سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
134. بَابُ: ذِكْرِ الاِغْتِسَالِ مِنَ الْحَيْضِ
باب: حیض سے غسل کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 201
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ يَزِيدَ، قال: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْعَدَوِيُّ، قال: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ مِنْ بَنِي أَسَدِ قُرَيْشٍ، أَنَّهَا أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَتْ أَنَّهَا تُسْتَحَاضُ، فَزَعَمَتْ أَنَّهُ، قَالَ لَهَا:" إِنَّمَا ذَلِكَ عِرْقٌ، فَإِذَا أَقْبَلَتِ الْحَيْضَةُ فَدَعِي الصَّلَاةَ، وَإِذَا أَدْبَرَتْ فَاغْسِلِي عَنْكِ الدَّمَ ثُمَّ صَلَّى".
فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا جو قریش کے قبیلہ بنو اسد کی خاتون ہیں کہتی ہیں کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں، اور عرض کیا کہ انہیں استحاضہ کا خون آتا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”یہ تو ایک رگ (کا خون) ہے، جب حیض کا خون آئے تو نماز ترک کر دو، اور جب ختم ہو جائے تو خون دھو لو پھر (غسل کر کے) نماز پڑھ لو“۔ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 201]
حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور بتایا کہ مجھے استحاضہ (بے قاعدہ خون) آتا ہے، انہوں نے بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”یہ تو ایک رگ (کا خون) ہے، جب تجھے حیض کا خون آئے تو نماز چھوڑ دے اور جب حیض آنا بند ہو جائے تو نہا دھو کر نماز شروع کر دے (خواہ استحاضے کا خون آ ہی رہا ہو)۔“ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 201]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الطھارة 108 (280، 281) و 110 (286)، سنن ابن ماجہ/فیہ 115 (620)، (تحفة الأشراف: 18019)، مسند احمد 6/420، 463، وأعادہ المؤلف بأرقام: 212، 350، 358، 362، 3583 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 202
أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، قال: حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ هَاشِمٍ، قال: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِذَا أَقْبَلَتِ الْحَيْضَةُ فَاتْرُكِي الصَّلَاةَ، وَإِذَا أَدْبَرَتْ فَاغْتَسِلِي".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب حیض کا خون آئے تو نماز چھوڑ دو، اور جب بند ہو جائے تو غسل کر لو“۔ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 202]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب حیض کا خون آنا شروع ہو جائے تو نماز (وغیرہ) چھوڑ دو اور جب خون آنا رک جائے تو غسل کرو۔“ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 202]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/الطہارة 116 (626) مطولاً، 28 (331)، (تحفة الأشراف: 16516)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الحیض، ویأتي عند المؤلف برقم: 203، 204، 351 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 203
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ يَزِيدَ، قال: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قال: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، قال: حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ، عَنْ عُرْوَةَ، وَعَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قالت: اسْتُحِيضَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ بِنْتُ جَحْشٍ سَبْعَ سِنِينَ فَاشْتَكَتْ ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ هَذِهِ لَيْسَتْ بِالْحَيْضَةِ، وَلَكِنْ هَذَا عِرْقٌ، فَاغْتَسِلِي ثُمَّ صَلِّي".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ام حبیبہ بنت جحش کو سات سال تک استحاضہ کا خون آتا رہا، تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی شکایت کی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ حیض نہیں ہے، بلکہ یہ ایک رگ (کا خون) ہے، لہٰذا غسل کر کے نماز پڑھ لو“۔ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 203]
سیدتنا عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ام حبیبہ بنت جحش رضی اللہ عنہا کو سات سال تک استحاضہ (بے قاعدہ خون) آتا رہا، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بات کی شکایت کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ حیض نہیں بلکہ یہ تو ایک رگ (کا خون) ہے، لہٰذا (حیض ختم ہونے کے بعد) غسل کر کے نماز وغیرہ پڑھتی رہو (خواہ استحاضے کا خون آتا رہے)۔“ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 203]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الحیض 26 (327)، صحیح مسلم/فیہ 14 (334)، سنن ابی داود/الطھارة 110 (285)، 111 (288)، سنن ابن ماجہ/116 (626)، (تحفة الأشراف: 16516، 17922)، مسند احمد 6/83، 141، 187، سنن الدارمی/الطھارة 80 (795)، ویأتي عند المؤلف برقم: 204، 205، 211، 357 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 204
أَخْبَرَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، قال: حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ حُمَيْدٍ، قال: أَخْبَرَنِي النُّعْمَانُ، وَالْأَوْزَاعِيُّ، وَأَبُو مُعَيْدٍ وَهُوَ حَفْصُ بْنُ غَيْلَانَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، قال: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، وَعَمْرَةُ بِنْتُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ، قالت: اسْتُحِيضَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ بِنْتُ جَحْشٍ امْرَأَةُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ وَهِيَ أُخْتُ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ، فَاسْتَفْتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ هَذِهِ لَيْسَتْ بِالْحَيْضَةِ وَلَكِنْ هَذَا عِرْقٌ، فَإِذَا أَدْبَرَتِ الْحَيْضَةُ فَاغْتَسِلِي وَصَلِّي، وَإِذَا أَقْبَلَتْ فَاتْرُكِي لَهَا الصَّلَاةَ". قَالَتْ عَائِشَةُ: فَكَانَتْ تَغْتَسِلُ لِكُلِّ صَلَاةٍ وَتُصَلِّي، وَكَانَتْ تَغْتَسِلُ أَحْيَانًا فِي مِرْكَنٍ فِي حُجْرَةِ أُخْتِهَا زَيْنَبَ وَهِيَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَتَّى أَنَّ حُمْرَةَ الدَّمِ لَتَعْلُو الْمَاءَ، وَتَخْرُجُ فَتُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَا يَمْنَعُهَا ذَلِكَ مِنَ الصَّلَاةِ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ عبدالرحمٰن بن عوف کی بیوی ام حبیبہ رضی اللہ عنہا - بنت جحش جو ام المؤمنین زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کی بہن ہیں - کو استحاضہ کا خون آیا، تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مسئلہ پوچھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”یہ حیض نہیں ہے بلکہ یہ ایک رگ (کا خون) ہے، تو جب حیض بند ہو جائے تو غسل کرو، اور نماز پڑھو، اور جب وہ آ جائے تو اس کی وجہ سے نماز ترک کر دو“، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: تو وہ ہر نماز کے لیے غسل کرتیں ۱؎ اور نماز پڑھتی تھیں، اور کبھی کبھی اپنی بہن زینب رضی اللہ عنہا کے کمرے میں ایک ٹب میں غسل کرتیں، اور ام المؤمنین زینب رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہوتیں، یہاں تک کہ خون کی سرخی پانی کے اوپر آ جاتی، پھر وہ نکلتیں، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھتیں، اور یہ (خون) انہیں نماز سے نہیں روکتا۔ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 204]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے منقول ہے کہ حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کی بیوی اور حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کی بہن حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کو استحاضہ (بے قاعدہ خون) آتا تھا تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ پوچھا، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ (بے قاعدہ خون) حیض نہیں ہے بلکہ یہ تو ایک رگ (کا خون) ہے۔ جب تجھے حیض کا (باقاعدہ) خون آنا رک جائے تو نہا دھو کر نماز پڑھا کر اور جب حیض کا خون آنا شروع ہو جائے تو نماز چھوڑ دیا کر۔“ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ وہ ہر نماز کے لیے غسل کر کے نماز پڑھتی تھیں۔ کبھی کبھی وہ اپنی بہن حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا، جو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نکاح میں تھیں، کے حجرے میں ٹب میں غسل کرتیں تو (استحاضے کے) خون کی سرخی پانی کے رنگ پر غالب آ جاتی۔ وہ جاتیں (مسجد میں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھتیں۔ یہ (استحاضے کے خون کا آنا) انہیں نماز سے نہ روکتا تھا۔ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 204]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ، ولکن لا یوجد عند مسلم قولہ: ”وتخرج فتصلی۔۔۔‘‘ (تحفة الأشراف: 17922) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: ہر نماز کے لیے ان کا یہ غسل ازراہ احتیاط تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس کا حکم نہیں دیا تھا، اور جو یہ آیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس کا حکم دیا تھا تو اسے استحباب پر محمول کیا گیا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح م دون قوله وتخرج فتصلي ...
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 205
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، وَعَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ خَتَنَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَحْتَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ اسْتُحِيضَتْ سَبْعَ سِنِينَ، اسْتَفْتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذَلِكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ هَذِهِ لَيْسَتْ بِالْحَيْضَةِ، وَلَكِنْ هَذَا عِرْقٌ، فَاغْتَسِلِي وَصَلِّي".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سالی ام حبیبہ کو، جو عبدالرحمٰن بن عوف کے عقد میں تھیں، سات سال تک استحاضہ کا خون آتا رہا، اس سلسلے میں انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مسئلہ پوچھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ حیض کا خون نہیں ہے، بلکہ یہ ایک رگ (کا خون) ہے، لہٰذا تم غسل کر کے نماز پڑھ لیا کرو“۔ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 205]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سالی اور حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کی بیوی تھیں، وہ سات سال تک استحاضہ میں مبتلا رہیں۔ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی بابت پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ حیض کا خون نہیں، بلکہ یہ تو کسی رگ کا خون ہے۔ تم (حیض ختم ہونے پر) غسل کر لیا کرو اور نماز پڑھا کرو (خواہ استحاضہ جاری رہے۔)“ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 205]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 203، (تحفة الأشراف: 17922) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 206
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قالت: اسْتَفْتَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ بِنْتُ جَحْشٍ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أُسْتَحَاضُ، فَقَالَ:" إِنَّمَا ذَلِكَ عِرْقٌ، فَاغْتَسِلِي وَصَلِّي"، فَكَانَتْ تَغْتَسِلُ لِكُلِّ صَلَاةٍ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ام حبیبہ بنت جحش نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مسئلہ دریافت کیا، اور عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے استحاضہ کا خون آتا ہے (اس حالت میں کیا کروں؟) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ تو ایک رگ (کا خون) ہے، تم غسل کر کے نماز پڑھ لیا کرو، چنانچہ وہ ہر نماز کے لیے غسل کرتی تھیں“۔ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 206]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ام حبیبہ بنت جحش رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مسئلہ پوچھا اور کہا: ”اے اللہ کے رسول! مجھے (خون) استحاضہ آتا ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ تو ایک رگ (کا خون) ہے۔ تم (حیض کے اختتام پر) غسل کرو اور نماز پڑھو۔“ تو وہ ہر نماز کے لیے غسل کر لیا کرتی تھیں۔ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 206]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الحیض 14 (334)، سنن ابی داود/الطھارة 111 (290)، سنن الترمذی/فیہ 96 (129)، (تحفة الأشراف: 16583)، ویأتي عند المؤلف برقم: 352 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 207
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ سَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الدَّمِ، قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: رَأَيْتُ مِرْكَنَهَا مَلْآنَ دَمًا، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" امْكُثِي قَدْرَ مَا كَانَتْ تَحْبِسُكِ حَيْضَتُكِ، ثُمَّ اغْتَسِلِي".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ام المؤمنین ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے (استحاضہ کے) خون کے متعلق پوچھا؟ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے ان کا ٹب خون سے بھرا دیکھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”تمہارے حیض کا خون جتنے دن تمہیں (پہلے صوم صلاۃ سے) روکے رکھتا تھا، اسی قدر رکی رہو، پھر غسل کرو۔ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 207]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خون (استحاضہ) کے بارے میں سوال کیا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ میں نے ان کا ٹب خون سے بھرا ہوا دیکھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”تم اتنے عرصے تک (نماز وغیرہ سے) رکی رہو، جتنے عرصے تک تمھیں حیض آیا کرتا تھا، پھر غسل کرلو (خواہ خون استحاضہ جاری ہو۔)“ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 207]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الحیض 14 (334)، سنن ابی داود/الطھارة 108 (279)، (تحفة الأشراف: 16370)، مسند احمد 6/222، سنن الدارمی/الطہارة 84 (801)، ویأتي عند المؤلف في الحیض 3 برقم: 353 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 208
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ مَرَّةً أُخْرَى وَلَمْ يَذْكُرْ جَعْفَرًا.
امام نسائی کہتے ہیں: ہم سے قتیبہ نے دوسری مرتبہ بیان کیا، اور (اس بار) انہوں نے جعفر کا ذکر نہیں کیا۔ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 208]
امام نسائی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”ہمیں یہ حدیث قتیبہ نے ایک بار پھر بیان فرمائی تو (یزید بن ابی حبیب اور عراک بن مالک کے درمیان) جعفر بن ربیعہ کا ذکر نہیں کیا۔“ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 208]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 16370) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 209
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، تَعْنِي أَنَّ امْرَأَةً كَانَتْ تُهَرَاقُ الدَّمَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاسْتَفْتَتْ لَهَا أُمُّ سَلَمَةَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" لِتَنْظُرْ عَدَدَ اللَّيَالِي وَالْأَيَّامِ الَّتِي كَانَتْ تَحِيضُ مِنَ الشَّهْرِ قَبْلَ أَنْ يُصِيبَهَا الَّذِي أَصَابَهَا، فَلْتَتْرُكِ الصَّلَاةَ قَدْرَ ذَلِكَ مِنَ الشَّهْرِ، فَإِذَا خَلَّفَتْ ذَلِكَ فَلْتَغْتَسِلْ، ثُمَّ لِتَسْتَثْفِرْ، ثُمَّ لِتُصَلِّي".
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک عورت کو کثرت سے خون آتا تھا، تو ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے اس کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فتوی پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ مہینہ کے ان دنوں اور راتوں کو شمار کر لے جس میں اس بیماری سے جو اسے لاحق ہوئی ہے پہلے حیض آیا کرتا تھا، پھر ہر مہینہ اسی کے برابر نماز چھوڑ دے، اور جب یہ دن گزر جائیں تو غسل کرے، پھر لنگوٹ باندھے، پھر نماز پڑھے“۔ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 209]
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں ایک عورت کو کثرت سے (خون) استحاضہ آیا کرتا تھا، تو حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے اس کے لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مسئلہ پوچھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ ان دنوں کو یاد کرے جن میں اسے بیماری لگنے سے پہلے حیض آیا کرتا تھا، تو مہینے میں سے اتنے دن وہ نماز چھوڑے رکھے۔ جب وہ دن گزر جائیں تو وہ غسل کر لے، پھر لنگوٹ باندھ لے اور نماز پڑھنی شروع کر دے۔“ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 209]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الطھارة 108 (274، 275، 276، 277، 278)، سنن ابن ماجہ/فیہ 115 (623)، (تحفة الأشراف: 18158)، موطا امام مالک/الطہارة 29 (105)، مسند احمد 6/293، 320، 322، سنن الدارمی/الطہارة 84 (807)، ویاتي عند المؤلف في الحیض 3 برقم: 354، 355 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (274) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 322