🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
34. باب : رد السلام بعد الوضوء
باب: وضو کر کے سلام کا جواب دینے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 38
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قال: حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ، قال: أَنْبَأَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ حُضَيْنٍ أَبِي سَاسَانَ، عَنْ الْمُهَاجِرِ بْنِ قُنْفُذٍ، أَنَّهُ" سَلَّمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَبُولُ، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ حَتَّى تَوَضَّأَ، فَلَمَّا تَوَضَّأَ رَدَّ عَلَيْهِ".
مہاجر بن قنفذ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا، اور آپ پیشاب کر رہے تھے، تو آپ نے سلام کا جواب نہیں دیا یہاں تک کہ وضو کیا، پھر جب آپ نے وضو کر لیا، تو ان کے سلام کا جواب دیا۔ [سنن نسائي/ذكر الفطرة/حدیث: 38]
حضرت مہاجر بن قنفذ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کہا جب کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پیشاب کر رہے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام کا جواب نہ دیا حتیٰ کہ وضو کرنے لگے اور جب وضو مکمل کیا تو سلام کا جواب دیا۔ [سنن نسائي/ذكر الفطرة/حدیث: 38]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الطہارة 8 (17) مطولاً، سنن ابن ماجہ/فیہ 27 (350) مطولاً، (تحفة الأشراف: 11580)، مسند احمد 4/345، 5/80، سنن الدارمی/الاستئذان 13 (2683) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (17) ابن ماجه (350) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 321

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥المهاجر بن قنفذ القرشيصحابي
👤←👥حضين بن المنذر الرقاشي، أبو ساسان
Newحضين بن المنذر الرقاشي ← المهاجر بن قنفذ القرشي
ثقة
👤←👥الحسن البصري، أبو سعيد
Newالحسن البصري ← حضين بن المنذر الرقاشي
ثقة يرسل كثيرا ويدلس
👤←👥قتادة بن دعامة السدوسي، أبو الخطاب
Newقتادة بن دعامة السدوسي ← الحسن البصري
ثقة ثبت مشهور بالتدليس
👤←👥سعيد بن أبي عروبة العدوي، أبو النضر
Newسعيد بن أبي عروبة العدوي ← قتادة بن دعامة السدوسي
ثقة حافظ
👤←👥معاذ بن معاذ العنبري، أبو المثنى، أبو هانئ
Newمعاذ بن معاذ العنبري ← سعيد بن أبي عروبة العدوي
ثقة متقن
👤←👥محمد بن بشار العبدي، أبو بكر
Newمحمد بن بشار العبدي ← معاذ بن معاذ العنبري
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن أبي داود
17
كرهت أن أذكر الله إلا على طهر
سنن النسائى الصغرى
38
لم يرد عليه حتى توضأ فلما توضأ رد عليه
سنن ابن ماجه
350
لم يمنعني من أن أرد عليك إلا أني كنت على غير وضوء
سنن نسائی کی حدیث نمبر 38 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث 38
38۔ اردو حاشیہ:
➊ پیشاب کرتے شخص کو سلام کہنا مناسب تو نہیں، لیکن اگر کسی نے غلطی سے سلام کہہ دیا تو پیشاب سے فراغت کے بعد جواب دیا جا سکتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عموماً باوضو رہتے تھے، اس لیے آپ نے فوراًً وضو فرمایا، پھر جواب دیا۔ ہر آدمی کے لیے ایسا ضروری نہیں کیونکہ سلام، جوابِ سلام اور اذکار و اور اد کے لیے وضو شرط نہیں، نیز جب سلام کہنے کے لیے باوضو ہونا ضروری نہیں تو جواب دینے کے لیے بھی ضروری نہیں۔
➋ ہمارے فاضل محقق کے نزدیک اس حدیث کی سند ضعیف ہے اور وہ فرماتے ہیں کہ اس حدیث کے دیگر شواہد بھی ملتے ہیں، لیکن ان کے صحیح اور ضعیف ہونے کی طرف اشارہ نہیں کیا، غالباً انھی شواہد کی وجہ سے شیخ البانی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے۔ بنابریں مذکورہ روایت سنداً ضعیف ہونے کے باوجود دیگر شواہد کی بنا پر قابل عمل ہے۔ مزید دیکھیے: [سلسلة الأحادیث الصحیحة، رقم: 834]
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 38]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث350
پیشاب کے دوران سلام کا جواب۔
مہاجر بن قنفذ بن عمرو بن جدعان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم وضو فرما رہے تھے، میں نے آپ کو سلام کیا، آپ نے سلام کا جواب نہیں دیا، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم وضو سے فارغ ہوئے تو فرمایا: تمہارے سلام کا جواب دینے میں رکاوٹ والی چیز یہ تھی کہ میں باوضو نہ تھا۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 350]
اردو حاشہ:
(1)
مذکورہ روایت سنداً ضعیف ہے تاہم یہی روایت ایک دوسرے طریقے سے صحیح مسلم میں ہے اس میں صرف یہاں تک بیان ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے سلام کا جواب نہیں دیا۔ دیکھیے: (صحيح مسلم، حيض، باب التيمم، حديث: 370)
لہٰذا یہ بات تو صحیح ثابت ہوئی کہ پیشاب پاخانہ کرتے ہوئے سلام کا جواب نہ دیا جائے لیکن یہ کہنا صحیح نہیں ہوگا کہ سلام کا جواب یا اللہ کا ذکر وضو کے بغیر جائز نہیں۔

(2)
اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہواکہ قضائے حاجت کے لیے بیٹھے ہوئے شخص کو سلام نہ کیا جائے۔

(3)
لیکن اگر کوئی شخص سلام کرے تو فوری طور پر اس کا جواب نہ دیا جائے البتہ مستحب ہے کہ فراغت کے بعد وضو یا تیمم کرکے سلام کا جواب دے دیا جائےجیسا کہ اگلی حدیث کے فوائد میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل کا حوالہ آرہا ہے، اس لیے اس کے استحباب میں کوئی شک نہیں۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 350]

الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ابي داود 17
کیا پیشاب کرتے وقت آدمی سلام کا جواب دے؟
«. . . عَنْ الْمُهَاجِرِ بْنِ قُنْفُذٍ، أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَبُولُ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ حَتَّى تَوَضَّأَ، ثُمَّ اعْتَذَرَ إِلَيْهِ، فَقَالَ:" إِنِّي كَرِهْتُ أَنْ أَذْكُرَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ إِلا عَلَى طُهْرٍ، أَوْ قَالَ: عَلَى طَهَارَةٍ . . .»
مہاجر بن قنفذ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم پیشاب کر رہے تھے تو انہوں نے آپ کو سلام کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام کا جواب نہیں دیا، یہاں تک کہ وضو کیا پھر (سلام کا جواب دیا اور) مجھ سے معذرت کی اور فرمایا: مجھے یہ بات اچھی نہیں لگی کہ میں اللہ کا ذکر بغیر پاکی کے کروں۔ راوی کو شک ہے «على طهر» کہا، یا «على طهارة» کہا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ: 17]
فوائد و مسائل:
➊ یہ روایت ایک دوسرے طریق سے آتی ہے اور وہ صحیح ہے، اس میں صرف یہاں تک بیان ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے سلام کو جواب نہیں دیا۔ [صحيح مسلم، حديث: 370] اس لیے ابوداؤد کی حدیث نمبر [17] کا اگلا حصہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا۔۔۔۔۔ یہ صحیح نہیں، اس لیے یہ بات تو صحیح ثابت ہوئی کہ پیشاب پاخانہ کرتے ہوئے سلام کاجواب نہ دیا جائے۔ لیکن یہ کہنا صحیح نہیں ہو گا کہ سلام کا جواب یا اللہ کا ذکر وضو کے بغیر جائز نہیں۔
➋ اس سے یہ بات بھی مستفاد ہوتی ہے کہ قضائے حاجت کے لیے بیٹھے ہوئے شخص کو سلام نہ کیا جائے۔ [ص۔ ی]
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 17]

Sunan an-Nasa'i Hadith 38 in Urdu