صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
23. بَابُ الصَّدَقَةُ تُكَفِّرُ الْخَطِيئَةَ:
باب: صدقہ خیرات سے گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔
حدیث نمبر: 1435
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , قَالَ: قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ:" أَيُّكُمْ يَحْفَظُ حَدِيثَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْفِتْنَةِ، قَالَ: قُلْتُ أَنَا أَحْفَظُهُ , كَمَا قَالَ، قَالَ: إِنَّكَ عَلَيْهِ لَجَرِيءٌ، فَكَيْفَ قَالَ؟ , قُلْتُ: فِتْنَةُ الرَّجُلِ فِي أَهْلِهِ وَوَلَدِهِ وَجَارِهِ تُكَفِّرُهَا الصَّلَاةُ , وَالصَّدَقَةُ , وَالْمَعْرُوفُ، قَالَ سُلَيْمَانُ: قَدْ كَانَ يَقُولُ: الصَّلَاةُ , وَالصَّدَقَةُ , وَالْأَمْرُ بِالْمَعْرُوفِ , وَالنَّهْيُ عَنِ الْمُنْكَرِ، قَالَ: لَيْسَ هَذِهِ أُرِيدُ، وَلَكِنِّي أُرِيدُ الَّتِي تَمُوجُ كَمَوْجِ الْبَحْرِ، قَالَ: قُلْتُ لَيْسَ عَلَيْكَ بِهَا يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ بَأْسٌ بَيْنَكَ وَبَيْنَهَا بَابٌ مُغْلَقٌ، قَالَ: فَيُكْسَرُ الْبَابُ أَوْ يُفْتَحُ، قَالَ: قُلْتُ لَا بَلْ يُكْسَرُ، قَالَ: فَإِنَّهُ إِذَا كُسِرَ لَمْ يُغْلَقْ أَبَدًا، قَالَ: قُلْتُ أَجَلْ، فَهِبْنَا أَنْ نَسْأَلَهُ مَنِ الْبَابُ , فَقُلْنَا لِمَسْرُوقٍ سَلْهُ، قَالَ: فَسَأَلَهُ، فَقَالَعُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: قَالَ: قُلْنَا فَعَلِمَ عُمَرُ مَنْ تَعْنِي، قَالَ: نَعَمْ، كَمَا أَنَّ دُونَ غَدٍ لَيْلَةً، وَذَلِكَ أَنِّي حَدَّثْتُهُ حَدِيثًا لَيْسَ بِالْأَغَالِيطِ".
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے جریر نے اعمش سے بیان کیا ‘ ان سے ابووائل نے ‘ انہوں نے حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ فتنہ سے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث آپ لوگوں میں کس کو یاد ہے؟ حذیفہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے کہا میں اس طرح یاد رکھتا ہوں جس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو بیان فرمایا تھا۔ اس پر عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ تمہیں اس کے بیان پر جرات ہے۔ اچھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فتنوں کے بارے میں کیا فرمایا تھا؟ میں نے کہا کہ (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا) انسان کی آزمائش (فتنہ) اس کے خاندان ‘ اولاد اور پڑوسیوں میں ہوتی ہے اور نماز ‘ صدقہ اور اچھی باتوں کے لیے لوگوں کو حکم کرنا اور بری باتوں سے منع کرنا اس فتنے کا کفارہ بن جاتی ہیں۔ اعمش نے کہا ابووائل کبھی یوں کہتے تھے۔ نماز اور صدقہ اور اچھی باتوں کا حکم دینا بری بات سے روکنا ‘ یہ اس فتنے کو مٹا دینے والے نیک کام ہیں۔ پھر اس فتنے کے متعلق عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میری مراد اس فتنہ سے نہیں۔ میں اس فتنے کے بارے میں پوچھنا چاہتا ہوں جو سمندر کی طرح ٹھاٹھیں مارتا ہوا پھیلے گا۔ حذیفہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ‘ میں نے کہا کہ امیرالمؤمنین آپ اس فتنے کی فکر نہ کیجئے آپ کے اور اس فتنہ کے درمیان ایک بند دروازہ ہے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ وہ دروازہ توڑ دیا جائے گا یا صرف کھولا جائے گا۔ انہوں نے بتلایا نہیں بلکہ وہ دروازہ توڑ دیا جائے گا۔ اس پر عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جب دروازہ توڑ دیا جائے گا تو پھر کبھی بھی بند نہ ہو سکے گا ابووائل نے کہا کہ ہاں پھر ہم رعب کی وجہ سے حذیفہ رضی اللہ عنہ سے یہ نہ پوچھ سکے کہ وہ دروازہ کون ہے؟ اس لیے ہم نے مسروق سے کہا کہ تم پوچھو۔ انہوں نے کہا کہ مسروق رحمتہ اللہ علیہ نے پوچھا تو حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ دروازہ سے مراد خود عمر رضی اللہ عنہ ہی تھے۔ ہم نے پھر پوچھا تو کیا عمر رضی اللہ عنہ جانتے تھے کہ آپ کی مراد کون تھی؟ انہوں نے کہا ہاں جیسے دن کے بعد رات کے آنے کو جانتے ہیں اور یہ اس لیے کہ میں نے جو حدیث بیان کی وہ غلط نہیں تھی۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الزَّكَاة/حدیث: 1435]
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایک دفعہ فرمایا: تم میں سے کون ہے جسے فتنے کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی حدیث یاد ہو؟ میں نے کہا: جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا مجھے اسی طرح یاد ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہاں! تمہاری جرأت اس بارے میں قابل داد ہے، بتاؤ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیسے فرمایا تھا؟ میں نے کہا: ”آدمی کا فتنہ اپنے اہل وعیال، اولاد اور ہمسائے کے متعلق ہوتا ہے، نماز، صدقہ اور بھلی بات، نیز اچھا کام اس کے لیے کفارہ ہے۔“ راویِ حدیث سلیمان نے کہا: وہ یوں فرمایا کرتے تھے کہ ”نماز، صدقہ، اچھے کاموں کا حکم دینا اور برے کاموں سے روکنا یہ سب اس کا کفارہ بن جائیں گے۔“ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میرا سوال اس کے متعلق نہیں، بلکہ میں تو اس فتنے کے متعلق پوچھنا چاہتا ہوں جو سمندروں کی لہروں کی طرح موجزن ہوگا۔ میں نے کہا: اے امیر المؤمنین! آپ اس کے متعلق کوئی فکر نہ کریں، کیونکہ آپ کے اور اس کے درمیان ایک بند شدہ دروازہ ہے، آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: وہ دروازہ توڑا جائے گا یا کھولا جائے گا؟ میں نے عرض کیا: نہیں! بلکہ وہ دروازہ توڑا جائے گا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جب وہ توڑا گیا تو پھر کبھی بند نہیں ہوگا۔ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ہاں! معاملہ کچھ ایسا ہی ہے۔ راویِ حدیث کہتے ہیں کہ ہم دروازے کے متعلق سوال کرنے سے ڈرے، اس لیے ہم نے مسروق رحمہ اللہ سے کہا کہ تم حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے اس دروازے کے متعلق دریافت کرو، چنانچہ مسروق رحمہ اللہ نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا: وہ دروازہ خود عمر فاروق رضی اللہ عنہ ہیں، ہم نے عرض کیا: کیا عمر فاروق جانتے تھے کہ آپ کی مراد کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا: ہاں! جیسے آنے والے کل سے پہلے رات کا ہونا یقینی ہے، یہ اس لیے کہ میں نے حضرت فاروق رضی اللہ عنہ کو ایک ایسی حدیث بیان کی ہے جو پہیلی یا چیستان نہیں ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الزَّكَاة/حدیث: 1435]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة