذَ مَضْجَعَهُ , نَفَثَ فِي يَدَيْهِ , وَقَرَأَ , وَمَسَحَ بِهِمَا جَسَدَهُ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے بستر پر لیٹتے تو اپنے دونوں ہاتھوں میں پھونک مارتے، اور معوذتین: «قل أعوذ برب الفلق» و «قل أعوذ برب الناس» پڑھتے، اور انہیں اپنے جسم پر پھیر لیتے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الدعاء/حدیث: 3875]
ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب بستر پر آرام فرما ہوتے تو «الْمُعَوِّذَتَيْنِ» (سورہ فلق اور سورہ ناس) پڑھ کر اپنے ہاتھوں پر پھونک مارتے اور پھر دونوں ہاتھ جسم مبارک پر پھیر لیتے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الدعاء/حدیث: 3875]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الدعوات 12 (6319)، سنن الترمذی/الدعوات 21 (3402)، سنن ابی داود/الأدب 107 (5056)، (تحفة الأشراف: 16537)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/116، 154) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3876
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ أَبِي إِسْحَاق , عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ لِرَجُلٍ:" إِذَا أَخَذْتَ مَضْجَعَكَ , أَوْ أَوَيْتَ إِلَى فِرَاشِكَ , فَقُلْ: اللَّهُمَّ أَسْلَمْتُ وَجْهِي إِلَيْكَ , وَأَلْجَأْتُ ظَهْرِي إِلَيْكَ , وَفَوَّضْتُ أَمْرِي إِلَيْكَ , رَغْبَةً وَرَهْبَةً إِلَيْكَ , لَا مَلْجَأَ وَلَا مَنْجَأَ مِنْكَ إِلَّا إِلَيْكَ , آمَنْتُ بِكِتَابِكَ الَّذِي أَنْزَلْتَ , وَنَبِيِّكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ , فَإِنْ مِتَّ مِنْ لَيْلَتِكَ , مِتَّ عَلَى الْفِطْرَةِ , وَإِنْ أَصْبَحْتَ , أَصْبَحْتَ وَقَدْ أَصَبْتَ خَيْرًا كَثِيرًا".
براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے فرمایا: جب تم سونے لگو یا اپنے بستر پر جاؤ تو یہ دعا پڑھا کرو: «اللهم أسلمت وجهي إليك وألجأت ظهري إليك وفوضت أمري إليك رغبة ورهبة إليك لا ملجأ ولا منجى منك إلا إليك آمنت بكتابك الذي أنزلت ونبيك الذي أرسلت» اے اللہ! میں نے اپنا چہرہ (یعنی نفس) تجھ کو سونپ دیا، اپنی پیٹھ تیرے سہارے پر لگا دی، اور اپنا کام تیرے سپرد کر دیا، امیدی ناامیدی کے ساتھ تیری ذات پر بھروسہ کیا، سوائے تیرے سوا کہیں اور کوئی جائے پناہ اور جائے نجات نہیں، میں تیری کتاب پر جسے تو نے نازل کیا، اور تیرے نبی پر جسے تو نے بھیجا ایمان لایا، پھر اگر تمہارا اس رات انتقال ہو گیا تو دین اسلام پر مرو گے، اور اگر تم نے صبح کی تو تم خیر کثیر کے ساتھ صبح کرو گے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الدعاء/حدیث: 3876]
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی سے فرمایا: جب تو سونے لگے یا فرمایا: جب تو اپنے بستر پر جائے تو کہہ: «اللَّهُمَّ أَسْلَمْتُ وَجْهِي إِلَيْكَ، وَأَلْجَأْتُ ظَهْرِي إِلَيْكَ، وَفَوَّضْتُ أَمْرِي إِلَيْكَ رَغْبَةً وَرَهْبَةً إِلَيْكَ، لَا مَلْجَأَ وَلَا مَنْجَى مِنْكَ إِلَّا إِلَيْكَ، آمَنْتُ بِكِتَابِكَ الَّذِي أَنْزَلْتَ، وَنَبِيِّكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ» اے اللہ! میں نے اپنا چہرہ تیرے تابع کر دیا، اور اپنی پشت تیری طرف جھکائی، اور اپنا معاملہ تیرے سپرد کر دیا، ثواب میں رغبت کرتے ہوئے اور تیرے عذاب سے ڈرتے ہوئے۔ تیری بارگاہ کے سوا کوئی ٹھکانہ اور جائے پناہ نہیں۔ میں تیری اس کتاب پر ایمان لایا جو تو نے نازل کی، اور تیرے اس نبی پر ایمان لایا جسے تو نے بھیجا۔ پھر اگر تو اس رات میں فوت ہو گیا تو تیری موت فطرت (دین اسلام) پر ہو گی، اور اگر تجھے (خیریت سے) صبح ہو گئی تو تیری یہ صبح اس حال میں ہو گی کہ تو بہت بھلائی حاصل کر چکا ہو گا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الدعاء/حدیث: 3876]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 1852)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الوضوء 75 (247)، صحیح مسلم/الذکر والدعاء 17 (2710)، سنن الترمذی/الدعوات 16 (3394)، مسند احمد (4/ 289، 298، 303)، سنن الدارمی/ الاستئذان 51 (2725) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3877
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , عَنْ إِسْرَائِيلَ , عَنْ أَبِي إِسْحَاق , عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ , إِذَا أَوَى إِلَى فِرَاشِهِ , وَضَعَ يَدَهُ يَعْنِي: الْيُمْنَى تَحْتَ خَدِّهِ , ثُمَّ قَالَ:" اللَّهُمَّ قِنِي عَذَابَكَ يَوْمَ تَبْعَثُ أَوْ تَجْمَعُ عِبَادَكَ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب بستر پر تشریف لے جاتے تو اپنا دایاں ہاتھ اپنے رخسار مبارک کے نیچے رکھتے، پھر (یہ دعا) پڑھتے: «اللهم قني عذابك يوم تبعث (أو تجمع) عبادك» اے اللہ! مجھ کو تو اپنے اس دن کے عذاب سے بچا جس دن تو اپنے بندوں کو اٹھائے گا یا جمع کرے گا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الدعاء/حدیث: 3877]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب بستر پر تشریف لے جاتے تو اپنا دایاں ہاتھ اپنے رخسار کے نیچے رکھ کر فرماتے: «اَللّٰهُمَّ قِنِي عَذَابَكَ يَوْمَ تَبْعَثُ أَوْ تَجْمَعُ عِبَادَكَ» یا فرماتے: «يَوْمَ تَجْمَعُ عِبَادَكَ» اے اللہ! مجھے (اس دن) اپنے عذاب سے محفوظ رکھنا جس دن تو اپنے بندوں کو اٹھائے گا، یا اپنے بندوں کو جمع کرے گا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الدعاء/حدیث: 3877]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 9617، ومصباح الزجاجة: 1358)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/394، 400، 414، 443) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں