سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
34. بَابُ: رَدِّ السَّلاَمِ بَعْدَ الْوُضُوءِ
باب: وضو کر کے سلام کا جواب دینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 38
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قال: حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ، قال: أَنْبَأَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ حُضَيْنٍ أَبِي سَاسَانَ، عَنْ الْمُهَاجِرِ بْنِ قُنْفُذٍ، أَنَّهُ" سَلَّمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَبُولُ، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ حَتَّى تَوَضَّأَ، فَلَمَّا تَوَضَّأَ رَدَّ عَلَيْهِ".
مہاجر بن قنفذ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا، اور آپ پیشاب کر رہے تھے، تو آپ نے سلام کا جواب نہیں دیا یہاں تک کہ وضو کیا، پھر جب آپ نے وضو کر لیا، تو ان کے سلام کا جواب دیا۔ [سنن نسائي/ذكر الفطرة/حدیث: 38]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الطہارة 8 (17) مطولاً، سنن ابن ماجہ/فیہ 27 (350) مطولاً، (تحفة الأشراف: 11580)، مسند احمد 4/345، 5/80، سنن الدارمی/الاستئذان 13 (2683) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (17) ابن ماجه (350) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 321