سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
7. بَابُ: الاِسْتِتَارِ عِنْدَ الاِغْتِسَالِ
باب: غسل کے وقت پردہ کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 406
أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ، قال: حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، قال: حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ يَعْلَى، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَجُلًا يَغْتَسِلُ بِالْبَرَازِ، فَصَعِدَ الْمِنْبَرَ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، وَقَالَ:" إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ حَلِيمٌ حَيِيٌّ سِتِّيرٌ يُحِبُّ الْحَيَاءَ وَالسَّتْرَ، فَإِذَا اغْتَسَلَ أَحَدُكُمْ فَلْيَسْتَتِرْ".
یعلیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو کھلی جگہ غسل کرتے دیکھا تو منبر پر چڑھے، اور اللہ کی حمد و ثنا بیان کی اور فرمایا: ”بیشک اللہ تعالیٰ «حلیم» ”بردبار“، «حیی» ”باحیاء“ اور «ستر» ”پردہ پوشی پسند فرمانے والا“ ہے، حیاء اور پردہ پوشی کو پسند کرتا ہے، تو جب تم میں سے کوئی غسل کرے تو پردہ کر لے“۔ [سنن نسائي/كتاب الغسل والتيمم/حدیث: 406]
حضرت یعلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو کھلی جگہ میں غسل کرتے دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تشریف فرما ہوئے، پھر اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کی اور فرمایا: ”اللہ عز وجل «حَلِيمٌ حَيِيٌّ سِتِّيرٌ» ”بہت بردبار، حیادار اور پردے والا ہے“، وہ حیا اور پردے کو پسند فرماتا ہے، لہٰذا جب تم میں سے کوئی غسل کرے تو پردے میں کرے۔“ [سنن نسائي/كتاب الغسل والتيمم/حدیث: 406]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الحمام 2 (4012)، (تحفة الأشراف 11845)، مسند احمد 4/224 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 407
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، قال: حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى، عَنْ أَبِيهِ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ سِتِّيرٌ، فَإِذَا أَرَادَ أَحَدُكُمْ أَنْ يَغْتَسِلَ فَلْيَتَوَارَ بِشَيْءٍ".
یعلیٰ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک اللہ عزوجل «ستر» ”پردہ پوشی کرنے والا“ ہے، تو جب تم میں سے کوئی غسل کرنا چاہے تو کسی چیز سے پردہ کر لے“۔ [سنن نسائي/كتاب الغسل والتيمم/حدیث: 407]
حضرت یعلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یقیناً اللہ تعالیٰ بہت پردے والا ہے۔ جب تم میں سے کوئی غسل کرنے کا ارادہ کرے تو کسی چیز کی اوٹ میں چھپ جائے۔“ [سنن نسائي/كتاب الغسل والتيمم/حدیث: 407]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الحمام4(4013)، (تحفة الأشراف 11840)، مسند احمد 4/223 (حسن صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 408
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ مَيْمُونَةَ، قالت:" وَضَعْتُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَاءً، قَالَتْ: فَسَتَرْتُهُ فَذَكَرَتِ الْغُسْلَ، قَالَتْ: ثُمَّ أَتَيْتُهُ بِخِرْقَةٍ فَلَمْ يُرِدْهَا".
ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے پانی رکھا، پھر میں نے آپ کے لیے پردہ کیا، پھر آپ نے غسل کا ذکر کیا، پھر میں آپ کے پاس ایک کپڑا لے کر آئی تو آپ نے اسے نہیں (لینا) چاہا۔ [سنن نسائي/كتاب الغسل والتيمم/حدیث: 408]
حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا (ام المومنین) فرماتی ہیں: ”میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے (غسل کے) لیے پانی رکھا، پھر میں نے آپ کو پردہ کیا۔ چنانچہ آپ نے غسل فرمایا، پھر میں آپ کے پاس (جسم کی صفائی کے لیے) ایک کپڑا لائی، آپ نے اس کی ضرورت محسوس نہ کی۔“ [سنن نسائي/كتاب الغسل والتيمم/حدیث: 408]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 254 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 409
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قال: حَدَّثَنِي أَبِي، قال: حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" بَيْنَمَا أَيُّوبُ عَلَيْهِ السَّلَام يَغْتَسِلُ عُرْيَانًا خَرَّ عَلَيْهِ جَرَادٌ مِنْ ذَهَبٍ فَجَعَلَ يَحْثِي فِي ثَوْبِهِ، قَالَ: فَنَادَاهُ رَبُّهُ عَزَّ وَجَلَّ: يَا أَيُّوبُ، أَلَمْ أَكُنْ أَغْنَيْتُكَ، قَالَ: بَلَى يَا رَبِّ، وَلَكِنْ لَا غِنَى بِي عَنْ بَرَكَاتِكَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایوب علیہ السلام ننگے غسل کر رہے تھے ۱؎ کہ اسی دوران ان کے اوپر سونے کی ٹڈی گری، تو وہ اسے اپنے کپڑے میں سمیٹنے لگے، تو اللہ عزوجل نے انہیں آواز دی: ایوب! کیا میں نے تمہیں بے نیاز نہیں کیا ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں، کیوں نہیں میرے رب! لیکن تیری برکتوں سے میں بے نیاز نہیں ہو سکتا“۔ [سنن نسائي/كتاب الغسل والتيمم/حدیث: 409]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک دفعہ حضرت ایوب علیہ السلام برہنہ غسل کر رہے تھے کہ ان پر سونے کی ٹڈیاں گرنے لگیں، وہ ان کو اپنے کپڑے میں ڈالنے لگے تو ان کو ان کے رب تعالیٰ نے پکارا: اے ایوب! کیا میں نے تجھے غنی نہیں بنایا؟ انہوں نے عرض کی: کیوں نہیں میرے پروردگار! لیکن میں تیری برکتوں سے بے نیازی نہیں برت سکتا۔“ [سنن نسائي/كتاب الغسل والتيمم/حدیث: 409]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الغسل 20(279) تعلیقاً، والأنبیاء 20(3391)، والتوحید 35 (7493)، (تحفة الأشراف 14224)، مسند احمد 2/314 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یہ غسل انہوں نے ایسی جگہ پر کیا ہو گا جہاں وہ لوگوں کی نگاہوں سے مامون و محفوظ رہے ہوں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح