سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
22. بَابُ: شُهُودِ الْحُيَّضِ الْعِيدَيْنِ وَدَعْوَةَ الْمُسْلِمِينَ
باب: عیدین اور مسلمانوں کی دعا میں حائضہ عورتوں کی حاضری کا بیان۔
حدیث نمبر: 390
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ، قال: أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ حَفْصَةَ، قالت: كَانَتْ أُمُّ عَطِيَّةَ لَا تَذْكُرُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا قَالَتْ: بِأَبِي، فَقُلْتُ: أَسَمِعْتِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: كَذَا وَكَذَا؟ قَالَتْ: نَعَمْ، بِأَبِي، قَالَ:" لِتَخْرُجْ الْعَوَاتِقُ وَذَوَاتُ الْخُدُورِ وَالْحُيَّضُ، فَيَشْهَدْنَ الْخَيْرَ وَدَعْوَةَ الْمُسْلِمِينَ، وَتَعْتَزِلِ الْحُيَّضُ الْمُصَلَّى".
حفصہ (حفصہ بنت سیرین) کہتی ہیں کہ ام عطیہ جب بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کرتیں تو کہتیں: میرے والد آپ پر قربان ہوں، تو میں نے پوچھا: کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسا ایسا فرماتے سنا ہے، انہوں نے کہا: ہاں، میرے والد آپ پر قربان ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”بالغ لڑکیاں، پردے والیاں، اور حائضہ عورتیں نکلیں، اور خطبہ اور مسلمانوں کی دعا میں شریک ہوں، البتہ حائضہ عورتیں نماز پڑھنے کی جگہ سے الگ رہیں“۔ [سنن نسائي/كتاب الحيض والاستحاضة/حدیث: 390]
حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا جب بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کرتیں تو ضرور کہتیں: ”میرا باپ آپ پر فدا ہو۔“ میں نے ان سے کہا: ”کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسے ایسے فرماتے سنا ہے؟“ وہ کہنے لگیں: ”ہاں، میرا باپ آپ پر فدا ہو۔“ آپ نے فرمایا: ”بالغ، پردہ نشین اور حیض والی عورتیں عید کے لیے نکلیں۔ وہ اس نیکی اور مسلمانوں کی دعا میں شریک ہوں، البتہ حیض والی عورتیں نماز کی جگہ سے الگ رہیں۔“ [سنن نسائي/كتاب الحيض والاستحاضة/حدیث: 390]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الحیض 23 (324)، والصلاة 2 (351)، والعیدین 15 (971)، 20 (980)، 21 (981)، والحج 81 (1652)، (تحفة الأشراف 18118)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/العیدین 1 (890)، سنن ابی داود/الصلاة 247 (1136)، سنن الترمذی/فیہ 271 (539)، سنن ابن ماجہ/إقامة 165 (1308)، مسند احمد 5/84، 85، ویأتي عند المؤلف في العیدین 2 (برقم 1559) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه