سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
30. بَابُ: ذِكْرِ التَّوْبَةِ
باب: توبہ کا بیان۔
حدیث نمبر: 4257
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ , حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ , عَنْ مُوسَى بْنِ الْمُسَيَّبِ الثَّقَفِيِّ , عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ , عَنْ أَبِي ذَرٍّ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى , يَقُولُ: يَا عِبَادِي , كُلُّكُمْ مُذْنِبٌ إِلَّا مَنْ عَافَيْتُ , فَسَلُونِي الْمَغْفِرَةَ فَأَغْفِرَ لَكُمْ , وَمَنْ عَلِمَ مِنْكُمْ أَنِّي ذُو قُدْرَةٍ عَلَى الْمَغْفِرَةِ , فَاسْتَغْفَرَنِي بِقُدْرَتِي غَفَرْتُ لَهُ , وَكُلُّكُمْ ضَالٌّ إِلَّا مَنْ هَدَيْتُ , فَسَلُونِي الْهُدَى أَهْدِكُمْ , وَكُلُّكُمْ فَقِيرٌ إِلَّا مَنْ أَغْنَيْتُ , فَسَلُونِي أَرْزُقْكُمْ , وَلَوْ أَنَّ حَيَّكُمْ وَمَيِّتَكُمْ , وَأَوَّلَكُمْ وَآخِرَكُمْ , وَرَطْبَكُمْ وَيَابِسَكُمُ اجْتَمَعُوا , فَكَانُوا عَلَى قَلْبِ أَتْقَى عَبْدٍ مِنْ عِبَادِي لَمْ , يَزِدْ فِي مُلْكِي جَنَاحُ بَعُوضَةٍ , وَلَوِ اجْتَمَعُوا فَكَانُوا عَلَى قَلْبِ أَشْقَى عَبْدٍ مِنْ عِبَادِي , لَمْ يَنْقُصْ مِنْ مُلْكِي جَنَاحُ بَعُوضَةٍ , وَلَوْ أَنَّ حَيَّكُمْ وَمَيِّتَكُمْ , وَأَوَّلَكُمْ وَآخِرَكُمْ , وَرَطْبَكُمْ وَيَابِسَكُمُ اجْتَمَعُوا , فَسَأَلَ كُلُّ سَائِلٍ مِنْهُمْ مَا بَلَغَتْ أُمْنِيَّتُهُ , مَا نَقَصَ مِنْ مُلْكِي إِلَّا كَمَا لَوْ أَنَّ أَحَدَكُمْ مَرَّ بِشَفَةِ الْبَحْرِ فَغَمَسَ فِيهَا إِبْرَةً ثُمَّ نَزَعَهَا , ذَلِكَ بِأَنِّي جَوَادٌ مَاجِدٌ عَطَائِي كَلَامٌ , إِذَا أَرَدْتُ شَيْئًا فَإِنَّمَا أَقُولُ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ".
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: میرے بندو! تم سب گناہ گار ہو سوائے اس کے جس کو میں بچائے رکھوں، تو تم مجھ سے مغفرت طلب کرو، میں تمہیں معاف کر دوں گا، اور تم میں سے جو جانتا ہے کہ میں مغفرت کی قدرت رکھتا ہوں اور وہ میری قدرت کی وجہ سے معافی چاہتا ہے تو میں اسے معاف کر دیتا ہوں، تم سب کے سب گمراہ ہو سوائے اس کے جسے میں ہدایت دوں، تم مجھ ہی سے ہدایت مانگو، میں تمہیں ہدایت دوں گا، تم سب کے سب محتاج ہو سوائے اس کے جس کو میں غنی (مالدار) کر دوں، تم مجھ ہی سے مانگو میں تمہیں روزی دوں گا، اور اگر تمہارے زندہ و مردہ، اول و آخر اور خشک و تر سب جمع ہو جائیں، اور میرے بندوں میں سے سب سے زیادہ پرہیزگار شخص کی طرح ہو جائیں تو میری سلطنت میں ایک مچھر کے پر کے برابر بھی اضافہ نہ ہو گا، اور اگر یہ سب مل کر میرے بندوں میں سے سب سے زیادہ بدبخت کی طرح ہو جائیں تو میری سلطنت میں ایک مچھر کے پر کے برابر بھی کمی نہ ہو گی، اور اگر تمہارے زندہ و مردہ، اول و آخر اور خشک و تر سب جمع ہو جائیں، اور ان میں سے ہر ایک مجھ سے اتنا مانگے جہاں تک اس کی آرزوئیں پہنچیں، تو میری سلطنت میں کوئی فرق واقع نہ ہو گا، مگر اس قدر جیسے تم میں سے کوئی سمندر کے کنارے پر سے گزرے اور اس میں ایک سوئی ڈبو کر نکال لے، یہ اس وجہ سے ہے کہ میں سخی ہوں، بزرگ ہوں، میرا دینا صرف کہہ دینا ہے، میں کسی چیز کا ارادہ کرتا ہوں تو کہتا ہوں ”ہو جا“ اور وہ ہو جاتی ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4257]
حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتا ہے: ”اے میرے بندو! تم سب گناہ کرنے والے ہو، سوائے اس کے جسے میں محفوظ رکھوں، اس لیے مجھ سے بخشش طلب کرو، میں تمہیں بخش دوں گا۔ تم میں سے جو کوئی یہ یقین رکھے کہ میں بخشنے کی قدرت رکھتا ہوں، پھر وہ مجھ سے میری قدرت کے واسطے سے بخشش کی درخواست کرے تو میں اس کی مغفرت کر دوں گا۔ تم سب راہ بھولے ہوئے ہو، سوائے اس کے جسے میں ہدایت دوں، چنانچہ مجھ سے ہدایت مانگو میں تمہیں ہدایت دوں گا۔ تم سب فقیر (محتاج اور مفلس) ہو، سوائے اس کے جسے میں غنی کر دوں، لہٰذا مجھ سے مانگو میں تمہیں رزق دوں گا۔ اگر تمہارے زندہ، فوت شدہ، پہلے اور پچھلے، تر اور خشک اکٹھے ہو کر میرے بندوں میں سے سب سے زیادہ متقی انسان جیسے دل والے بن جائیں تو اس سے میری بادشاہت میں مچھر کے پر جتنا بھی اضافہ نہیں ہو گا۔ اور اگر وہ سب اکٹھے ہو کر میرے بندوں میں سب سے زیادہ بدنصیب (اور بدکار) بندے جیسے دل والے بن جائیں، اس سے میری بادشاہت میں مچھر کے پر جتنی کمی نہیں آئے گی۔ اگر تمہارے زندہ، فوت شدہ، پہلے اور پچھلے، تر اور خشک اکٹھے ہو کر (مجھ سے سوال کریں اور) ہر مانگنے والا وہ سب کچھ مانگ لے جس کی وہ (زیادہ سے زیادہ) تمنا کر سکتا ہے، تو اس سے میری بادشاہت میں اتنی ہی کمی نہیں آئے گی، جیسے کوئی سمندر کے کنارے پر جائے اور اس میں ایک سوئی ڈبو کر نکال لے؛ کیونکہ میں سخی اور عظمتوں والا ہوں، میری عطا کلام کرنا ہے۔ جب میں کسی چیز کا ارادہ کروں تو اسے صرف یہ کہتا ہوں: «كُنْ» ”ہو جا“ تو وہ ﴿فَيَكُونُ﴾ [سورة يس: 82] ”ہو جاتی ہے۔““ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4257]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/صفة القیامة 48 (2495)، (تحفة الأشراف: 11964)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/البر والصلة 15 (2577)، مسند احمد (5/154، 177) (ضعیف)» (سند شہر بن حوشب کی وجہ سے ضعیف ہے، لیکن صحیح مسلم میں حدیث کے اکثر جملے ثابت ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف