سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
6. بَابُ: الاِغْتِسَالِ أَوَّلَ اللَّيْلِ
باب: رات کے ابتدائی حصے میں غسل کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 405
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَرَبِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ بُرْدٍ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ نُسَيٍّ، عَنْ غُضَيْفِ بْنِ الْحَارِثِ، قال: دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ، فَسَأَلْتُهَا، فَقُلْتُ: أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْتَسِلُ مِنْ أَوَّلِ اللَّيْلِ أَوْ مِنْ آخِرِهِ؟ قَالَتْ: كُلُّ ذَلِكَ كَانَ" رُبَّمَا اغْتَسَلَ مِنْ أَوَّلِهِ وَرُبَّمَا اغْتَسَلَ مِنْ آخِرِهِ". قُلْتُ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ فِي الْأَمْرِ سَعَةً.
غضیف بن حارث کہتے ہیں کہ میں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آیا، تو میں نے ان سے سوال کیا اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کے ابتدائی حصہ میں غسل کرتے تھے یا آخری حصے میں؟ تو انہوں نے کہا: دونوں طرح سے (کرتے تھے)، کبھی رات کے ابتدائی حصہ میں غسل کرتے، اور کبھی آخری حصہ میں، اس پر میں نے کہا: اس اللہ کی تعریف ہے جس نے شریعت مطہرہ والے معاملہ کے اندر گنجائش رکھی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الغسل والتيمم/حدیث: 405]
حضرت غضیف بن حارث رضی اللہ عنہ نے کہا: میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا اور ان سے پوچھا: ”کیا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم غسل جنابت رات کے شروع میں فرماتے تھے یا آخر میں؟“ انہوں نے فرمایا: ”آپ دونوں طرح کر لیتے تھے۔ کبھی شروع رات میں غسل فرما لیا کرتے تھے اور کبھی آخر رات میں۔“ میں نے کہا: «الْحَمْدُ لِلَّهِ» ”ہر قسم کی تعریف اللہ کی جس نے اس معاملے میں فراخی رکھی۔“ [سنن نسائي/كتاب الغسل والتيمم/حدیث: 405]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 223 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح