سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
39. بَابُ: صِفَةِ الْجَنَّةِ
باب: جنت کے احوال و صفات کا بیان۔
حدیث نمبر: 4337
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ خَالِدٍ الْأَزْرَقُ أَبُو مَرْوَانَ الدِّمَشْقِيُّ , حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ أَبِي مَالِكٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا مِنْ أَحَدٍ يُدْخِلُهُ اللَّهُ الْجَنَّةَ , إِلَّا زَوَّجَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ثِنْتَيْنِ وَسَبْعِينَ زَوْجَةً , ثِنْتَيْنِ مِنَ الْحُورِ الْعِينِ , وَسَبْعِينَ مِنْ مِيرَاثِهِ مِنْ أَهْلِ النَّارِ , مَا مِنْهُنَّ وَاحِدَةٌ إِلَّا وَلَهَا قُبُلٌ شَهِيٌّ , وَلَهُ ذَكَرٌ لَا يَنْثَنِي" , قَالَ هِشَامُ بْنُ خَالِدٍ:" مِنْ مِيرَاثِهِ مِنْ أَهْلِ النَّارِ" يَعْنِي: رِجَالًا دَخَلُوا النَّارَ فَوَرِثَ أَهْلُ الْجَنَّةِ نِسَاءَهُمْ , كَمَا وُرِثَتِ امْرَأَةُ فِرْعَوْنَ.
ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص بھی جنت میں جائے گا اللہ تعالیٰ بہتر (۷۲) بیویوں سے اس کی شادی کر دے گا، دو بڑی آنکھوں والی حوریں اور ستر (۷۰) اہل جہنم کی میراث میں سے ہوں گی، ان میں سے ہر ایک کی شرمگاہ خوب شہوت والی ہو گی، اور اس کا ذکر ایسا ہو گا جس میں کبھی کجی نہیں ہو گی“، ہشام بن خالد نے کہا: اہل جہنم کی میراث سے مراد یہ ہے کہ جو لوگ جہنم میں جائیں گے اہل جنت ان کی بیویوں کے وارث ہو جائیں گے مثلا ً فرعون کی بیوی کے وارث جنتی ہوں گے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4337]
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ جسے بھی جنت میں داخل کرے گا، اس کی شادی بہتر بیویوں سے کر دے گا، دو عورتیں حورِ عین (جنت کی حوروں) میں سے ہوں گی اور ستر عورتیں وہ ہوں گی جو اسے جہنمیوں کی وراثت ملی ہو گی، ان میں سے ہر عورت کا مقامِ مخصوص نہایت خوبصورت اور دلکش ہو گا اور مرد کا عضو ایسا ہو گا جو نرم نہیں ہو گا۔“ (امام ابن ماجہ رحمہ اللہ کے استاذ) حضرت ہشام بن خالد رحمہ اللہ نے فرمایا: ”جہنمیوں کی وراثت کا مطلب یہ ہے کہ جو مرد جہنم میں جائیں گے ان کی عورتیں جنتیوں کو مل جائیں گی، جیسے فرعون کی بیوی (جنتی تھی اور اس کا خاوند جہنمی، اس لیے وہ) وراثت میں (کسی جنتی کو) ملے گی۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4337]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 4859، ومصباح الزجاجة: 1552) (ضعیف جدا)» (سند میں خالد بن یزید ضعیف ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف جدا
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف
خالد بن يزيد بن أبي مالك : ضعيف (تقدم:487)
خالد بن يزيد بن أبي مالك : ضعيف (تقدم:487)
حدیث نمبر: 4338
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ , حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ , حَدَّثَنَا أَبِي , عَنْ عَامِرٍ الْأَحْوَلِ , عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ النَّاجِيِّ , عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْمُؤْمِنُ إِذَا اشْتَهَى الْوَلَدَ فِي الْجَنَّةِ , كَانَ حَمْلُهُ وَوَضْعُهُ فِي سَاعَةٍ وَاحِدَةٍ كَمَا يَشْتَهِي".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مومن جب جنت میں اولاد کی خواہش کرے گا، تو حمل اور وضع حمل اس کی خواہش کے موافق سب ایک گھڑی میں ہو جائے گا“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4338]
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مومن کو جنت میں جب بچے کی خواہش ہوگی تو اس کی خواہش کے مطابق ایک گھڑی میں (فوراً) حمل، ولادت اور اس بچے کا بڑا ہونا (سب کچھ) ہوجائے گا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4338]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/صفة الجنة 23 (2563)، (تحفة الأشراف: 3977)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/8009)، سنن الدارمی/الرقاق 110 (2876) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
حدیث نمبر: 4339
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا جَرِيرٌ , عَنْ مَنْصُورٍ , عَنْ إِبْرَاهِيمَ , عَنْ عَبِيدَةَ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنِّي لَأَعْلَمُ آخِرَ أَهْلِ النَّارِ خُرُوجًا مِنْهَا , وَآخِرَ أَهْلِ الْجَنَّةِ دُخُولًا الْجَنَّةَ , رَجُلٌ يَخْرُجُ مِنَ النَّارِ حَبْوًا , فَيُقَالُ لَهُ: اذْهَبْ فَادْخُلِ الْجَنَّةَ , فَيَأْتِيهَا فَيُخَيَّلُ إِلَيْهِ أَنَّهَا مَلْأَى , فَيَرْجِعُ , فَيَقُولُ: يَا رَبِّ , وَجَدْتُهَا مَلْأَى , فَيَقُولُ اللَّهُ: اذْهَبْ فَادْخُلِ الْجَنَّةَ , فَيَأْتِيهَا , فَيُخَيَّلُ إِلَيْهِ أَنَّهَا مَلْأَى , فَيَرْجِعُ , فَيَقُولُ: يَا رَبِّ , وَجَدْتُهَا مَلْأَى , فَيَقُولُ اللَّهُ سُبْحَانَهُ: اذْهَبْ فَادْخُلِ الْجَنَّةَ , فَيَأْتِيهَا فَيُخَيَّلُ إِلَيْهِ أَنَّهَا مَلْأَى , فَيَرْجِعُ , فَيَقُولُ: يَا رَبِّ إِنَّهَا مَلْأَى , فَيَقُولُ اللَّهُ: اذْهَبْ فَادْخُلِ الْجَنَّةَ , فَإِنَّ لَكَ مِثْلَ الدُّنْيَا وَعَشَرَةَ أَمْثَالِهَا , أَوْ إِنَّ لَكَ مِثْلَ عَشَرَةِ أَمْثَالِ الدُّنْيَا , فَيَقُولُ: أَتَسْخَرُ بِي أَوْ أَتَضْحَكُ بِي وَأَنْتَ الْمَلِكُ؟" , قَالَ: فَلَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَحِكَ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ , فَكَانَ يُقَالُ: هَذَا أَدْنَى أَهْلِ الْجَنَّةِ مَنْزِلًا.
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں جانتا ہوں اس کو جو سب سے آخر میں جہنم سے نکلے گا، اور جنت میں سب سے آخر میں داخل ہو گا، وہ شخص جہنم سے گھسٹتا ہوا نکلے گا، اس سے کہا جائے گا: جاؤ اور جنت میں داخل ہو جاؤ وہ جنت تک آئے گا تو اس کو لگے گا کہ وہ بھری ہوئی ہے، وہ لوٹ جائے گا اس پر کہے گا: اے میرے رب! میں نے اس کو بھری ہوئی پایا، اللہ فرمائے گا: جاؤ اور جنت میں داخل ہو جاؤ، وہ جنت تک آئے گا تو اس کو بھری ہوئی سمجھ کر پھر واپس چلا جائے گا، لوٹ کر کہے گا: اے میرے رب! وہ تو بھری ہوئی ہے، اللہ تعالیٰ فرمائے گا: جاؤ اور جنت میں داخل ہو جاؤ، تمہارے لیے دنیا اور اس کے مثل دس دنیاؤں کی جگہ (جنت میں) ہے، وہ کہے گا: کیا تو مجھ سے مذاق کر رہا ہے حالانکہ تو بادشاہ ہے؟، یہ حدیث بیان کرتے ہوئے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ اتنا ہنسے کہ آپ کے اخیر کے دانت ظاہر ہو گئے، (یعنی کھل کھلا کر ہنس پڑے) کہا جاتا ہے کہ یہ شخص جنتیوں میں سب سے کم درجے والا ہو گا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4339]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے معلوم ہے کہ کون سا جہنمی سب سے آخر میں جہنم سے نکلے گا اور کون سا جنتی سب سے آخر میں جنت میں داخل ہوگا۔ ایک آدمی جہنم سے گھٹنوں کے بل گھسٹتا ہوا نکلے گا۔ اسے کہا جائے گا: جا جنت میں داخل ہوجا۔ وہ آئے گا تو اسے محسوس ہوگا کہ جنت بھری ہوئی ہے۔ چنانچہ وہ واپس لوٹے گا اور عرض کرے گا: یا رب! وہ تو بھری ہوئی ہے۔ اللہ فرمائے گا: جا جنت میں داخل ہوجا۔ وہ (دوبارہ) آئے گا تو اسے محسوس ہوگا کہ وہ بھری ہوئی ہے۔ وہ واپس ہوجائے گا اور عرض کرے گا: میرے رب! وہ تو بھری ہوئی ہے۔ اللہ پاک فرمائے گا: جا جنت میں داخل ہوجا، تجھے دنیا کے برابر اور (مزید) اس سے دس گنا جگہ ملے گی، یا فرمایا: تجھے دنیا سے دس گنا جگہ ملے گی۔ بندہ کہے گا: کیا تو مجھ سے مذاق کرتا ہے یا مجھ سے ہنستا ہے، حالانکہ تو بادشاہ ہے؟“ صحابی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے دیکھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خوب ہنسے حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ڈاڑھیں نظر آنے لگیں۔ پس کہا جاتا تھا: یہ شخص سب سے کم درجے کا جنتی ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4339]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الرقاق 51 (6571)، التوحید 36 (7511)، صحیح مسلم/الإیمان 83 (186)، سنن الترمذی/صفة جھنم 10 (2595)، (تحفة الأشراف: 9405)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/170، 376، 378، 460) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
حدیث نمبر: 4340
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ , حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ , عَنْ أَبِي إِسْحَاق , عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ , عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ سَأَلَ الْجَنَّةَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ , قَالَتِ الْجَنَّةُ: اللَّهُمَّ أَدْخِلْهُ الْجَنَّةَ , وَمَنِ اسْتَجَارَ مِنَ النَّارِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ , قَالَتِ النَّارُ: اللَّهُمَّ أَجِرْهُ مِنَ النَّارِ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے تین بار جنت مانگی تو جنت نے کہا: اے اللہ! اسے جنت میں داخل فرما، اور جس نے تین بار جہنم سے پناہ مانگی تو جہنم نے کہا: اے اللہ! اس کو جہنم سے پناہ دے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4340]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اللہ تعالیٰ سے تین بار جنت مانگتا ہے، جنت (جنت اس کے حق میں دعا کرتے ہوئے) کہتی ہے: یا اللہ! اسے جنت میں داخل فرما دے اور جو کوئی تین بار (جہنم کی) آگ سے پناہ مانگتا ہے، جہنم (جہنم اس کے حق میں دعا کرتے ہوئے) کہتی ہے: یا اللہ! اسے آگ سے محفوظ فرما۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4340]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/صفة الجنة 27 (2572)، سنن النسائی/ الاستعاذة 55 (5523)، (تحفة الأشراف: 243) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
حدیث نمبر: 4341
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , وَأَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ , قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ , عَنْ الْأَعْمَشِ , عَنْ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا لَهُ مَنْزِلَانِ , مَنْزِلٌ فِي الْجَنَّةِ , وَمَنْزِلٌ فِي النَّارِ , فَإِذَا مَاتَ فَدَخَلَ النَّارَ , وَرِثَ أَهْلُ الْجَنَّةِ مَنْزِلَهُ , فَذَلِكَ قَوْلُهُ تَعَالَى أُولَئِكَ هُمُ الْوَارِثُونَ سورة المؤمنون آية 10".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے ہر ایک کے دو ٹھکانے ہیں: ایک ٹھکانا جنت میں اور ایک ٹھکانا جہنم میں، جب وہ مرتا ہے اور جہنم میں چلا جاتا ہے تو جنت والے اس کے حصے کو لاوارث سمجھ کر لے لیتے ہیں، اللہ تعالیٰ کے قول: «أولئك هم الوارثون» ”یہی لوگ وارث ہوں گے“ (سورة المومنون: 1) کا یہی مطلب ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4341]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے ہر ایک کے دو گھر ہیں: ایک گھر جنت میں اور ایک گھر جہنم میں۔ جب کوئی شخص فوت ہو کر جہنم میں جاتا ہے تو اس کا گھر وراثت میں جنت والوں کو مل جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿أُولَٰئِكَ هُمُ الْوَارِثُونَ﴾ [سورة المؤمنون: 10] کا یہی مطلب ہے: ”یہی لوگ وراثت پانے والے ہیں۔““ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4341]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 12545، ومصباح الزجاجة: 1553) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف
سليمان الأعمش عنعن (تقدم:94) و حديث البخاري (6569 ، 1379) مسلم (2866) يغني عنه ?
سليمان الأعمش عنعن (تقدم:94) و حديث البخاري (6569 ، 1379) مسلم (2866) يغني عنه ?