سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
23. بَابُ: الْمَرْأَةِ تَحِيضُ بَعْدَ الإِفَاضَةِ
باب: طواف افاضہ کے بعد عورت کے حائضہ ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 391
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ، قال: أَخْبَرَنِي مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا، قالت لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ صَفِيَّةَ بِنْتَ حُيَيٍّ قَدْ حَاضَتْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَعَلَّهَا تَحْبِسُنَا، أَلَمْ تَكُنْ طَافَتْ مَعَكُنَّ بِالْبَيْتِ؟" قَالَتْ: بَلَى، قَالَ:" فَاخْرُجْنَ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: ام المؤمنین صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا کو حیض آ گیا ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شاید وہ ہمیں روک لے گی، کیا اس نے تم لوگوں کے ساتھ طواف (افاضہ) نہیں کیا تھا؟“ انہوں نے عرض کیا: کیوں نہیں (ضرور کیا تھا)، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو پھر تو نکلو“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الحيض والاستحاضة/حدیث: 391]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے گزارش کی کہ حضرت صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا (ام المومنین) کو حیض آنے لگا ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہوسکتا ہے وہ ہمیں واپسی سے روک لے؟“ (پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا:) ”کیا اس نے تمہارے ساتھ بیت اللہ کا طواف نہیں کیا؟“ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ”کیوں نہیں، بلکہ کیا تھا۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر چلو نکلو۔“ [سنن نسائي/كتاب الحيض والاستحاضة/حدیث: 391]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الحیض 27 (328)، صحیح مسلم/الحج 67 (1211)، موطا امام مالک/فیہ 75 (226)، مسند احمد 6/38، 39، 82، 99، 122، 164، 175، 177، 193، 202، 207، 213، 223، 253 (تحفة الأشراف 17949) وقد أخرجہ: سنن ابی داود/فیہ 58 (2003)، سنن الترمذی/فیہ 99 (943)، سنن ابن ماجہ/فیہ 83 (3072)، (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی طواف زیارت جو فرض ہے ادا ہو چکا ہے اب صرف طواف وداع رہ گیا ہے جس کے لیے حائضہ کا ٹھہرنا ضروری نہیں، اور اگر طواف افاضہ نہ کیا ہو تو حیض سے فارغ ہونے تک مکہ میں انتظار کرے، اور طواف افاضہ کر کے ہی کے گھر واپس ہو، کیونکہ طواف افاضہ رکن حج ہے، فدیہ سے پورا نہیں ہو گا، اور موجودہ وقت میں فلائٹوں کی پریشانی کی وجہ سے انتظار ممکن نہ ہو تو صاف ستھرا ہو کر لنگوٹ باندھ کر اور عطر لگا کر حالت حیض ہی میں طواف افاضہ کر لے اور ایک فدیہ (دم) دیدے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه