سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
62. بَابُ: التَّسْمِيَةِ عِنْدَ الْوُضُوءِ
باب: وضو کے وقت بسم اللہ کہنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 78
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قال: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ ثَابِتٍ، وَقَتَادَةُ، عَنْ أَنَسٍ، قال: طَلَبَ بَعْضُ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَضُوءًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَلْ مَعَ أَحَدٍ مِنْكُمْ مَاءٌ؟ فَوَضَعَ يَدَهُ فِي الْمَاءِ، وَيَقُولُ: تَوَضَّئُوا بِسْمِ اللَّهِ، فَرَأَيْتُ الْمَاءَ يَخْرُجُ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِهِ حَتَّى تَوَضَّئُوا مِنْ عِنْدِ آخِرِهِمْ". قَالَ ثَابِتٌ: قُلْتُ لِأَنَسٍ: كَمْ تُرَاهُمْ؟ قَالَ: نَحْوًا مِنْ سَبْعِينَ.
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ کچھ صحابہ کرام نے وضو کا پانی تلاش کیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”تم میں سے کسی کے پاس پانی ہے؟“ (تو ایک برتن میں تھوڑا سا پانی لایا گیا) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ یہ فرماتے ہوئے پانی میں ڈالا: ”بسم اللہ کر کے وضو کرو“ میں نے دیکھا کہ پانی آپ کی انگلیوں کے درمیان سے نکل رہا تھا، حتیٰ کہ ان میں سے آخری آدمی نے بھی وضو کر لیا۔ ثابت کہتے ہیں: میں نے انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا: آپ کے خیال میں وہ کتنے لوگ تھے؟ تو انہوں نے کہا: ستر کے قریب ۱؎۔ [سنن نسائي/ذكر الفطرة/حدیث: 78]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ صحابہ نے وضو کا پانی تلاش کیا تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم میں سے کسی کے پاس کچھ پانی ہے؟“ (پانی لایا گیا) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ پانی میں رکھ دیا اور فرمایا: ” «بِسْمِ اللّٰهِ» ”اللہ کا نام لے کر“ وضو کرو۔“ چنانچہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیوں کے درمیان سے پانی نکلتا دیکھا حتیٰ کہ سب نے وضو کر لیا۔ (حضرت انس رضی اللہ عنہ کے شاگرد) ثابت رحمہ اللہ نے کہا کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا: ”آپ کے خیال میں وہ کتنے ہوں گے؟“ تو انہوں نے فرمایا: ”تقریباً ستر (70)۔“ [سنن نسائي/ذكر الفطرة/حدیث: 78]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائی، حدیث ثابت عن أنس، (تحفة الأشراف: 484)، وحدیث قتادة عن أنس، (تحفة الأشراف: 1347)، (نیز ملاحظہ ہو: 76) (صحیح الاسناد)»
وضاحت: ۱؎: اس باب اور اس سے پہلے والے باب کی احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ واقعہ ایک سے زیادہ بار پیش آیا تھا، «واللہ اعلم بالصواب» ۔
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح