سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
31. بَابُ: ذِكْرِ الْمَوْتِ وَالاِسْتِعْدَادِ لَهُ
باب: موت کی یاد اور اس کی تیاری کا بیان۔
حدیث نمبر: 4258
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ , حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَكْثِرُوا ذِكْرَ هَاذِمِ اللَّذَّاتِ" يَعْنِي: الْمَوْتَ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لذتوں کو توڑنے والی (یعنی موت) کو کثرت سے یاد کیا کرو“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4258]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لذتیں ختم کرنے والی یعنی موت کو کثرت سے یاد کیا کرو۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4258]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الزھد 4 (2307)، سنن النسائی/الجنائز 3 (1825)، (تحفة الأشراف: 15080، 15087)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/293) (حسن صحیح)»
وضاحت: ۱؎: موت کی یاد سے دنیا کی بے ثباتی ذہن میں جمتے ہی آخرت کا خیال پیدا ہوتا ہے، یہی فائدہ قبروں کی زیارت کا بھی ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے موت کو لذتوں کو مٹانے والی کہا یعنی موت کی یاد آدمی کے دل و دماغ کو دنیا کی لذتوں سے دور کر دیتے ہیں، یا موت کے آتے ہی آدمی کا تعلق دنیا کی لذتوں اور نعمتوں سے خود بخود ختم ہو جاتا ہے، امام قرطبی اس حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں کہ یہ بڑا مختصر جملہ ہے، جو تذکیر و نصیحت میں بلیغ اور جامع ہے، کیونکہ جس نے صحیح معنوں میں موت کو یاد کیا تو اس سے اس پر دنیاوی لذت کرکری ہو جاتی ہے، اور مستقبل میں اس کی تمنا اور آرزو کا سلسلہ ختم ہو جاتا ہے، اور جن نعمتوں کے بارے میں وہ سوچتا تھا، اس میں بڑی کمی آ جاتی ہے، لیکن غافل دل اور ٹھہری ہوئی طبیعتیں لمبے چوڑے وعظ و نصیحت اور تفنن کلام کی محتاج ہوتی ہیں، ورنہ حدیث رسول: لذتوں کو ختم کر دینے والی چیز یعنی موت کو کثرت سے یاد کرو، اور آیت کریمہ: «كل نفس ذائقة الموت» ”ہر نفس کو موت کا مزا چکنا ہے“ (سورة الأنبياء: 35) ہی سامع کے لیے کافی ہے، اور دیکھنے والے کو مشغول کر دینے والی ہے، نیز کہتے ہیں: موت کی یاد کے نتیجے میں اس دار فانی سے بے رغبتی کا شعور و احساس پیدا ہوتا ہے، اور ہر لحظہ باقی رہنے والی آخرت کی طرف توجہ ہو جاتی ہے، تو انسان دو حالات میں گھر کر رہ جاتا ہے، ایک تنگی اور وسعت کی حالت اور دوسری نعمت و ابتلاء کی حالت تو تنگی اور ابتلاء کی صورت میں موت کی یاد سے یہ صورت حال اس کے لیے آسان ہو جاتی ہے کہ یہ حالت ہمیشہ برقرار رہنے والی نہیں ہے، بلکہ موت اس سے زیادہ سخت ہے، اور نعمت اور وسعت کی حالت میں موت کی یاد اس کو دنیاوی نعمتوں اور وسعتوں سے دھوکہ کھانے اور اس سے سکون حاصل کرنے سے روک دیتی ہے،اور موت انسان کو ان چیزوں سے دور کر دیتی ہے، موت کی کوئی معلوم عمر نہیں ہے، اور نہ اس کا زمانہ ہی معلوم ہے اور نہ اس کی بیماری ہی معلوم ہے، تو آدمی کو اس کے لیے ہر وقت تیار رہنا چاہئے۔ ملاحظہ ہو: التذکرۃ بأحوال الموتیٰ وأمورالآخرۃ (الفریوائی)
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
حدیث نمبر: 4259
حَدَّثَنَا الزُّبَيْرُ بْنُ بَكَّارٍ , حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ , حَدَّثَنَا نَافِعُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ , عَنْ فَرْوَةَ بْنِ قَيْسٍ , عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , أَنَّهُ قَالَ: كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَجَاءَهُ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ , فَسَلَّمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , ثُمَّ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَيُّ الْمُؤْمِنِينَ أَفْضَلُ؟ قَالَ:" أَحْسَنُهُمْ خُلُقًا" , قَالَ: فَأَيُّ الْمُؤْمِنِينَ أَكْيَسُ؟ قَالَ:" أَكْثَرُهُمْ لِلْمَوْتِ ذِكْرًا , وَأَحْسَنُهُمْ لِمَا بَعْدَهُ اسْتِعْدَادًا , أُولَئِكَ الْأَكْيَاسُ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا کہ آپ کے پاس ایک انصاری شخص آیا، اس نے آپ کو سلام کیا، پھر کہنے لگا: اللہ کے رسول! مومنوں میں سے کون سب سے بہتر ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جو ان میں سب سے اچھے اخلاق والا ہے“، اس نے کہا: ان میں سب سے عقلمند کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو ان میں موت کو سب سے زیادہ یاد کرے، اور موت کے بعد کی زندگی کے لیے سب سے اچھی تیاری کرے، وہی عقلمند ہے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4259]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھا، ایک انصاری صحابی آئے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا، پھر کہا: ”اللہ کے رسول! کون سا مومن افضل ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کا اخلاق زیادہ اچھا ہو۔“ انہوں نے کہا: ”کون سا مومن زیادہ عقل مند ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو موت کو زیادہ یاد کرتے ہیں اور اس کے بعد (کے مراحل) کے لیے زیادہ اچھی تیاری کرتے ہیں، یہی عقل مند ہیں۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4259]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 7333، ومصباح الزجاجة: 1524) (حسن)» (سند میں فروہ بن قیس اور نافع بن عبد اللہ مجہول ہیں، لیکن حدیث دوسرے شواہد سے حسن ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 1384)
قال الشيخ الألباني: حسن
حدیث نمبر: 4260
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الْحِمْصِيُّ , حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ , حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ , عَنْ ضَمْرَةَ بْنِ حَبِيبٍ , عَنْ أَبِي يَعْلَى شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ , , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْكَيِّسُ مَنْ دَانَ نَفْسَهُ , وَعَمِلَ لِمَا بَعْدَ الْمَوْتِ , وَالْعَاجِزُ مَنْ أَتْبَعَ نَفْسَهُ هَوَاهَا , ثُمَّ تَمَنَّى عَلَى اللَّهِ".
ابو یعلیٰ شداد بن اوس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عقلمند وہ ہے جو اپنے نفس کا محاسبہ کرے، اور موت کے بعد کی زندگی کے لیے عمل کرے، اور عاجز وہ ہے جو اپنے نفس کو خواہشوں پر لگا دے، پھر اللہ تعالیٰ سے تمنائیں کرے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4260]
حضرت ابو یعلی شداد بن اوس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عقل مند وہ ہے جو اپنا محاسبہ کرے اور موت کے بعد والی زندگی کے لیے عمل کرے، اور بے وقوف وہ ہے جو اپنے نفس کو خواہشات کے پیچھے لگا دے (نفس کی خواہشات کے مطابق زندگی گزارتا ہے) اور اللہ سے (جھوٹی) امیدیں وابستہ کرے (یہ کہہ کر مطمئن ہو جائے کہ اللہ بہت بخشنے والا ہے، لیکن عمل ایسے کرے جس سے اس کی رحمت کے بجائے اس کا غضب حاصل ہو)۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4260]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/صفة القیامة 25 (2459)، تحفة الأشراف: (4820)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/124) (ضعیف)» (سند میں بقیہ مدلس اور ابن ابی مریم ضعیف ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف / ت+2459
حدیث نمبر: 4261
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَكَمِ بْنِ أَبِي زِيَادٍ , حَدَّثَنَا سَيَّارٌ , حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ , عَنْ ثَابِتٍ , عَنْ أَنَسٍ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَى شَابٍّ وَهُوَ فِي الْمَوْتِ , فَقَالَ:" كَيْفَ تَجِدُكَ" , قَالَ: أَرْجُو اللَّهَ يَا رَسُولَ اللَّهِ , وَأَخَافُ ذُنُوبِي , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَجْتَمِعَانِ فِي قَلْبِ عَبْدٍ فِي مِثْلِ هَذَا الْمَوْطِنِ , إِلَّا أَعْطَاهُ اللَّهُ مَا يَرْجُو, وَآمَنَهُ مِمَّا يَخَافُ".
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک نوجوان کے پاس آئے جو مرض الموت میں تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: ”تم اپنے آپ کو کیسا پاتے ہو“؟ اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اللہ کی رحمت کی امید کرتا ہوں، اور اپنے گناہوں سے ڈرتا ہوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس بندے کے دل میں ایسے وقت میں یہ دونوں کیفیتیں جمع ہو جائیں، اللہ تعالیٰ اس کو وہ چیز دے گا جس کی وہ امید کرتا ہے، اور جس چیز سے ڈرتا ہے، اس سے محفوظ رکھے گا“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4261]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک نوجوان کے پاس تشریف لے گئے جو قریب الوفات تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا حال ہے؟“ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ سے (اس کی رحمت کی) امید رکھتا ہوں لیکن اپنے گناہوں سے ڈر بھی لگتا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس بندے کے دل میں ایسے موقع پر یہ دونوں چیزیں (امید اور خوف) جمع ہو جائیں، اللہ تعالیٰ اسے وہ چیز دیتا ہے جس کی وہ امید رکھتا ہے اور اسے اس چیز سے بچا لیتا ہے جس سے وہ ڈرتا ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4261]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الجنائز 11 (983)، (تحفة الأشراف: 262) (حسن)» (سند میں سیار بن حاتم ضعیف ہیں، لیکن شاہد کی بناء پر یہ حسن ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 1051)
قال الشيخ الألباني: حسن
حدیث نمبر: 4262
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا شَبَابَةُ , عَنْ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" الْمَيِّتُ تَحْضُرُهُ الْمَلَائِكَةُ , فَإِذَا كَانَ الرَّجُلُ صَالِحًا , قَالُوا: اخْرُجِي أَيَّتُهَا النَّفْسُ الطَّيِّبَةُ , كَانَتْ فِي الْجَسَدِ الطَّيِّبِ , اخْرُجِي حَمِيدَةً , وَأَبْشِرِي بِرَوْحٍ وَرَيْحَانٍ وَرَبٍّ غَيْرِ غَضْبَانَ , فَلَا يَزَالُ يُقَالُ لَهَا ذَلِكَ حَتَّى تَخْرُجَ , ثُمَّ يُعْرَجُ بِهَا إِلَى السَّمَاءِ , فَيُفْتَحُ لَهَا , فَيُقَالُ: مَنْ هَذَا؟ فَيَقُولُونَ: فُلَانٌ , فَيُقَالُ: مَرْحَبًا بِالنَّفْسِ الطَّيِّبَةِ , كَانَتْ فِي الْجَسَدِ الطَّيِّبِ , ادْخُلِي حَمِيدَةً , وَأَبْشِرِي بِرَوْحٍ وَرَيْحَانٍ وَرَبٍّ غَيْرِ غَضْبَانَ , فَلَا يَزَالُ يُقَالُ لَهَا ذَلِكَ حَتَّى يُنْتَهَى بِهَا إِلَى السَّمَاءِ الَّتِي فِيهَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ , وَإِذَا كَانَ الرَّجُلُ السُّوءُ , قَالَ: اخْرُجِي أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْخَبِيثَةُ , كَانَتْ فِي الْجَسَدِ الْخَبِيثِ , اخْرُجِي ذَمِيمَةً , وَأَبْشِرِي بِحَمِيمٍ وَغَسَّاقٍ وَآخَرَ مِنْ شَكْلِهِ أَزْوَاجٌ , فَلَا يَزَالُ يُقَالُ لَهَا ذَلِكَ حَتَّى تَخْرُجَ , ثُمَّ يُعْرَجُ بِهَا إِلَى السَّمَاءِ , فَلَا يُفْتَحُ لَهَا , فَيُقَالُ: مَنْ هَذَا؟ فَيُقَالُ: فُلَانٌ , فَيُقَالُ: لَا مَرْحَبًا بِالنَّفْسِ الْخَبِيثَةِ , كَانَتْ فِي الْجَسَدِ الْخَبِيثِ , ارْجِعِي ذَمِيمَةً , فَإِنَّهَا لَا تُفْتَحُ لَكِ أَبْوَابُ السَّمَاءِ , فَيُرْسَلُ بِهَا مِنَ السَّمَاءِ ثُمَّ , تَصِيرُ إِلَى الْقَبْرِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مرنے والے کے پاس فرشتے آتے ہیں، اگر وہ نیک ہوتا ہے تو کہتے ہیں: نکل اے پاک جان! جو کہ ایک پاک جسم میں تھی، نکل، تو لائق تعریف ہے، اور خوش ہو جا، اللہ کی رحمت و ریحان (خوشبو) سے اور ایسے رب سے جو تجھ سے ناراض نہیں ہے، اس سے برابر یہی کہا جاتا ہے یہاں تک کہ وہ نکل پڑتی ہے، پھر اس کو آسمان کی طرف چڑھا کر لے جایا جاتا ہے، اس کے لیے آسمان کا دروازہ کھولتے ہوئے پوچھا جاتا ہے کہ یہ کون ہے؟ فرشتے کہتے ہیں کہ یہ فلاں ہے، کہا جاتا ہے: خوش آمدید! پاک جان جو کہ ایک پاک جسم میں تھی، تو داخل ہو جا، تو نیک ہے اور خوش ہو جا اللہ کی رحمت و ریحان (خوشبو) سے، اور ایسے رب سے جو تجھ سے ناخوش نہیں، اس سے برابر یہی کہا جاتا ہے یہاں تک کہ روح اس آسمان تک پہنچ جاتی ہے جس کے اوپر اللہ عزوجل ہے، اور جب کوئی برا شخص ہوتا ہے تو فرشتہ کہتا ہے: نکل اے ناپاک نفس، جو ایک ناپاک بدن میں تھی، نکل تو بری حالت میں ہے، خوش ہو جا گرم پانی اور پیپ سے، اور اس جیسی دوسری چیزوں سے، اس سے برابر یہی کہا جاتا ہے یہاں تک کہ وہ نکل جاتی ہے، پھر اس کو آسمان کی طرف چڑھا کر لے جایا جاتا ہے، لیکن اس کے لیے دروازہ نہیں کھولا جاتا، پوچھا جاتا ہے کہ یہ کون ہے؟ جواب ملتا ہے: یہ فلاں ہے، کہا جاتا ہے: ناپاک روح کے لیے کوئی خوش آمدید نہیں، جو کہ ناپاک بدن میں تھی، لوٹ جا اپنی بری حالت میں، تیرے لیے آسمان کے دروازے نہیں کھولے جائیں گے، اس کو آسمان سے چھوڑ دیا جاتا ہے پھر وہ قبر میں آ جاتی ہے“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4262]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قریب الوفات آدمی کے پاس فرشتے آتے ہیں، اگر آدمی نیک ہو تو وہ کہتے ہیں: ”نکل اے پاک روح! جو پاک جسم میں تھی، نکل تو قابلِ تعریف ہے، تجھے خوشخبری ہو رحمت اور خوشبو کی (نعمتوں کی) اور اس رب سے (ملاقات) کی جو ناراض نہیں“، اسے برابر اسی طرح کہا جاتا ہے حتیٰ کہ وہ (جسم سے) نکل آتی ہے، پھر وہ (فرشتے) اسے آسمان کی طرف چڑھا لے جاتے ہیں تو اس کے لیے دروازہ کھول دیا جاتا ہے، پوچھا جاتا ہے: ”یہ کون ہے؟“ وہ کہتے ہیں: ”فلاں شخص ہے“، تب کہا جاتا ہے: ”خوش آمدید اس پاک روح کو جو پاک جسم میں تھی، داخل ہو جا تو قابلِ تعریف ہے اور تجھے خوشخبری ہے رحمت اور خوشبو کی اور اس رب (سے ملاقات) کی جو ناراض نہیں“، اسے مسلسل اسی طرح کہا جاتا ہے حتیٰ کہ اسے لے کر اس آسمان تک پہنچتے ہیں جس پر اللہ عز وجل کی ذاتِ اقدس ہے، اگر (مرنے والا) آدمی برا ہو تو فرشتہ کہتا ہے: ”نکل اے خبیث روح! جو گندے جسم میں تھی، نکل تو قابلِ مذمت ہے، تجھے خوشخبری ہو کھولتے ہوئے پانی کی، پیپ کی اور دوسرے اس کے مختلف عذابوں کی“، اسے مسلسل اسی طرح کہا جاتا ہے حتیٰ کہ وہ (جسم سے) نکل آتی ہے، پھر وہ اسے لے کر آسمان کی طرف چڑھتے ہیں تو اس کے لیے دروازہ نہیں کھلتا، پوچھا جاتا ہے: ”یہ کون ہے؟“ وہ کہتے ہیں: ”فلاں ہے“، کہا جاتا ہے: ”اس ناپاک روح کو کوئی خوش آمدید نہیں جو ناپاک جسم میں تھی، واپس ہو جا قابلِ مذمت ہو کر، تیرے لیے آسمان کے دروازے نہیں کھولے جائیں گے“، تب اسے آسمان سے واپس بھیج دیا جاتا ہے اور وہ قبر میں آ پہنچتی ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4262]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 13387، ومصباح الزجاجة: 1525) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس حدیث سے اللہ تعالی کا آسمان کے اوپر بلندی میں ہونا ثابت ہے، فاسد عقائد والے اس کا انکار کرتے ہیں، اور اہل حدیث اور اہل حق کو مشبہہ اور مجسمہ کہتے ہیں۔ جبکہ اللہ تعالیٰ کے آسمان کے اوپر بلندی میں ہونے کے عقیدے پر کتاب و سنت کے بے شمار دلائل ہیں، اور صحابہ و تابعین و تبع تابعین اور ائمہ دین کا اس پر اتفاق ہے، اور یہ چیز انسان کی فطرت میں ہے کہ اپنے خالق و مالک کو پکارتے ہی اس کے ہاتھ اوپر اٹھ جاتے ہیں، اور نگاہیں اوپر دیکھنے لگتی ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
حدیث نمبر: 4263
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ ثَابِتٍ الْجَحْدَرِيُّ , وَعُمَرُ بْنُ شَبَّةَ بْنِ عَبِيدَةَ , قَالَا: حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ , أَخْبَرَنِي إِسْمَاعِيل بْنُ أَبِي خَالِدٍ , عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" إِذَا كَانَ أَجَلُ أَحَدِكُمْ بِأَرْضٍ , أَوْثَبَتْهُ إِلَيْهَا الْحَاجَةُ , فَإِذَا بَلَغَ أَقْصَى أَثَرِهِ , قَبَضَهُ اللَّهُ سُبْحَانَهُ , فَتَقُولُ الْأَرْضُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ: رَبِّ هَذَا مَا اسْتَوْدَعْتَنِي".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کی موت کسی زمین میں لکھی ہوتی ہے تو ضرورت اس کو وہاں لے جاتی ہے، جب وہ اپنے آخری نقش قدم کو پہنچ جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی روح قبض کر لیتا ہے، زمین قیامت کے دن کہے گی: اے رب! یہ تیری امانت ہے جو تو نے میرے سپرد کی تھی“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4263]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کسی شخص کی موت کسی خاص جگہ پر آنا مقدر ہوتی ہے، اس کی (کوئی دنیوی) ضرورت اسے وہاں لے جاتی ہے، جب وہ اپنے آخری قدم تک پہنچتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے فوت کر لیتا ہے، قیامت کے دن زمین کہے گی: میرے مالک! تم نے جو میرے پاس امانت رکھی تھی وہ یہ (حاضر) ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4263]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 5941، ومصباح الزجاجة: 9541) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف
إسماعيل بن أبي خالد عنعن (تقدم:2618) وروى الترمذي (2146) عن رسول الله ﷺ : ((إذا قضى الله لعبد أن يموت بأرض جعل له إليها حاجة ، أو قال : بها حاجة ۔))وسند صحيح وقال الترمذي : ” هذا حديث صحيح “ وهو يغني عنه ۔
إسماعيل بن أبي خالد عنعن (تقدم:2618) وروى الترمذي (2146) عن رسول الله ﷺ : ((إذا قضى الله لعبد أن يموت بأرض جعل له إليها حاجة ، أو قال : بها حاجة ۔))وسند صحيح وقال الترمذي : ” هذا حديث صحيح “ وهو يغني عنه ۔
حدیث نمبر: 4264
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ أَبُو سَلَمَةَ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى , عَنْ سَعِيدٍ , عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى , عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ , عَنْ عَائِشَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" مَنْ أَحَبَّ لِقَاءَ اللَّهِ , أَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ , وَمَنْ كَرِهَ لِقَاءَ اللَّهِ , كَرِهَ اللَّهُ لِقَاءَهُ" , فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , كَرَاهِيَةُ لِقَاءِ اللَّهِ فِي كَرَاهِيَةِ لِقَاءِ الْمَوْتِ , فَكُلُّنَا يَكْرَهُ الْمَوْتَ , قَالَ:" لَا إِنَّمَا ذَاكَ عِنْدَ مَوْتِهِ , إِذَا بُشِّرَ بِرَحْمَةِ اللَّهِ وَمَغْفِرَتِهِ , أَحَبَّ لِقَاءَ اللَّهِ , فَأَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ , وَإِذَا بُشِّرَ بِعَذَابِ اللَّهِ , كَرِهَ لِقَاءَ اللَّهِ , وَكَرِهَ اللَّهُ لِقَاءَهُ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو اللہ تعالیٰ سے ملاقات پسند کرتا ہے اللہ تعالیٰ بھی اس سے ملاقات پسند کرتا ہے، اور جو اللہ تعالیٰ سے ملاقات ناپسند کرتا ہے اللہ تعالیٰ بھی اس سے ملاقات ناپسند کرتا ہے“، آپ سے عرض کیا گیا: اللہ تعالیٰ سے ملنے کو برا جاننا یہ ہے کہ موت کو برا جانے، اور ہم میں سے ہر شخص موت کو برا جانتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ یہ موت کے وقت کا ذکر ہے، جب بندے کو اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کی مغفرت کی خوشخبری دی جاتی ہے، تو وہ اس سے ملنا پسند کرتا ہے، تو اللہ تعالیٰ بھی اس سے ملنا پسند کرتا ہے، اور جب اس کو اللہ تعالیٰ کے عذاب کی خبر دی جاتی ہے تو وہ اللہ تعالیٰ سے ملنا ناپسند کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ بھی اس سے نہیں ملنا چاہتا“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4264]
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اللہ سے ملاقات پسند کرتا ہے، اللہ بھی اس سے ملنا پسند کرتا ہے، اور جو شخص اللہ سے ملاقات ناپسند کرتا ہے، اللہ بھی اس سے ملاقات ناپسند کرتا ہے۔“ عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! موت کو ناپسند کرنے میں اللہ کی ملاقات سے ناپسندیدگی کا اظہار ہے اور ہم سب (طبعی طور پر) موت کو ناپسند کرتے ہیں (تو پھر نجات کیسے ہو گی؟) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ بات نہیں، اس سے موت کے وقت کی کیفیت مراد ہے۔ جب (بندے کو) اللہ کی رحمت اور مغفرت کی خوشخبری دی جاتی ہے، وہ اللہ سے ملاقات کرنا پسند کرتا ہے، تب اللہ بھی اس سے ملاقات کرنا پسند کرتا ہے (اور اس سے خوش ہوتا) ہے۔ اور جب (کسی بندے کو) اللہ کے عذاب کی بشارت دی جائے وہ اللہ سے ملاقات کرنا پسند نہیں کرتا (مرنے سے گھبراتا ہے)، اللہ بھی اس سے ملاقات کرنا پسند نہیں کرتا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4264]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الرقاق 41 (6507، 6508 تعلیقاً)، صحیح مسلم/الذکروالدعاء (2684)، سنن الترمذی/الجنائز 68 (1067)، سنن النسائی/الجنائز 10 (1839)، (تحفة الأشراف: 16103)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/44، 55، 207، 218، 236) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
حدیث نمبر: 4265
حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى , حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ , عَنْ أَنَسٍ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَتَمَنَّى أَحَدُكُمُ الْمَوْتَ لِضُرٍّ نَزَلَ بِهِ , فَإِنْ كَانَ لَا بُدَّ مُتَمَنِّيًا الْمَوْتَ فَلْيَقُلْ: اللَّهُمَّ أَحْيِنِي مَا كَانَتِ الْحَيَاةُ خَيْرًا لِي , وَتَوَفَّنِي إِذَا كَانَتِ الْوَفَاةُ خَيْرًا لِي".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی کسی مصیبت کی وجہ سے جو اس کو پیش آئے موت کی تمنا نہ کرے، اگر موت کی خواہش کی ضرورت پڑ ہی جائے تو یوں کہے: اے اللہ! مجھے زندہ رکھ جب تک جینا میرے لیے بہتر ہو، اور مجھے موت دے اگر مرنا میرے لیے بہتر ہو“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4265]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی آدمی نازل ہونے والی مصیبت کی وجہ سے موت کی تمنا نہ کرے۔ اگر وہ موت کی تمنا ضرور کرنا ہی چاہے تو یوں کہے: «اللَّهُمَّ أَحْيِنِي مَا كَانَتِ الْحَيَاةُ خَيْرًا لِي، وَتَوَفَّنِي إِذَا كَانَتِ الْوَفَاةُ خَيْرًا لِي» ”اے اللہ! مجھے اس وقت تک زندہ رکھ جب تک میرے لیے زندگی بہتر ہو، اور مجھے اس وقت فوت کرنا جب میرے لیے وفات بہتر ہو۔“” [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4265]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الجنائز 13 (3108)، (تحفة الأشراف: 1037)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/المرضی 19 (5672)، الدعوات 30 (6351)، صحیح مسلم/الذکر 4 (2680)، سنن الترمذی/الجنائز 3 (971)، سنن النسائی/الجنائز 2 (1822)، مسند احمد (3/101، 104، 163، 171، 195، 208، 247، 281) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح