سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
138. بَابُ: الْفَرْقِ بَيْنَ دَمِ الْحَيْضِ وَالاِسْتِحَاضَةِ
باب: حیض اور استحاضہ کے خون میں فرق کا بیان۔
حدیث نمبر: 216
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ مُحَمَّدٍ وَهُوَ ابْنُ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ بْنِ وَقَّاصٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ أَبِي حُبَيْشٍ، أَنَّهَا كَانَتْ تُسْتَحَاضُ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا كَانَ دَمُ الْحَيْضِ فَإِنَّهُ دَمٌ أَسْوَدُ يُعْرَفُ فَأَمْسِكِي عَنِ الصَّلَاةِ، فَإِذَا كَانَ الْآخَرُ فَتَوَضَّئِي فَإِنَّمَا هُوَ عِرْقٌ".
فاطمہ بنت ابوحبیش رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہیں استحاضہ آتا تھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”جب حیض کا خون ہو تو نماز سے رک جاؤ کیونکہ وہ سیاہ خون ہوتا ہے، پہچان لیا جاتا ہے، اور جب دوسرا ہو تو وضو کر لو، کیونکہ وہ ایک رگ (کا خون) ہے“۔ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 216]
حضرت فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا نے کہا کہ مجھے استحاضے کا خون آتا تھا تو مجھ سے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب حیض کا خون آ رہا ہو اور یہ سیاہی مائل خون ہوتا ہے جو پہچانا جاتا ہے، تو نماز سے رک جاؤ اور جب دوسرا خون (استحاضے کا) ہو تو وضو کر کے نماز پڑھا کرو یہ تو رگ (کا خون) ہے۔“ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 216]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الطھارة 110 (286)، (تحفة الأشراف: 16626)، ویأتي عند المؤلف بأرقام: 217، 362 (حسن صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (286) ابن شهاب الزهري مدلس وعنعن. والحديث السابق (201) يغني عنه. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 322
حدیث نمبر: 217
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ هَذَا مِنْ كِتَابِهِ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ مِنْ حِفْظِهِ، قال: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ أَبِي حُبَيْشٍ كَانَتْ تُسْتَحَاضُ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ دَمَ الْحَيْضِ دَمٌ أَسْوَدُ يُعْرَفُ فَإِذَا كَانَ ذَلِكَ فَأَمْسِكِي عَنِ الصَّلَاةِ، وَإِذَا كَانَ الْآخَرُ فَتَوَضَّئِي وَصَلِّي"، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: قَدْ رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ غَيْرُ وَاحِدٍ، لَمْ يَذْكُرْ أَحَدٌ مِنْهُمْ مَا ذَكَرَهُ ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، وَاللَّهُ تَعَالَى أَعْلَمُ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ فاطمہ بنت ابوحبیش رضی اللہ عنہا کو استحاضہ آتا تھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”حیض کا خون سیاہ ہوتا ہے اور پہچان لیا جاتا ہے، تو جب یہ خون ہو تو نماز سے رک جاؤ، اور جب دوسرا ہو تو وضو کر کے نماز پڑھو“۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں کہ اس حدیث کو کئی راویوں نے روایت کیا ہے، لیکن جو چیز ابن ابوعدی نے ذکر کی ہے اس کو کسی نے ذکر نہیں کیا، واللہ تعالیٰ اعلم، (یعنی «دم الحیض دم أسود» کا ذکر کسی اور نے اس سند سے نہیں کیا ہے)۔ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 217]
محمد بن مثنیٰ نے کہا، ہمیں یہ روایت (216) ابن ابی عدی نے اپنی کتاب سے بیان کی اور (مندرجہ ذیل) روایت (217) اپنے حفظ سے بیان کی۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا کو استحاضہ آتا تھا تو انہیں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حیض کا خون سیاہ ہوتا ہے جو پہچانا جاتا ہے۔ جب یہ خون آئے تو نماز سے رک جاؤ اور جب دوسرا خون ہو تو (ہر نماز کے لیے) وضو کرو اور نماز پڑھو۔“ امام ابو عبدالرحمٰن (نسائی) رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ: ”اس حدیث کو بہت سے راویوں نے بیان کیا ہے، لیکن کسی نے وہ الفاظ ذکر نہیں کیے جو ابن ابی عدی نے ذکر کیے ہیں۔ «وَاللّٰهُ تَعَالٰى أَعْلَمُ» ”اور اللہ تعالیٰ بہتر جاننے والا ہے۔““ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 217]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 16626)، وأعادہ برقم: 363 (حسن صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (286) ابن شهاب الزهري مدلس وعنعن. والحديث السابق (201) يغني عنه. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 322
حدیث نمبر: 218
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَرَبِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ وَهُوَ ابْنُ زَيْدٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قالت: اسْتُحِيضَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ أَبِي حُبَيْشٍ، فَسَأَلَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أُسْتَحَاضُ فَلَا أَطْهُرُ، أَفَأَدَعُ الصَّلَاةَ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّمَا ذَلِكَ عِرْقٌ وَلَيْسَتْ بِالْحَيْضَةِ، فَإِذَا أَقْبَلَتِ الْحَيْضَةُ فَدَعِي الصَّلَاةَ، وَإِذَا أَدْبَرَتْ فَاغْسِلِي عَنْكِ أَثَرَ الدَّمِ وَتَوَضَّئِي، فَإِنَّمَا ذَلِكَ عِرْقٌ وَلَيْسَتْ بِالْحَيْضَةِ"، قِيلَ لَهُ: فَالْغُسْلُ؟ قَالَ:" ذَلِكَ لَا يَشُكُّ فِيهِ أَحَدٌ". قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: لَا أَعْلَمُ أَحَدًا ذَكَرَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ وَتَوَضَّئِي غَيْرَ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ، وَقَدْ رَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ، عَنْ هِشَامٍ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ وَتَوَضَّئِي.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ فاطمہ بنت ابوحبیش رضی اللہ عنہا کو استحاضہ کا خون آیا، تو انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے استحاضہ کا خون آتا ہے، پاک نہیں رہ پاتی ہوں، کیا نماز چھوڑ دوں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ تو ایک رگ (کا خون) ہے، حیض نہیں ہے، جب حیض کا خون آئے تو نماز چھوڑ دو، اور جب ختم ہو جائے تو خون کا دھبہ دھو لو، اور وضو کر لو، کیونکہ یہ ایک رگ (کا خون) ہے حیض کا خون نہیں ہے“، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: غسل؟ (یعنی کیا غسل نہ کرے) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس میں کسی کو شک نہیں ہے“ (یعنی حیض سے پاک ہونے کے بعد تو غسل کرنا ضروری ہے ہی)۔ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 218]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا کو استحاضہ آتا تھا۔ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: ”اے اللہ کے رسول! میں استحاضے کے مرض میں مبتلا ہوں، میں کبھی پاک نہیں ہوتی تو کیا نماز چھوڑ دوں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ تو رگ (کا خون) ہے، حیض نہیں۔ جب حیض آنے لگے تو نماز چھوڑ دیا کرو اور جب وہ رک جائے تو خون کے اثرات دھو لو (غسل کرو) اور (نماز کے لیے) وضو کرو کیونکہ یہ رگ (کا خون) ہے، حیض نہیں۔“ راوی سے کہا گیا: (حیض کے اختتام پر) غسل ہوگا؟ تو انہوں نے کہا: ”اس میں تو کوئی شک ہی نہیں کر سکتا۔“ امام ابو عبدالرحمن نسائی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ”میں نہیں جانتا کہ حماد بن زید کے علاوہ کسی راوی نے اس حدیث میں «وَتَوَضَّئِي» ”وضو کرو۔“ کے الفاظ ذکر کیے ہوں، جبکہ اس حدیث کو ہشام بن عروہ سے بہت سے راویوں نے بیان کیا ہے مگر کسی نے یہ لفظ ذکر نہیں کیا۔“ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 218]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الحیض 14 (333)، سنن ابن ماجہ/الطھارة 115 (621)، (تحفة الأشراف: 16858)، ویأتی عند المؤلف برقم: 364 (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الأسناد
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 219
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قالت: قالت فَاطِمَةُ بِنْتُ أَبِي حُبَيْشٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَا أَطْهُرُ، أَفَأَدَعُ الصَّلَاةَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّمَا ذَلِكَ عِرْقٌ وَلَيْسَتْ بِالْحَيْضَةِ، فَإِذَا أَقْبَلَتِ الْحَيْضَةُ فَدَعِي الصَّلَاةَ، فَإِذَا ذَهَبَ قَدْرُهَا فَاغْسِلِي عَنْكِ الدَّمَ وَصَلِّي".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ فاطمہ بنت ابوحبیش رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں پاک نہیں رہ پاتی ہوں، کیا میں نماز چھوڑ دوں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ تو ایک رگ (کا خون) ہے، حیض کا خون نہیں ہے، جب حیض کا خون آئے تو نماز چھوڑ دو، پھر جب اس کے بقدر ایام گزر جائیں تو خون دھو لو، اور (غسل کر کے) نماز پڑھو“۔ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 219]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: ”اے اللہ کے رسول! میں کبھی خون سے پاک نہیں ہوتی تو کیا نماز چھوڑ ہی دوں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ تو رگ (کا خون) ہے، حیض (کا) نہیں ہے، لہٰذا جب حیض آنا شروع ہو تو نماز چھوڑ دو، پھر جب حیض کے دن گزر جائیں تو خون کے اثرات دھو لو، یعنی غسل کرو اور نماز شروع کر دو۔“ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 219]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الحیض 8 (306)، سنن ابی داود/فیہ 109 (283)، (تحفة الأشراف: 17149)، موطا امام مالک/الطہارة 29 (104)، سنن الدارمی/الطہارة 84 (801)، ویأتی عند المؤلف برقم: 366 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري
حدیث نمبر: 220
أَخْبَرَنَا أَبُو الْأَشْعَثِ، قال: حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، قال: سَمِعْتُ هِشَامَ بْنَ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ بِنْتَ أَبِي حُبَيْشٍ، قالت: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي لَا أَطْهُرُ، أَفَأَتْرُكُ الصَّلَاةَ؟ قَالَ:" لَا، إِنَّمَا هُوَ عِرْقٌ"، قَالَ خَالِدٌ فِيمَا قَرَأْتُ عَلَيْهِ:" وَلَيْسَتْ بِالْحَيْضَةِ، فَإِذَا أَقْبَلَتِ الْحَيْضَةُ فَدَعِي الصَّلَاةَ، وَإِذَا أَدْبَرَتْ فَاغْسِلِي عَنْكِ الدَّمَ وَصَلِّي".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ بنت ابوحبیش (فاطمہ بنت ابوحبیش) رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں پاک نہیں رہ پاتی ہوں، کیا نماز چھوڑ دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، یہ تو ایک رگ (کا خون) ہے“۔ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 220]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا نے کہا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں کبھی پاک نہیں ہوتی تو کیا بالکل نماز چھوڑ دوں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، یہ تو ایک رگ (کا خون) ہے، حیض نہیں ہے، لہٰذا جب حیض کا خون آنے لگے تو نماز چھوڑ دو اور جب ختم ہو جائے تو خون کے آثار دھو کر (غسل کر کے) نماز شروع کر دو۔“ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 220]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائی، (تحفة الأشراف: 16956)، ویأتی عند المؤلف برقم: 367 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه